پاکستان ایک مضبوط ملک ،امریکہ ہم سے حساب کرنا چاہتا ہے تو خوشی سے کرے،وہ اب بھی ہمارا مقروض ہے :اعزاز چوہدری

پاکستان ایک مضبوط ملک ،امریکہ ہم سے حساب کرنا چاہتا ہے تو خوشی سے کرے،وہ اب ...
پاکستان ایک مضبوط ملک ،امریکہ ہم سے حساب کرنا چاہتا ہے تو خوشی سے کرے،وہ اب بھی ہمارا مقروض ہے :اعزاز چوہدری

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان کے امریکہ میں سفیر اعزاز چوہدری نے کہا  ہے کہ پاکستان ایک مضبوط ملک ہے ، ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ اپنے وسائل سے ہی لڑی ہے ،امریکہ ہمیں دئیے گئے پیسوں کاحساب کرنا چاہتا ہے تو خوشی سے کرے ،اس سےبھی پورا ،پورا حساب  کیا جائے گا،ابھی بھی امریکہ ہمارا مقروض ہے ، امریکہ  نے 2015سے لے کر 2017تک پچھلے تین سالوں کی رقم ہمیں ادا کرنی ہے جو تقریبا ایک ارب ڈالر بنتی ہے ۔

نجی ٹی وی  چینل ”جیو نیوز“سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے امریکہ میں سفیر اعزاز چوہدری کا کہنا تھا کہ افغانستان میں فوج مسئلے کا حل نہیں، اگر ایسا ہوسکتا تو بہت پہلے ہوچکا ہوتا،ان کا بنیادی مطالبہ اگر یہ کہا جائے تو زیادہ درست ہوگا کہ وہ ہم پر پناہ گاہوں پر الزام لگا کران کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں ،جبکہ ہم باربار ان سے کہ چکے ہیں کہ اگر ایسا کوئی معاملہ ہے تو ہم سے معلومات شئیر کی جائیں تاکہ ہم کارروائی کریں۔انہوں نے کہا کہ ہم بار،بار کہ چکے ہیں کہ افغانستان میں کام کرنے کی ضرورت ہے ،وہاں 45فی صد حصہ تو افغان حکومت کے کنٹرول میں ہی  نہیں ہے،  ایسے حالات میں آپ وہاں کسی مسئلے کا حل کیسے  نکال سکتے ہیں؟۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے ملک میں دہشت گردی کا خاتمہ کردیا ،ہمیں اب مسئلہ صرف افغان مہاجرین کا ہے ،ہم ان سے بات کررہے ہیں کہ ہم نے ان مہاجرین  کو بہت سنبھال لیا ہے، اب وہ واپس چلیں جائیں، ہم دہشت گردی کے کسی بھی  عناصر کو برداشت نہیں کر سکتے ،اسی وجہ سے ہم اپنی سرحد پر باڑ لگا رہے ہیں کہ کسی بھی شرپسند عناصر کو  ہمارے ہاں دہشت گردی کا کوئی بھی موقع نہ ملے،وہاں کے لوگ نئی نسل کو ورغلانے میں لگے  ہوئے ہیں ۔فلسطین کے معاملے پر ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر پوری دنیا ایک طرف  اور امریکہ دوسری طرف ہے ،پاکستان کے چین کے ساتھ بڑھتے  تعلقات پر  بھی امریکہ  کو تحفظات ہیں لیکن انہیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ہم وہی ہیں جہنوں نے امریکہ کی چین سے دوستی کروائی۔اعزاز چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے کااہم ملک ہے جس کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا، سی پیک منصوبے سے افغانستان کو بھی فائدہ ہوسکتا ہے لیکن پاکستان کو افغانستا ن میں بھارت کا کردار قبول نہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک مضبوط اور اہم ملک ہے ،خطے میں ہمارا کردار امریکہ کے لئے اہم ہے لیکن افغانستان میں امریکہ کو پیش آنے والی  ناکامیاں ہمارے حصے میں نہ ڈالی جائیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اورامریکہ کے مشترکہ ا ہداف ہیں اور وہ ہے افغانستان میں امن ،اس پر اگر سب متفق ہیں تو خلا کہاں ہے پھر؟ میراخیال ہے کہ امریکی امن نہیں چاہتے وہ ہمیں اس معاملے میں الجھا کر رکھنا چاہتے ہیں لیکن ہمارا بیانیہ مدلل ہے جو دوسرے لوگ بھی سمجھتے ہیں ،افغانستان میں ناکامی کا ملبہ ہم پرڈال کر اپنے لوگوں کو مطمن کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا کام ہے کہ ہم نے اپنا  پیغام پھیلانا ہے ،ایک قومی بیانیہ جو پچھلے کچھ دنوں میں طے ہوا  اسے امریکہ کے  ہر گھر میں پہنچایا ہے ، موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ امریکہ کوئی بھی پابندیوں کی طرف نہ جائے ، اگر ایسا ہوا تو ہم بھی اپنا جواب دینے کے لئے تیار ہیں ۔اعزاز چوہدری کا کہنا تھا کہ دو ممالک کے درمیان تعلقات بنانے میں بہت وقت لگتا ہے  لیکن خراب کرنے میں چند لمحے لگتے ہیں ،امریکہ اس سے پہلے بھی پاکستان پر دباﺅ ڈال کر کچھ حاصل نہیں کر سکا،ہم امریکہ سے تعاون چاہتے ہیں،  اس سے قبل بھی ہم ان کے ساتھ تعاون کر چکے ہیں۔ڈرون حملہ کے حوالے سے ان کاکہنا تھا کہ ہماری پالیسی ہے کہ مذمت بھی کریں گے اور اپنی حدود اس سے نقصان ہی ہوتاہے ،اس حوالے سے ہم اپنا بیانیہ دے چکے ہیں کہ ہم اپنا دفاع کریں گے ۔حافظ سعید کا معاملے پر ان کا کہنا تھا کہ وہ ہم سے بات کررہے ہیں 1267کی قرارداد کے تحت سب پر لازم ہے فنڈ ریزنگ نہ کرے، اسلحہ نہ لے، بیرونی سفر نہ کرے پاکستان کی حکومت اپناکام کرچکی ہے ،اگر ان کو تحویل میں لیا جائے تو عدالت کہتی ہے کہ آپ نے کارروائی کیوں کی ؟ کیونکہ ہمارے پاس تو ان کے خلاف کوئی ثبوت ہوتا نہیں ۔ 

مزید : قومی