میری کالم نگاری کا مدعا

میری کالم نگاری کا مدعا
 میری کالم نگاری کا مدعا

  

میں نے کئی بار اپنے آپ سے سوال کیا ہے کہ میری کالم نویسی کا مدعا کیا ہے؟۔۔۔ کیا یہ چند روپے ماہانہ کمانے کی ایکسرسائز ہے؟۔۔۔ کیا دل کی بات زبان تک لانے کا نام ہے؟۔۔۔ کیا اپنی کسی سوچ کو برسرِ عام لانے کا ایجنڈا ہے؟

۔۔۔ کیا کسی قاری کو انفارم اور ایجوکیٹ کرنا ہے؟۔۔۔ کیا گزرے ہوئے چند ذاتی واقعات و حوادث کی باز آفرینی ہے؟۔۔۔ کیا اپنی سوانحِ حیات کو کالم نگاری کے پردے میں مرتب کرنا ہے؟۔۔۔ کیا ماضی میں اکتساب کردہ کسی مہارت یا علم و فن کی ترویج و اشاعت ہے؟۔۔۔ کیا داخلی حالاتِ حاضرہ یا بین الاقوامی موضوعات پر اپنا نقطہ ء نظر واضح کرنا ہے؟

۔۔۔ کیا اپنی کسی خصوصی علمیت اور قابلیت کا رعب جھاڑنا ہے؟۔۔۔ کیا دوسروں کو اپنی شخصیت کی کسی خوبی سے متاثر کرنا ہے؟۔۔۔ کیا اس 8x6 انچ سائز کے کالم میں کسی سماجی مسئلے کے حل پر بحث و مباحثہ کا دروازہ کھولنا ہے؟۔۔۔ کیا کسی قومی اہمیت کے موضوع پر آگہی دینے کا مشن ہے؟۔۔۔ آخر میری اس کاوشِ کالم آرائی کا مقصود کیا ہے؟

تو قارئین محترم! میں بصد ادب آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ متذکرہ بالا مقاصد میں میرا خصوصی مقصد صرف اور صرف یہی ہے کہ پاکستان کے سوادِ اعظم کو اس موضوع پر اپنے خیالات سے مطلع کروں جس پر اردو زبان میں بہت کم بلکہ بہت ہی کم لکھا اور کہا سنا گیا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کسی بھی قوم کو سب سے پہلے اپنی اقتصادی حالت کی فکر کرنی چاہیے اور جب یہ حالت کسی قدر سدھرنے لگے تو عام شہری کو اس قابل ہونا چاہیے کہ وہ اپنی تخلیق کی غائت سے باخبر ہو سکے۔ اس کو معلوم ہو کہ خدا نے اسے صرف کھانے پینے اور سونے جاگنے کے لئے تخلیق نہیں کیا کہ یہ کام تو حیوانوں کا ہے، انسانوں کا نہیں۔

شرفِ انسانیت یہ ہے کہ وہ دماغ اور دل سے کام لے۔ خدا نے اسے سپیشل نسل (Genre) کا دل اور دماغ عطا کیا ہے، اس کو ضائع نہ کرے۔ اسے روبکار لانے کے لئے تعلیم اور صحت کی ضرورت،شرط اول ہے۔ چنانچہ جب کسی قوم کو اقتصادی فراغت میسر آ جائے تو اس کا اگلا مشن تعلیم و تعلّم اور صحت و تندرستی کو عام کرنا ہے۔

اور جب یہ عام ہو جائے تو ایک ایسی قوم وجود میں آتی ہے جس کو باقی اقوامِ عالم سے مسابقت اور مقابلے کا سامنا ہوتا ہے۔ یہ مقابلہ معمولی تنازعے سے شروع ہو کر عظیم جنگوں کا روپ دھارتا ہے۔

نسلِ انسان کی تمام تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ وہ دوسرے انسان پر سبقت حاصل کرنے کے ’’عذاب‘‘میں پھنسا ہوا ہے۔

لیکن اس امر میں بھی کوئی شک نہیں کہ جب تک اس مقابلے کو ’’عذاب‘‘ نہیں سمجھا جائے گا اس مرض کا کماحقہ اور شافی علاج ممکن نہیں۔

اس تصویر کو ذرا زیادہ وسیع کینوس پر دکھانے کی کوشش کی جائے تو انسانی بقاء کا راز اسی کشمکش، کشیدگی، محاذ آرائی اور جنگ و جدال میں مضمر ہے۔ یہ ایک سادہ سا فلسفہ ہے جس کو گردشِ ایام نے پیچیدہ بنا دیا ہے اور اب یہ پیچیدگی اس منزل پر آ پہنچی ہے کہ بقائے باہمی اور فنائے باہمی کے عفریت ایک دوسرے سے دو قدم دور رہ گئے ہیں۔ وہی قوم اس میدانِ کارزار میں زندہ رہنے کا حق رکھتی ہے جو اپنی زندگی کی بقاء کی ضمانت دے سکے۔ چنانچہ اقتصادی اور سماجی نشوونما کے بعد تیسری اہم منزل اپنی بقاء کی ضمانت حاصل کرنا ہے جس کو ’’قومی دفاع‘‘ کا جدید نام دیا جاتا ہے۔

ہم پاکستانیوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ جب تک ہم حدیثِ دفاع سے غافل رہیں گے، حدیثِ بقاء کا سامان نہیں کر سکیں گے۔۔۔ یعنی قوموں کی بقاء ان کے دفاع کے ساتھ مشروط ہے!

وہ دن گزر گئے جب قوموں کا دفاع ایک خاص تنظیم کے ساتھ وابستہ سمجھا جاتا تھا جسے فوج یا ملٹری کا نام دیا جاتا تھا۔ اب تو اس تنظیم کا دائرہ پھیل کر پوری قوم پر محیط بلکہ مسلط ہو چکا ہے۔

اب فوجیوں کی یونیفارم، دفاعی سائنس دانوں کی سفید قمیضیں اور عوام کے رنگارنگ ملبوسات ایک عالمگیر اور اجتماعی لباس میں ڈھل چکے ہیں جس کا علم حاصل کرنا سب پر فرض ہے۔

اگر جنگ کا شور، میدانِ جنگ سے آپ کے ڈرائنگ روم یا صحن میں آ چکاہے تو پھر کیا فوجی اور کیا سویلین ہر مرد و زن فوج کا سپاہی ہے۔ میرے نزدیک عوام اور فوج ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں!

اب ذرا آگے چلتے ہیں۔۔۔ کیا پاکستانی عوام نے اپنے ان فوجی فرائض کو سمجھا ہے جو موجودہ دور نے ان پر جبراً ہی سہی مسلط کر دیئے ہیں؟ میرا خیال ہے ایسا نہیں ہے۔۔۔ ہماری پبلک کو تو پتہ ہی نہیں کہ فوج کیا ہے، اس کے فرائض کیا ہیں، اس کے ہتھیار کیا ہیں، اس کا دشمن کون ہے، کہاں ہے اور کیا وہ اس سے زیادہ طاقتور ہے یا اس سے کمزور ہے، اگر کمزور ہے تو اس کی وجوہات کیا ہیں؟ کیا پبلک اس کمزوری کو آغوش میں لئے زیادہ دیر تک زندہ رہ سکتی ہے؟

۔۔۔ سخت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان بنیادی باتوں کو نہ کسی نے نجی سطح پر سمجھا ہے اور نہ ہی کسی حکومت نے اپنی سطح پر پبلک کو سمجھانے کا کوئی پروگرام وضع کیا ہے۔ میرے خیال میں قوم یا پبلک کا اس میں کوئی زیادہ قصور نہیں۔ پاکستان کے ہر صاحبِ اختیار نے اپنی قوم کے شاندار عسکری ماضی کو اس کی نگاہوں سے اوجھل رکھا ہے۔

صرف خالی خولی لفاظی کا نام عسکری آگاہی نہیں۔ عسکری آگاہی ایک مشکل فریضہ ہے اور جوں جوں زمانہ گزر رہا ہے یہ آگاہی زیادہ ٹیکنیکل اور زیادہ پیچیدہ ہوتی جاتی ہے۔ اس عدم آگاہی کا ایک بڑا سبب وہ زبان اور وہ لغت بھی ہے جس کو سیکھے بغیر اس فیلڈ کی آگہی ناممکن ہے۔

پاکستان کی ایک محرومی یہ بھی ہے کہ اس نے گزشتہ 70برسوں میں کوئی طویل یا عظیم جنگ نہیں لڑی۔ گزشتہ صدی یا اس سے گزشتہ صدی (19ویں صدی) میں افرنگی اقوام نے جو جنگیں لڑیں ان کی کماحقہ تاریخی یا پروفیشنل آگہی ہم میں سے کسی کو بھی نہیں۔ فوجیوں کو اگر ہے بھی تو وہ ان کی پروفیشنل مجبوری ہے۔

ہمارا سویلین معاشرہ جس سکیل پر شعر و شاعری، ادب، بین الاقوامی حالات، سیاسیات، مذہب، سماجیات اور دنیا بھر کے دوسرے غیر عسکری علوم و فنون وغیرہ سے آشنا ہے اسی سکیل پر حدیثِ دفاع سے ناآشنا ہے۔ اگر کسی کسان کے پاس ہل ہی نہ ہو، بیلوں کی جوڑی نہ ہو، کنویں کا پانی نہ ہو، کھرپہ ،درانتی، کسّی، بیلچہ اور گینتی ہی نہ ہو تو وہ کیا بوئے گا اور کیا کاٹے گا؟

۔۔۔ اور آج تو ماضی کے ان سارے پرانے کاشت کاری اوزاروں کو جدید مشینی اوزاروں کا روپ دے دیا گیا ہے۔ لیکن پاکستان کا کسان نہ پرانے کاشت کاری اوزاروں سے شناسا ہے اور نہ ہی مشینی کاشت کاری آلات سے کچھ آگاہ ہے۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ پوری قوم کی عسکری کھیتی بنجر پڑی ہے۔

صرف وہ چند کسان پوری قوم کا پیٹ پال رہے ہیں جن کے پاس ان کی اپنی یا مانگے تانگے کی جدید زرعی مشینری ہے لیکن ان کی تعداد ناکافی ہے۔قوم کی 20کروڑ آبادی میں 20لاکھ سولجرز بھی نہ ہوں تو ایسے میں دفاعِ وطن کا مشکل فریضہ کون ادا کرے گا؟

میری کالم نگاری کی اس حقیر سی کاوش کا اصل مدعا وہ مشن ہے جو میں اس زبان میں قلم گھیٹ کر ادا کر رہا ہوں جس کو قوم کی اکثریت کچھ کچھ سمجھتی یا سمجھ سکتی ہے۔ دفاع اور قومی بقا آپس میں گویا وہ اٹوٹ انگ ہیں جن کی طرف گزشتہ سطور میں اشارہ کر دیا گیا ہے۔۔۔ آج امریکہ ہمیں دھمکیاں دے رہا ہے، بھارت اس کے ساتھ ہے اور افغانستان بھی اسی پتنگ کا دم چھلا بنا ہوا ہے۔

ٹرمپ کی چار سطری ٹویٹ نے پاکستان کے چاروں کھونٹ ایک عجیب سی سنسنی پھیلا دی ہے۔ سارا میڈیا اسی طرف مرکوز ہے۔ بھانت بھانت کی بولیاں بولی جا رہی ہیں۔ لیکن کہیں سے بھی ایسی آوازیں نہیں اٹھ رہیں جو پاکستانی پبلک کو بتائیں کہ وہ کہاں کھڑی ہے، اسے گھبرانے کی ضرورت ہے یا نہیں ہے۔اگر نہیں ہے تو کیوں نہیں ہے اور اگر ہے تو اس کی وجوہات کیا ہیں۔

ان موضوعات و مسائل پر نقد و نظر کرنے کے لئے وہ زبان و بیان ہی تخلیق نہیں کیا گیا جو مستقبل کے جنگی سنریو کی تعبیر و تفسیر کر سکے اور جب تک ایسا نہیں ہوگا یہ مرحلہ کیسے سر کیا جا سکے گا؟

ہمارا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا عسکری موضوعات پر تبصرہ کرتے ہوئے وہ اصطلاحات اور وہ مرکبات (Phrases) وغیرہ استعمال نہیں کرتا جو آنے والے جنگی مناظر کی عکاسی کر سکیں، جو ان تفصیلات کی خبر دے سکیں جو دنیاکے جدید اسلحہ خانے میں عام نظر آتے ہیں، جو ان تکنیکی پہلوؤں کا تجزیہ کر سکیں جن سے ہمیں کل کلاں پالا پڑنے والا ہے، جو ان پروفیشنل مقدورات و محدودات پر بحث و مباحثہ کر سکیں جو ہمارے دشمنوں اور ہمارے اپنوں کے پاس ہیں اور جو پاکستانی عوام کے ان سوالوں کا جواب دے سکیں جو آج ان کے ہونٹوں پر آرہے ہیں۔۔۔ ہم سارا وقت داخلی سیاسی حالات و واقعات کی مین میخ نکالنے پر ضائع کر دیتے ہیں۔ یہ نہیں جانتے کہ چار روز پہلے ہماری قومی سلامتی کمیٹی نے اپنے اجلاسوں میں جو یہ فیصلہ کیا ہے کہ ٹرمپ وغیرہ کی ان دھمکیوں پر کوئی عاجلانہ ردعمل ظاہر نہ کیا جائے اور صبر و تحمل سے کام لیا جائے تو وہ کتنا صائب اور کتنا بروقت فیصلہ ہے۔ کوئی اور ملک ہوتا تو اس کمیٹی اور کور کمانڈر کانفرنس کے فیصلوں پر دن رات متوازن نقد نظر اور رائے زنی کرکے عوام کی ڈھارس بندھاتا کہ خواہ مخوا خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ پینک (Panic) اور کنفیوژن (Confusion) کے سیلاب کے آگے بند باندھنے کا ایک طریقہ یہ بھی تو تھا کہ ہم اس ٹویٹ کے آنے سے پہلے اس کا سراغ پاتے اور اس سے نمٹنے کی سبیلیں سوچتے۔ میری کالم نگاری کامدعا اصل یہی ہے کہ پاکستانی قوم کو ان موضوعات پر بھی اسی زبان میں آگہی دی جائے جو پاکستان کی قومی زبان ہے۔

مزید : رائے /کالم