بھارت کو تنازعہ کشمیر سے متعلق حقائق تسلیم کرنے پڑیں گے‘ کشمیری قیادت

بھارت کو تنازعہ کشمیر سے متعلق حقائق تسلیم کرنے پڑیں گے‘ کشمیری قیادت

سری نگر(کے پی آئی)پیپلز پولیٹکل فرنٹ ، ڈیموکریٹک پولٹیکل مومنٹ ، تحریک مزاحمت، فریڈم پارٹی ، تحریک استقلال ، سالویشن مومنٹ نے سانحہ سوپور کے قتل عام کی25ویں برسی پر مارے گئے60سے زائد شہریوں کو خراج عقیدت ادا کیا ہے۔ پیپلز پولیٹکل فرنٹ چیئرمین محمد مصدق عادل نے غیور اہل سوپور کو انکی تحریکی خدمات اور قربانیوں کے لئے خراج تحسین پیش کیا جو انہوں نے باقی مظلوم اہل کشمیر کے ساتھ کندھے سے کندھا ملاکراب تک ان پر آزما برسوں کے دوراں دی ہیں۔ انہوں نے 6 جنوری1993 میں سوپور میں پیش آئے سانحہ کی دل دہلانے والے سانحہ کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس قتل عام میں بچنے والوں کے کانوں میں یقینی طور اب بھی وہ سرکاری فورسز کی للکاروں آگ لگادو ہر طرف آگ لگادو اور جو ملے اسے گولی ماردو کی گونج سنائی دے رہی ہونگی۔ انہوں نے کہا بھارت کی جمہوریت کی دعویداری کو لیکر ستم طریفی یہ ہے کہ اس ساتحہ کے پیش آنے کے وقت سے اب تک نہ اس سانحہ میں جان ومال گنوانے والوں کو انصاف ملا ہے اور نہ ہی اس سانحہ کو انجام دینے والوں اور اس میں براہ راست ملوث سرکاری فورسز اہلکاروں کو کوئی سزاملی ہے۔ انہوں نے کہا تاریخ قوم کو اس سانحہ عظیم کے ساتھ ساتھ کشمیر میں پیش آئیے اس طرح کے دوسرے سانحوں کو ہمیشہ یاد دلائے گی اور اسطرح ان سانحوں میں ہوئے شہداکی یادوں کو زندہ رکھے گی جو بھارت کی بربریت کے شکار ہوئیے ہیں۔ادھر ڈیموکرٹیک پو لیٹکل مو منٹ کے چیئرمین فر دوس احمد شاہ نے کہا کہ کشمیر یوں نے بھا رت کے ظلم و جبر کے سا تھ سا تھ جموں و کشمیر کے لوگوں کی آ زادی کے لئے بیش بہا قر بیانوں کی بھی یا د د لا تے ہیں ۔

اور آج ہم ایک با ر پھر اپنے عہد کا اعا دہ کر تے ہیں کہ ان قر با نیوں کو کسی بھی صو رت میں ر ائیگا ن نہیں جا نے دینگے۔تحریک مزاحمت کے محبوس چیئرمین بلال احمد صدیقی نے کہا کہ ان روح فرسا سانحات کو بار بار یاد کرنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کیونکہ نئی دہلی اور یہاں ان کے حلیفوں کی یہ زبردست کوشش رہی ہے کہ کشمیری عوام کی اجتماعی یاداشت سے ان بے پناہ اور دل دہلانے والے واقعات کو محو کیا جائے۔ بلال صدیقی نے کہا کہ کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود بھی اب تک ایک بھی مجرم کو کیفرکردار تک نہیں پہنچایا گیا ۔ ڈیمو کریٹک فریڈم پارٹی نے زندہ دلانِ سوپور کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہر ظلم و جبر کا مقابلہ کرتے ہوئے ہمیشہ تحریک آزادی کی الم کو بلند رکھا ہے۔بیان میں کہاگیاکہ ایسی قتل و غارت گری کے بعد بھی جملہ کشمیری عوام نے تحریک مزاحمت کی مشعل کو روشن رکھا ہے اور بھارت ان کے جذبہ آزادی کو ختم نہیں کر سکا ہے۔ اہل سوپور کے ساتھ ساتھ سبھی آزادی پسند عوام اس بات پر یک رائے ہیں کہ ریاستی عوام کو ابھی اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ باقی ہے اور آج نہیں تو کل بھارت کو تنازعہ کشمیر سے متعلق حقائق تسلیم کرنے پڑیں گے۔بیان میں کہاگیاکہ سوپور جیسے خون میں نہلانے والے واقعات کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ عوام کے جذبہ آزادی کو ختم کیا جاسکے تاہم اب تک کے حقائق سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ نہ صرف اہل سوپور بلکہ پوری کشمیری قوم کے دلوں میں آزادی کا جذبہ پہلے سے زیادہ مو4135زن ہے اور یہ حصول آزادی تک موجود رہے گا۔افسوس کی بات ہے کہ آج بھی سوپور قتل عام اورآتش زنی میں ملوث اہلکار آزاد گھوم رہے ہیں حد تو یہ ہے کہ اس کیس کی فائل کو منصوبہ بند طریقے سے شواہدکی عدم موجودگی کی آڑ میں بند کردیا گیا ہے۔اس دوران پیپلز فریڈم لیگ کے ترجمان نے سوپور کے قتل عام کے شہیدوں کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ان شہیدوں کی قربانیاں انشا اللہ رائیگاں نہیں جائے گی ۔ تحریک استقلال کے چیئر مین غلام نبی وسیم نے کہا کہ زندہ قو میں اپنے شہداکو فراموش نہیں کرتی ہیں اور وہ اس مشن کو پورا ہونے تک اپنی جدو جہد کو جاری و ساری رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حیوانیت سوز واقعہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے اور اس جیسے سینکڑوں سانحات بھارتی جمہوریت کیلئے بدنما داغ ہے۔ سالویشن مومنٹ کے سربراہ ظفر اکبر بٹ نے کہاکہ سانحہ کے ذمہ داروں کو نہ سزا دی گئی اور نہ ہی کسی تحقیقاتی عمل کے نتیجے میں مرتکبین کو عوام کے کٹہرے میں کھڑا کیا گیا ۔انھوں نے اس سانحہ کے شکار لوگوں کے لواحقین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان کے دلوں پہ لگے زخموں کی ٹیس ابھی بھی محسوس کررہے ہیں ۔

مزید : عالمی منظر