ٹوائلٹ میں آپ کی اس ایک حرکت کا خمیازہ دنیا والوں کو 500سال تک بھگتنا پڑ سکتا ہے

ٹوائلٹ میں آپ کی اس ایک حرکت کا خمیازہ دنیا والوں کو 500سال تک بھگتنا پڑ سکتا ہے
ٹوائلٹ میں آپ کی اس ایک حرکت کا خمیازہ دنیا والوں کو 500سال تک بھگتنا پڑ سکتا ہے

  


نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) اکثر لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ ٹوائلٹ پیپر کو بھی فلش میں بہا دیتے ہیں لیکن وہ نہیں جانتے کہ ان کی اس حرکت کا خمیازہ دنیا والوں کو آئندہ 500سال تک کے لیے بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ ” اگرچہ ٹوائلٹ پیپر بنانے والی کمپنیاں اس کو تسلیم نہیں کرتیں لیکن اکثر ٹوائلٹ پیپرز میں پلاسٹک شامل ہوتا ہے جو سیوریج سسٹم میں جا کر ختم نہیں ہوتا بلکہ آئندہ 500سال تک باقی رہ سکتا ہے۔ سیوریج کی بندش کی 93فیصد وجہ یہی ٹوائلٹ پیپر ہوتا ہے، کچھ لوگ اسے ٹوائلٹ میں فلش کرتے ہیں لیکن باقی سارے مفت میں ان کی اس حرکت کا خمیازہ بھگتتے ہیں۔“

میرین کنزرویشن سوسائٹی کے شعبہ پالوشن کی سربراہ ڈاکٹر لورا فوسٹر کا کہنا تھا کہ ”برطانیہ میں ہر سال 3لاکھ سے زائد سیوریج بلاکیج کے کیس سامنے آتے ہیں جن کو دوبارہ چالو کرنے پر 10کروڑ پاﺅنڈ (تقریباً 15ارب روپے) لاگت آتی ہے۔ دنیا بھر میں صورتحال کچھ ایسی ہی ہے جہاں سیوریج کے بلاک ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہی ٹوائلٹ پیپر ہوتے ہیں۔ اس لاگت کے علاوہ ان سے جمع ہونے والا گند ماحولیاتی آلودگی کی صورت میں بھی صدیوں تک انسانوں کو نقصان پہنچاسکتا ہے۔اس صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایاجا سکتا ہے کہ برطانیہ کی صرف ایک کمپنی نائس پیک سالانہ 67کروڑ پیک ٹوائلٹ پیپر بناتی ہے جس کا بڑا حصہ ٹوائلٹ میں ہی فلش کر دیا جاتا ہے۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس