33ارب ڈالر کا زیادہ ت حصہ پاکستان نے افغانستان میں ، معمولی رقم اپنی افواج پر خرچ کی

33ارب ڈالر کا زیادہ ت حصہ پاکستان نے افغانستان میں ، معمولی رقم اپنی افواج پر ...

اسلام آباد ( آن لائن228صبا ح نیوز) پاکستان کے پاس امریکہ سے ملنے والی امداد اور اخراجات کا ریکارڈ موجود ہے، 33 ارب ڈالر کا زیادہ تر حصہ پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ پر خرچ کیا۔ اس میں معمولی سی رقم پاکستان نے اپنی افواج پر خرچ کی وہ بھی امریکہ کی طرف سے پاکستان پرمسلط کی جانے والی دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کی افواج کو لڑنی پڑی جس میں بے شمار قربانیاں دی گئیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق 33 ارب ڈالر میں سے 14.5 ارب ڈالر پاکستان کو امریکی افواج پر پہلے ہی خرچ کیے جانے کے بعد ملے۔ یہ رقم پاکستان پہلے ہی امریکی افواج پر، جو افغانستان میں دہشت گردی کی جنگ لڑ رہے تھے ، ان کو سپورٹ کرنے پرخرچ کیے تھے ، جو امریکہ نے پاکستان کو واپس کیے اس کے علاوہ امریکہ نے پاکستان کو 1.3 ارب ڈالر دیے جو پاکستان امریکہ کے کہنے پر افغان طالبان کے خلاف جنگ پر خرچ کیے۔پاکستان نے اپنی افواج کی تربیت اور بہتری کے لئے چار ارب ڈالر خرچ کیے کیونکہ پاکستان کی افواج کو افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کرنے کے لئے اپنے آپ کو تیار کرنا تھا۔ اس کے علاوہ 0.85 ارب ڈالر ملے جو پاکستان نے افغان مہاجرین کی رہائش، کھانے اور ان کو دوسرے سہولتیں فراہم کرنے پر خرچ کی، جو امریکہ کی طرف سے افغانستان میں جنگ کی وجہ سے پاکستان ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ پاکستان کو امریکہ کی طرف سے ایک ارب ڈالرپاکستان میں قدرتی آفات کی وجہ سے ہونے والی تباہی کے بعد امدادی کاموں پر خرچ کرنے پڑے، اس کے علاوہ پاکستان کی اقتصادی حالت کو نقصان افغانستان میں روس اور اس کے بعد امریکہ کی مداخلت کی وجہ سے ہوا اسے پورا کرنے کے لئے امریکہ نے پاکستان کو 8.5 ارب ڈالرد یئے ، حالانکہ پاکستان کی معیشت کو دہشت گردی کی وجہ سے ایک سو ار ب ڈالرسے زائد کا نقصان ہو چکا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق 2002 سے لیکر 2017 تک دیے جانے والے 33 ارب ڈالرز بنتے ہیں جبکہ ابھی امریکہ نے پاکستان کے کئی ارب ڈالر روکے ہوئے ہیں۔بھارت کے کہنے پر پاکستان کو مالی طور پر نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ اس دہشت گردی کی جنگ میں جو اس پر مسلط کی گئی ہے، اس میں پاکستان نے اپنے وسائل سے 120 ارب ڈالراب تک خرچ کیے ہیں۔ دریں اثناکیری لوگر بل کو قانون میں بدلنے کے بعد امریکہ نے امداد کے مالیاتی حجم میں غیر معمولی کمی کردی ، پاکستان کو 2016 سے مذکورہ بل کی مد میں کوئی رقم نہیں ملی جبکہ طے شدہ معاہدے کی روسے امریکہ کو 18 کروڑ ڈالر دینے تھے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے 2001 سے 2007 کے عرصے میں عوامی امداد کی مد میں ایک ارب 64 کروڑ ڈالر امداد وصول کی اسی عرصے میں سب سے بڑی رقم 2001 میں 43 کروڑ 30 لاکھ ڈالر وصول کی تھی۔ کیری لوگر بل کے تحت امریکہ پاکستان کے سرکاری اداروں اور غیر سرکاری اداروں (این جی اوز)کے لیے عوامی امداد کی مد میں مجموعی طور پر 7 ارب 50 کروڑ ڈالر اور سالانہ ایک ارب 50 کروڑ ڈالر دینے کا پابند تھا۔پاکستان کو 11-2010 میں تاریخ کی سب سے بڑی مالی امداد 87 کروڑ 30 لاکھ ڈالر ملی جبکہ 99 کروڑ 40 لاکھ ڈالر دینے کا وعدہ کیا تھا۔واشنگٹن کی جانب سے عوامی امداد میں 4 ارب 30 کروڑ ڈالر کی پہلی کٹوتی اس وقت کی جب امریکہ نے مئی 2011 میں ایبٹ آباد میں فوجی آپریشن کرکے اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا اور یوں پاکستان کو صرف 2 ارب 50 ڈالر مل سکے۔اسی حوالے سے پاکستان نے 2006 میں 37 کروڑ 70 لاکھ ڈالر، 2001 میں 36 کروڑ ڈالر، 2005 میں 32 کروڑ 90 لاکھ، 2004 میں 7 کروڑ 40 لاکھ ڈالر، 2003 میں 5 کروڑ ڈالر اور 2002 میں ایک کروڑ 60 لاکھ ڈالر وصول کیے۔مذکورہ تمام ادوار میں ملنے والی رقم میں کہیں بھی عسکری امداد یا کولیشن فنڈز کی مد والی رقوم شامل نہیں تھی۔سرکاری اشاریوں کے مطابق گزشتہ 16 برسوں میں امریکی سویلین فنڈز کا 65 فیصد حصہ غیر سرکاری اداروں کو ملا۔امریکہ کی جانب سے عوامی امداد کی مد میں این جی اوز کو ملنے والے فنڈز کی رقم 3 ارب 30 کروڑ ڈالر جبکہ سرکاری اداروں کو 2 ارب 2 کروڑ ڈالر ملے۔

امریکی امداد

مزید : علاقائی