کاٹن کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی و دیگر ٹیکسز کا خاتمہ جنرز پر بجلی بنکر گرا

کاٹن کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی و دیگر ٹیکسز کا خاتمہ جنرز پر بجلی بنکر گرا

ملتان (نیوز روپورٹر) اقتصادی رابطہ کمیٹی کی جانب سے (کاٹن) کی درآمد (امپورٹ) پر کسٹم ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس کے خاتمے سے ٹیکسٹائل اور ویلیو ایڈڈ سیکٹر کا بڑا مطالبہ پورا ہوگیا ہے ملک(بقیہ نمبر41صفحہ12پر )

میں لاکھوں کاشتکاروں اور کاٹن جنرز کو حکومتی فیصلے سے دھچکا لگا ہے۔ کاشتکاروں نے جنرز اور بیوپاریوں کو فروخت کی گئی کپاس(پھٹی) کی رقم وصول کرنی ہے جبکہ جنرز کے سٹاک میں اربوں روپے مالیت کی روئی اور کپاس پھٹی موجود ہے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت اجلاس میں اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 8جنوری 2018پیر سے کاٹن کی امپورٹ پرسیلز ٹیکس اورکسٹم ڈیوٹی ختم کردی پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے ) کی یکم جنوری 2018ء کی رپورٹ کے مطابق ملک کی جیننگ فیکٹریوں میں 13لاکھ 35ہزار 819گانٹھ کپاس اور روئی موجود ہے روئی کی 11لاکھ 84ہزار 218گانٹھیں جبکہ کپاس (پھٹی) کی ایک لاکھ 64ہزار 456گانٹھیں موجود ہیں حکومتی فیصلہ اور اعلان ملک بھر کے جنرز برادی پر بجلی بن کر گرا ہے جنرز نے کاشتکاروں کو اربوں روپے کی ادائیگی کرنی ہے اور بنکوں سے لیے گئے قرضوں کی رقم بھی بمعے سود واپس کرنی ہے ملک میں روئی کی قیمت سیزن کی بلند سطح پر ہے حکومت کی جانب سے ڈیوٹی اور ٹیکسز ختم کرنے سے روئی کی قیمت نیچے آنے اور سٹاک کی فروخت مشکل ہونے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔ جیننگ فیکٹریوں کے روئی کے وئیر ہاؤس بننے کے احکامات ہیں۔

بجلی

مزید : ملتان صفحہ آخر