سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس کے چیمبر کا پانی آلودہ نکلا

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس کے چیمبر کا پانی آلودہ نکلا

لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس پاکستان کے لاہور رجسٹری کے چیمبر کے پینے والا پانی بھی آلودہ نکلا، چیف جسٹس پاکستان نے پنجاب میں صاف پانی کے منصوبوں پر خرچ اربوں روپے کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار، جسٹس منظور احمد ملک اور مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل تین رکنی بنچ نے شہروں کو صاف پانی کی عدم فراہمی پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی توپی سی ایس آئی آر کے ڈائریکٹر کی طرف سے عدالت میں پیش کی گئی تحریری رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے چیمبر سے پانی کے جو نمونے لئے گئے تھے وہ آلودہ پائے گئے ہیں، چیف جسٹس نے شہریوں کو صاف پانی کی عدم فراہمی پر چیف سیکرٹری پنجاب پر سخت اظہار برہمی کیا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عوام نے ہمیں ووٹ نہیں دینے بلکہ سیاستدانوں کو دینے ہیں، چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیئے کہ اگر وزیراعلیٰ سندھ کو عدالت میں بلایا جا سکتا ہے تو وزیراعلی پنجاب کو بھی بلایا جا سکتا ہے اور ان سے بہت سارے سوالات کئے جا سکتے ہیں، پنجاب حکومت نے آج تک اپنی ترجیحات کا تعین کیوں نہیں کیا؟ عوام کو آرسینک کی شکل میں زہر پلایا جا رہا ہے، جو کام حکومت کے کرنے کے تھے وہ نجی کمپنیوں کے سپرد کر دئیے ہیں اورسرکاری خزانے سے اربوں روپے خرچ کردیئے گئے، چیف جسٹس نے چیف سیکرٹری سے استفسار کیا کیا آپ کو پتہ ہے کہ بڑے شہروں کو آلودہ پانی کن ندیوں اور دریاؤں سے آ رہا ہے ۔جو کام حکومت کے کرنے ہیں کہ وہ نجی کمپنیوں کو دئیے جا رہے ہیں،چیف جسٹس پاکستان نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے ابھی تک اپنی ترجیحات کا تعین کیوں نہیں کیا؟چیف جسٹس پاکستان نے صاف پانی کی فراہمی کے معاملے پر متعلقہ حکام سے تفصیلی رپوٹ طلب کرلی ہے۔

صاف پانی

مزید : صفحہ اول