محنت کش کی اہلیہ کیلئے دروازہ نہ کھلا، مرکز صحت گرمانی کے گیٹ پر بچہ کا جنم

محنت کش کی اہلیہ کیلئے دروازہ نہ کھلا، مرکز صحت گرمانی کے گیٹ پر بچہ کا جنم

قصبہ گرمانی( نمائندہ پاکستان) ٹھٹھہ گرمانی کے محنت کش بلال گزشتہ رات اپنی بیوی کو ڈلیوری کیلئے بیل ریڑھی پر لٹا کر ٹھٹھہ گورمانی بنیادی مرکز صحت لایا تو ہسپتال عملہ نے گیٹ نہ کھولا ہسپتال عملہ کی غفلت کے باعث زاہدہ بی بی نے ہسپتال گیٹ پر ہی بچہ کو جنم دے دیا بچہ کی حالت خراب ہونے(بقیہ نمبر26صفحہ12پر )

پر بچہ اور اس کی ماں کوکئی گھنٹے گنے کی ٹرالیوں کو کراس کر کے ایمرجنسی میں سنانواں رورل ہیلتھ سینٹر لایا ہسپتال عملہ نے ایڈمیٹ کرنے سے انکارکرتے ہوئے نشتر ہسپتال لے جانے کا مشورہ دے ڈالامحنت کش بلال اپنی بیوی اور نومولود بچے کا علاج مہنگے داموں پرائیویٹ ہسپتال میں کروانے پر مجبورہے۔ محنت کش بلال نے میڈیاکو بتایا کہ وہ سرکاری ہسپتالوں سے تنگ آکر اس وقت الشفاء ہسپتال کوٹ ادو میں اپنے بچے کا پرائیویٹ علاج کروا رہاہے۔ میڈیکل آفیسر بی ایچ یو ٹھٹھہ گرمانی ڈاکٹر ضیاء الرحمان نے میڈیاکو بتایا کہ مجھے اس وقوعہ کا علم نہیں ابھی میڈیا کے توسط سے مجھے اس وقوعہ کا علم ہوا ہے تاہم ہم اس واقع کی ہر پہلو سے انکوائری کریں گے۔چئرمین یونین کونسل ٹھٹھہ گرمانی خلیل الرحمان گرمانی نے میڈیاکو بتایا کہ ہم محکمہ ہیلتھ کے ساتھ ملکر اس واقع کی چھان بین کر رہے ہیں ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کی سفارش کریں گے۔محنت کش بلال نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے بنیادی مرکز صحت ٹھٹھہ گرمانی کے عملہ کے خلاف کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

محنت کش

مزید : ملتان صفحہ آخر