فلم’ مولا جٹ‘ کے کاپی رائٹ کی خلاف ورزی ، وکلا ء دوبارہ طلب

فلم’ مولا جٹ‘ کے کاپی رائٹ کی خلاف ورزی ، وکلا ء دوبارہ طلب
لاہور(نامہ نگار)سیشن کورٹ میں مشہور فلم مولا جٹ کے کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کی درخواست پر سماعت ہوئی،عدالت نے فریقین کے وکلا ء کو آئندہ سماعت پر بحث کے لئے پھر طلب کر لیاہے۔ایڈیشنل سیشن جج نے شہری محمد سرور بھٹی کی درخواست پر سماعت کی ،مولا جٹ فلم کے مالک نے کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کرنے پر مولا جٹ پارٹ ٹو کے پروڈیوسر سمیت دیگر اداکاروں پر اندارج مقدمہ کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔درخواست گزار نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ اس نے 1978 ء میں’ مولاجٹ‘ فلم بنائی اور 1979 ء میں فلم کا سنسر سرٹیفیکیٹ مرکزی سنسر بورڈ اسلام آباد سے جاری ہوا جواُن کے پاس موجود ہے اور جو 2024 ء تک ہے،فلم کو نو جنوری 1979 ء میں پورے پاکستان کے سینما گھروں میں ریلیز کیا گیا تھا،مولا جٹ فلم کا نام، کہانی، کرداروں کے نام،عکس بندی، موسیقی بیک گراؤنڈ سب اس کی ملکیت ہیں،مصنف ناصر ادیب نے مولا جٹ کے حقوق بلال لاشاری اور عمارہ کو غیر قانونی طور پر فروخت کئے ہیں، اس کے ساتھ دھوکہ دہی پر مصنف اور کاسٹ پر مقدمہ درج کیا جائے۔

مزید : علاقائی