اگر پاکستان صرف یہ کام کردے تو امریکہ کے ہوش ٹھکانے آجائیں

اگر پاکستان صرف یہ کام کردے تو امریکہ کے ہوش ٹھکانے آجائیں
اگر پاکستان صرف یہ کام کردے تو امریکہ کے ہوش ٹھکانے آجائیں

  

 کہتے ہیں کہ پرائی لڑائی میں مت پڑو یہ فقرہ آج پاکستان پر مکمل طور پر درست ثابت ہوا ہے ۔پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس قدر نقصان اٹھایا ہے کہ اس کی مثال نہیں ملتی لیکن امریکیوں کا دل ہی نہیں بھرتا۔در حقیقت امریکیوں کی خواہشات کچھ اور تھیں اور نتائج بالکل مختلف آ رہے ہیں۔ اس وقت سپر پاور ہونے کے باوجود بے بسی کا شکار نظر آرہاہے۔ کوریا ، پاکستان،ایران،سعودی عرب اور لاطینی امریکہ تک امریکہ ہر ایک کی لڑائی کا خواہش مند ہے لیکن اب دنیا بدل چکی ہے ۔

امریکہ کی پاکستان سے خصوصی محبت کی کئی وجوہات ہیں۔

پہلی وجہ افغانستان ہے۔امریکہ کو افغانستان میں آئے اب سولہ سال بیت چکے ہیں لیکن کوئی خاطر خواہ نتائج میسر نہیں آ سکے۔ایک اندازے کے مطابق صرف ایک امریکی فوجی پر سالانہ دس لاکھ ڈالر خرچہ آتاہے۔صرف ایک ماہ میں تقریباً چھ سے سات ارب ڈالر تمام افواج کا خرچہ ہے جو اس وقت افغانستان میں تعینات ہے ۔ صرف برطانیہ نے اس جنگ پر سینتیس ارب پاونڈخرچ کردئیے ہیں۔۲۰۱۱ء میں ایک نجی کمپنی کی ٹیم نے یہ انکشاف کیا تھاکہ امریکی کمپنیوں نے عراق اور افغانستان میں مختلف پروجیکٹس میں تیرہ سے بیسارب ڈالر خوردبرد کیے۔تقریباً سات ارب ڈالر کے ہتھیار اس لیے ضائع کر دیے گئے کیونکہ امریکی افواج علاقہ خالی کر کے جا رہی تھیں۔امریکہ کے ایک تحقیقاتی ادارے نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ کروڑوں ڈالر ایسے کاموں پر ضائع کر دئیے گئے جن کی ضرورت نہ تھی۔ مثلاً افغان افواج کے لیے ستر کروڑ ڈالر کا طیارہ خریدا گیا جبکہ اسے کھڑا کرنے کی بھی جگہ نہ تھی اور نہ ہی اس کی مرمت کا انتظام تھا۔انسب اخراجات کے بعد بھی پچاس فیصد افغانستان طالبان کے کنٹرول میں ہے۔افغانستان کے اندرونی حالات پہلے سے مزید خراب ہوئے ہیں۔اب افغانستان امریکیوں کے لیے وہ قبرستان ہے جہاں اس کی صرف تدفین ہی ہو سکتی ہے۔اس لیے وہ اپنا مردہ ہمارے گلے میں ڈالنا چاہتا ہے۔

امریکیوں کی ناراضگی کی دوسری وجہ انڈیا ہے۔انڈیا اور امریکہ نے شاید یہ پلان کیا تھا کہ پاکستان کا نعم البدل بنا کر انڈیا کو خطہ میں ایسا کردار دے دیا جائے گا جو امریکہ کے لیے مستقل سہولت بن جائے گی لیکن انڈین بھی اس علاقے کے کلچر سے ناواقف ہیں ۔اگرچہ اس علاقہ میں اپنے کردار کے لیے انڈیا نے بہت سرمایہ کاری اور اور منصوبہ بندی کی ہے۔انڈیا صرف چاہ بہار پروجیکٹ پر اکیس ارب ڈالر خرچ کر رہاہے ۔گوادر سے صرف بہتر سمندری میل کے فاصلے پر واقع ہے۔انڈیا نے اس راہداری اور بندرگاہ کا اہتمام افغانستان کے لیے کیا ہے لیکن افغانستان کا قریب ترین شہر ۱۸۷۵ کلومیٹر دور اور بہت کم آبادی پر مشتمل ہے ۔اگرچہ اس کیلیے سڑکوں کی تعمیر تمام افغانستان میں کی جانی ہے لیکن وہاں کے حالات میں یہ ناممکن نظر آتا ہے۔

در حقیقت انڈیا اسے ایران کے راستے یورپ تک رسائی اور علاقے میں اپنے کنٹرول کے لیے استعمال کرنا چاہتاہے ۔انڈیا کی قریب ترین بندرگاہ ممبئی ،چاہ بہار سے ۳۴۸ میل دور ہے اسی لیے انڈیانے اس کے تحفظ کے لیے پہلے ہی تاجکستان سے فاخر ائیر بیس لے لیا ہے جہاں مگ۔۲۹ طیاروں کا ایک سکوارڈن اور انڈین خفیہ ایجنسی را کا اڈہ ہے۔ایران کا یہ علاقہ بہت کم آبادی پر مشتمل تھا ۔اب سیستا ن میں ترقیاتی کام شروع ہونے سی علاقائی منظرنامہ بہتر ہوگا۔ ایران آبنائے ہرمز پر امریکی تسلط کی راہ میں رکاوٹ ہے جبکہ چاہ بہار کی بندرگاہ اس کے قریب ترین ہے۔انڈیا ۔ایران اس علاقے میں اپنی پوزیشن بہتر بنا رہے ہیں لیکن دوسری طرف ایران امریکہ کو اس علاقے سے دور رکھنا چاہتاہے۔

ایک اور اہم وجہ پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کی واپسی ہے۔پاکستان پچھلے ۳۹ سال سے یہ بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس بوجھ سے نجات حاصل کی جائے۔ امریکہ جسے پاکستان سب کچھ ہڑپ کرتا نظر آتا ہے اب مہاجرین کو امریکیوں کو سنبھالنا ہو گا۔ اگر پاکستان یہ کر لے تو افغانستان ،انڈیا اور امریکہ کو اچھی طرح پتہ چل جائے گا کہ پاکستانی قوم نے اس سلسلے میں کتنی بڑی قربانی دی ہے۔

پاکستان اس سلسلے میں اصولی موقف اپنائے ہوئے ہے لیکن امریکی کوئی نہ کوئی مسلہ ضرور کھڑا کریں گے اس سلسلے میں پاکستان کو بہت محتاط رہنے کی ضرروت ہے،دھیرج سے چلنا ہوگا ۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -