پاکستان کی اقتصادی امداد بدستور جاری رہے گی : امریکہ

پاکستان کی اقتصادی امداد بدستور جاری رہے گی : امریکہ

واشنگٹن (اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) تمام تر شکایات کے باوجود امریکہ کی طرف سے پاکستان کی اقتصادی امداد بدستور جاری رہے گی۔ جس کا مطلب یہ ہے گزشتہ مالی سال میں مختص 22 کروڑ 30 لاکھ ڈالر اور موجودہ سال میں مختص 21 کروڑ ڈالر 10 لاکھ ڈالر کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوگی۔ البتہ فوجی امداد اور ’’کولیشن سپورٹ فنڈ‘‘ کی فراہمی بعض شرائط پوری ہونے تک معطل رہیں گی۔ فوجی امد ا د کے حوالے سے امریکی فیصلے کے مطابق پاکستان کو ملنے والی ایک ارب 90 کروڑ ڈالر کی فراہمی فی الحال رک جائے گی۔ پاکستان کے بارے میں صدر ٹرمپ کے نئے سال کے آغاز پر سخت ترین بیان سے جو خرابی کی صورت پیدا ہوئی تھی، اس میں ٹھہراؤ کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے اور بہتر سفارتکاری کے سبب مزید خرابی سے رک گئے ہیں اور ان میں ٹھہراؤ آگیا ہے۔ پاکستانی عوام اور حکومت میں شدید ردعمل کے اظہار کے بعد اسلام آباد سے یہ معتدل اطلاع ملی ہے کہ وفاقی کابینہ نے باہمی تعلقات کو برقرار رکھنے اور انسداد دہشت گردی میں امریکہ کیساتھ تعاون کے سلسلے کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ واشنگٹن میں پاکستانی سفیر اعزاز احمد چودھری بھی صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد سرگرم ہوگئے ہیں اور انہوں نے مختلف انٹرویوز میں محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ پاکستان کیساتھ تصادم کی راہ اختیار نہ کرے کیونکہ پاکستان تمام معاملات کو افہام و تفہیم کیساتھ طے اور افغانستان میں قیام امن کی کوششوں میں تعاون کرنے کو تیار ہے۔صدر ٹرمپ کیساتھ ساتھ ان کے نائب صدر مائیک پنس، نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر جنرل میکماسٹر اور وزیر دفاع جنرل جیمز میٹس کے پاکستان مخا لف بیانات نے بھی تعلقات میں بگاڑ پیدا کر دیا تھا، تاہم صورتحال کی وضاحت کیلئے امریکی وزارت خارجہ اور وائٹ ہاؤس کے بجٹ آفس کے اہلکاروں کی طرف سے امریکی حکومت کا جو موقف بیان کیا گیا ہے، اس کا لہجہ بہت نرم اور مفاہمت پر مبنی ہے جبکہ پورا حساب کتاب کرکے پاکستان کیلئے روکی جانیوالی کل فوجی امداد کی مالیت ایک ارب 90 کروڑ ڈالر سامنے آئی ہے۔ادھرامریکی وزارت خارجہ کے ترجمانوں نے خصوصی بریفنگ میں خاص طور پر انتہائی نرم الفاظ میں واضح کیا کہ امریکہ نے امداد روکنے کیلئے جو شرائط پیش کی ہیں، انہیں ماضی کی پریسلر ترمیم کے مطابق ’’سزا‘‘ نہ سمجھائے بلکہ اسے ’’ترغیب‘‘ کے طور پر لیا جائے۔ امریکہ پاکستان کو موقع فراہم کر رہا ہے کہ وہ پورا وقت لیکر افغان سرحد کے قریب دہشت گردوں کے ٹھکانوں کیخلاف بلاامتیاز صفائی کرے، فیصلہ کن کارروائی نظر نہ آنے تک یہ امداد معطل رہے گی اور اس سلسلے میں 30 ستمبر 18ء تک انتظار کیا جاسکتا ہے۔

امریکہ

مزید : صفحہ اول