مفاہمت کے بادشاہ سرگرم،آئی جی کی تبدیلی کا فائنل راؤنڈ شروع

مفاہمت کے بادشاہ سرگرم،آئی جی کی تبدیلی کا فائنل راؤنڈ شروع

سندھ میں ایک مرتبہ پھر آئی جی کی تبدیلی کی بازگشت سنائی دے رہی ہے ،اے ڈی خواجہ اور پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کے درمیان جاری تنازع کا اب بظاہر فائنل راؤنڈ شروع ہوتا ہوا نظر آرہا ہے ۔شنید ہے کہ وفاقی حکومت نے بھی خواجہ کی تبدیلی کے حوالے سے گرین سگنل دے دیا ہے جوشایدمسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کے درمیان کئی عرصے سے رابطوں میں تعطل کے بعد دوبارہ شروع ہونے والے ’’ بیک ڈور‘‘رابطوں کے بعد پیپلزپارٹی کا مسلم لیگ(ن)سے پہلا مطالبہ ہے۔وادی مہران میں آئی جی سندھ کی تبدیلی اور وفاقی حکومت کی اس پر رضا مندی کو ناقدین آئندہ عام انتخابات کی تیاریوں سے بھی تعبیر کررہے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ سندھ کے پولیس چیف کی تبدیلی پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں خاموش مفاہمت کا نتیجہ ہوگی ۔دونوں جماعتوں کی نگاہیں اس وقت آئندہ عام انتخابات پر مرکوز ہیں اسی لئے دوریوں کو ختم کرکے ’’کچھ لو اور کچھ دو‘‘ کی پالیسی کاباقاعدہ آغاز ہونے جارہاہے۔اسی سلسلے میں مسلم لیگ (ن) پیپلزپارٹی کو آئی جی کی تبدیلی کے ذریعہ ریلیف فراہم کرے گی تو جوابی طور پر زرداری صاحب کو بھی ’’شریفوں‘‘ کو کچھ نا کچھ دینا ہی پڑے گا ۔اس سے قبل جب آئی جی سندھ کو ان کے عہدے سے ہٹایاگیا تھاتو یہ معاملہ سندھ ہائی کورٹ میں چلا گیا ۔عدالت عالیہ سندھ نے اے ڈی خواجہ کو عہدے پر برقرار رکھتے ہوئے احکامات جاری کئے تھے کہ آئی جی سندھ کو تین سال کی مدت پوری کئے بغیر نہیں ہٹایا جاسکتاہے ۔اے ڈی خواجہ نے 12مارچ 2016ء کو اپنے عہدے کی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں اگر سندھ ہائی کورٹ کے احکامات کو مدنظر رکھا جائے تو ان کی مدت ملازمت 12مارچ 2019کو پوری ہوگی ۔ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ اگر اس مدت سے قبل اے ڈی خواجہ کو ان کے عہدے سے ہٹایا گیا تو توہین عدالت کے زمرے میں آئے گا ۔اب یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ اتنے واضح عدالتی احکامات کے باوجود سندھ حکومت کیوں آئی جی کو عہدے سے ہٹانے میں لگی ہوئی ہے اور اس نے ایک مرتبہ پھر سردارعبدالمجید دستی ،عارف نواز اور خالق دد لاک کے نام وفاق کو ارسال کردیئے ہیں اورکمال یہ ہے کہ وفاق کی جانب سے بھی اس مرتبہ سندھ سائیں سرکار کو مثبت پیغام موصول ہوا ہے ۔سندھ حکومت کا موقف ہے کہ سپریم کورٹ کے احکامات ہیں کہ سینئر افسر کو ہی آئی جی سندھ لگایاجاسکتا ہے جبکہ اے ڈی خواجہ گریڈ 21کے افسر ہیں اس لئے ان کی بطور آئی جی تعیناتی خلاف قانون ہے ۔ اے ڈی خواجہ کی میرٹ پر بھرتیاں اورپولیس کوسیاسی شخصیات کے ذاتی مفادات کیلئے خدمات انجام دینا سمیت اصولی اورقانون کے مطابق اقدامات سندھ کی بااثرترین شخصیات کیلئے ناپسندیدہ ترین فعل قرارپائے ۔رہی سہی کسرگنے کاشتکاروں سے زبردستی فصل خریدنے والوں کے خلاف سخت اقدامات اور پولیس کوملزمالکان کے آلہ کارنہ بننے دینانے ’’جلتی پہ تیل ‘‘کا کام کیا ہے ۔اے ڈی خواجہ کی ذات سے بہت سارے اختلافات ہوسکتے ہیں مگر صوبے کی عوام کیلئے ان کی کارکردگی مثالی ہے اسی لئے ان کی تبدیلی حکمرانوں کے مفاد میں تو ہوسکتی مگر وادی مہران کے باسیوں کیلئے ہرگزسود مندنہیں ہوگی۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر