پشاور سے اغوا ہونے والے افغان ڈپٹی گورنر رہا

پشاور سے اغوا ہونے والے افغان ڈپٹی گورنر رہا
پشاور سے اغوا ہونے والے افغان ڈپٹی گورنر رہا

  


پشاور ( ویب ڈیسک) پشاور سے گزشتہ سال اکتوبر میں اغوا ہونے والے افغان ڈپٹی گورنر کو اغوا کاروں نے رہا کر دیاتاہم ان کے بھائی تاحال لاپتہ ہیں۔ غیرملکی خبر رساں ایجنسی ’اے پی‘ کے حوالے سے روزنامہ نوائے وقت نے لکھا کہافغانستان کے مشرقی صوبے کُنر کے ڈپٹی گورنر قاضی محمد نبی احمدی کو پشاور کے سرحدی علاقے سے اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ ڈاکٹر کے پاس جا رہے تھے۔ ان کے اغوا کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی تھی اور رہائی کے بعد بھی یہ واضح نہیں ہو سکا انہیں کس نے اغوا کیا تھا۔ قاضی محمد نبی احمدی، گلبدین حکمت یار کی جماعت ’حزب اسلامی‘ کے رکن ہیں۔ اسلام آباد میں تعینات افغانستان کے نائب سفیر زردشت شمس کا کہنا تھا قاضی محمد نبی احمدی کنر میں اپنے گھر لوٹ آئے ہیں۔ انہوں نے کہا ڈپٹی گورنر کے اغوا ہونے والے بھائی حبیب اللہ تاحال لاپتہ ہیں۔پاکستان ٹوڈے کے مطابق متاثرہ فیملی سے تاوان کی ادائیگی کا مطالبہ کیاگیا تھا تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ تاوان ادا کیا گیا ہے یا نہیں ۔ 

مزید : بین الاقوامی /علاقائی /خیبرپختون خواہ /پشاور