مستعفی ہو رہا ہوں نہ ٹرمپ کی ذہنی صحت سے متعلق کبھی سوال کیا:ٹلرسن

مستعفی ہو رہا ہوں نہ ٹرمپ کی ذہنی صحت سے متعلق کبھی سوال کیا:ٹلرسن
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک )امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلر سن نے اپنے عہدے سے دست بردار ہونے کی افواہ، اور صدر ٹرمپ کی ذہنی صحت کے بارے میں بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے انہوں نے ایسا سوال کبھی نہیں کیا۔فائر اینڈ فیوری: انسائڈ دا ٹرمپ وائٹ ہاؤس' نامی متنازع کتاب جو کہ حال ہی میں منظر عام پر آئی ہے میں یہ کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کے بعض سٹاف انہیں 'بچے' کے طور پر دیکھتے ہیں۔

کتاب کے مصنف مائیکل وولف کا کہنا ہے اس کتاب میں تقریبا 200 انٹرویوز شامل ہیں اور صدر ٹرمپ کی جانب سے اس کتاب کی اشا عت روکنے کی کوششوں کے باوجود یہ کتاب قبل از وقت فروخت ہو رہی ہے۔ میڈیا اور دوسرے افراد ان کو نقصان پہنچانے کیلئے اس کا فر و غ کر رہے ہیں۔انہیں انتخابات جیتنے کی کوشش کرنی چاہیے۔اس سے قبل مسٹر ٹلرسن نے صدر ٹرمپ کو 'احمق' کہا تھا۔ انھوں نے سی این این کو دیے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا 'ان کی ذہنی صحت پر سوال کرنے کا میرے پاس کوئی جواز نہیں ۔میرا خیال ہے یہ سب کو معلوم ہے۔ شاید اسی وجہ سے امریکی عوام نے انھیں منتخب کیا۔کتاب کے مصنف وولف نے کہا وائٹ ہاؤس کا سٹاف نے صدر کو بچے کے جیسا اس لیے کہا کہ انہیں اپنی ضروریات کو فوراً پورا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ شخص پڑھتا ہے، نہ سنتا۔ وہ پن بال کی طرح جو صرف کنارے کنا ر ے نشانہ لگاتا رہتا ہے۔مسٹر ٹلرسن نے کہا صدر ٹرمپ کیساتھ ان کا رشتہ بہتر ہو رہا ہے ، وہ 2018 میں پورے سال اپنا کام کریں گے ۔ جہا ں تک میرے مختلف طرح سے کام کرنے کا سوال ہے میں صدر سے بہتر ترسیل کی اپنی صلاحیت میں اضافہ کروں گا۔ادھربی بی سی کے شمالی امر یکہ امور کے مدیر جان سوپل کا کہنا ہے اس کتاب میں کیے گئے دعوؤں میں سے اگر پچاس فیصد بھی درست ہیں تو یہ ایک خوفزدہ صدر اور انتشار کا شکار وائٹ ہاؤس کی تصویر پیش کرتے ہیں۔کتاب میں سب سے سنگین الزام جونیئر ٹرمپ اور روسی اہلکاروں کے درمیان ملاقات کو قرار دیا جا رہا ہے اور جس کے بارے میں کانگریس کے کہنے پر تحقیقات بھی جاری ہیں۔

ٹلر سن تردید

مزید : صفحہ آخر