کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلانا اقوام متحدہ کی ذمہ داری

کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلانا اقوام متحدہ کی ذمہ داری

کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے کے لئے اقوام متحدہ کی قرار داد کی منظوری کو ستر برس پورے ہو گئے ہیں لیکن پہلے دن کی طرح یہ مسئلہ آج بھی حل طلب ہے۔ مقبوضہ کشمیر، آزاد کشمیر اور دنیا بھر میں جہاں جہاں کشمیری باشندے مقیم ہیں ہفتے کے روز حقِ خود ارادیت کا دن منایا گیا۔ 5 جنوری 1948ء کو سلامتی کونسل نے قرارداد منظور کی تھی جس میں کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا قرارداد میں کہا گیا تھا کہ مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر میں عالمی ادارے کی نگرانی میں ریفرنڈم کرایا جائے گا جس میں کشمیری عوام اپنی رائے کا اظہار کریں گے۔

عالمی ادارے کے ایجنڈے پر اس وقت جو مسائل ہیں ان میں شاید ہی کوئی مسئلہ ،کشمیر جتنا قدیم ہو بہت سے مسائل عالمی ادارے کے سامنے آئے اور ان کا کوئی نہ کوئی حل تلاش کر لیا گیا۔ سوڈان کو دو حصوں میں تقسیم کر کے دو الگ الگ ملک بنا دیئے گئے، انڈونیشیا کے جزیرے مشرقی تیمور کو چند ہی برس کے اندر اندر الگ ملک کا درجہ مل گیا۔ اسی طرح اقوام متحدہ نے تنازعات کے علاقوں میں اپنا کردار ادا کیا اور ان کا ایسا حل نکالا گیا جس سے تمام فریق مطمئن ہو گئے، لیکن کشمیر ایسا بد قسمت خطہ ہے جس کے باشندے سات عشروں سے مسلسل جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں لیکن ان کا خون تا حال رائیگاں ہی گیا ہے ڈوگرہ راج کے ایام کو بھی شامل کر لیا جائے تو کشمیریوں کی تحریک 130 برس تک پھیل جاتی ہے دنیا کی کوئی قوم یہ دعویٰ نہیں کر سکتی کہ اس کی کئی نسلوں نے اتنے طویل عرصے کے لئے قربانیاں دی ہوں اور اس کے باوجود دنیا ان کے مسئلے کے حل کے لئے سنجیدہ نہ ہوئی ہو۔

ہر سال جب نیو یارک میں جنرل اسمبلی کا اجلاس ہوتا ہے پاکستان کے وزیر اعظم یا وزیر خارجہ عالمی ادارے اور اس کے توسط سے پوری دنیا کو یاد دہانی کراتے ہیں کہ اقوام متحدہ کشمیریوں کے مسئلے میں اپنی قرارداد پر عملدآمد کرائے، اقوامِ متحدہ کے مستقل امن مشن کے ارکان کو جو کشمیر کی کنٹرول لائن پر متعین ہے سال ہا سال سے یاد داشتیں بھی پیش کی جاتی ہیں جن میں عالمی ادارے کو اس کی ذمے داریوں کا احساس دلایا جاتاہے۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کو مقبوضہ کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم پر ڈوزئیر بھی پیش کئے گئے ہیں۔ عالمی ادارے کا ہر سکریٹری جنرل جب بھی اپنا عہدہ سنبھالتا ہے کشمیر کا تذکرہ ضرور کرتا ہے اور اس مسئلہ کے حل کے لئے اپنی خدمات بھی پیش کرتا ہے، ثالثی کی پیش کش بھی وقتاً فوقتاً کی جاتی ہے لیکن نتیجہ کچھ نہیں نکلتا اس لئے نہیں کہا جا سکتا کہ بے حسی اور لا تعلقی کا یہ ماحول کب تک جاری رہے گا؟

کئی عشروں سے مقبوضہ کشمیر کے حالات خراب سے خراب تر ہو رہے ہیں اس وقت جدوجہد آزادی کی تحریک میں کشمیری نوجوان ہراول دستے کا کردار ادا کر رہے ہیں اور ان میں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان اور کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طالب علم شامل ہیں بھارت کے بہت سے رہنما یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ کشمیر کی تحریک پر آٹھ لاکھ بھارتی فوج بھی قابو نہیں پا سکی یہی وجہ ہے کہ ریاست میں بار بار گورنر راج لگایا جاتا ہے اب گورنر راج کے بعد صدر راج کا نفاذ بھی یہ ثابت کرتا ہے کہ حالات فوج کے کنٹرول سے بھی باہر ہیں اِن حالات سے توجہ ہٹانے کے لئے بھارت کنٹرول لائن پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں کرتا رہتا ہے 2018ء میں ہزاروں مرتبہ ایسا ہوا، گولہ باری اور فائرنگ سے بڑی تعداد میں شہادتیں ہوئیں بسا اوقات کنٹرول لائن سے ملحقہ دیہات کے کھیتوں میں کام کرنے والے کسانوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان دیہات کے لوگ مسلسل خوف اور دہشت کی فضا میں زندگی گزار رہے ہیں ان خلاف ورزیوں کا مقصد بھی کشمیر کے اندرونی حالات سے دنیا کی توجہ ہٹانا ہے پھر جب بھی بھارت میں انتخابات قریب آتے ہیں یہ سلسلہ بڑھ جاتا ہے۔ آج کل بھی ایسا ہی انتخابی موسم شروع ہے جس میں بھارتی رہنما مسلسل پاکستان کو نشانہ بناتے رہتے ہیں اور اپنی رائے عامہ کو مطمئن کرنے کے لئے سرجیکل سٹرائیک کے فسانے بھی تراشتے رہتے ہیں۔

بی جے پی کے ایک رہنما سبرامنیم سوامی نے تو برملا اعتراف کر لیا ہے کہ سرجیکل سٹرائیک جیسے دعوے سادہ لوح عوام کے ووٹ حاصل کرنے کے لئے کئے جاتے ہیں۔ اس سے پہلے پوری بھارتی قیادت اس سراب کے سحر میں گرفتار چلی آ رہی تھی پہلی مرتبہ کسی رہنما نے کھل کر تسلیم کیا ہے کہ ان دعوؤں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں یہ تو ووٹ حاصل کرنے ہی کا ایک حربہ ہے۔ بھارت کے ایک سابق وزیر خارجہ یشونت سنہا نے کہا ہے کہ بھارت کشمیر سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے اور فورسز نہتے عوام کو مارنے میں مصروف ہیں انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ بھارتی فوج طاقت کے ذریعے کشمیر پر قبضہ کر کے بیٹھی ہے۔ کشمیر میں جمہوریت ہے نہ انسانیت، کشمیری عوام قیادت سے نفرت کرتے ہیں ان حالات میں کشمیر میں غاصبانہ قبضہ کب تک برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ بھارتی رہنما اکثر یہ کہتے ہیں کہ یہ باہر سے گئے ہوئے لوگ ہیں جو کشمیریوں کے پردے میں دہشت کی کارروائیاں کرتے ہیں لیکن جب بھی کوئی کشمیری شہید ہوتا ہے لاکھوں لوگ کرفیو کے باوجود اس کے جنازے میں شریک ہوتے ہیں جس میں شہید کے ورثاء بھی شامل ہوتے ہیں جو پوری ریاست میں جانے جاتے ہیں اگر یہ باہر سے گئے ہوئے لوگ ہوتے اور بھارت کے دعوے کے مطابق ان کی تعداد چند سو ہوتی تو یہ تحریک طویل عرصے تک کیسے چل سکتی تھی۔

بھارت کے بہت سے تھنک ٹینک بھی یشونت سنہا کی اس رائے سے متفق ہیں کہ کشمیر بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے ان حالات میں ضروری ہے کہ اقوام متحدہ مداخلت کرے اور اپنی نگرانی میں کشمیر میں پر امن استصواب رائے کا اہتمام کرے جو عالمی ادارے کی ذمہ داری بھی ہے کیونکہ اس کی قراردادیں اس کا تقاضا کرتی ہیں۔ اگر اقوام متحدہ اپنے اس فرض سے بدستور غافل رہی اور مقبوضہ کشمیر کے حالات کا نوٹس نہ لیا تو خطے کے حالات خراب ہو جائیں گے جو پہلے ہی ایٹمی فلیش پوائنٹ بن چکا ہے اور اگر بھارت کی اشتعال انگیزیاں جاری رہیں تو اس خطے میں جنگ کے شعلے بھی بھڑک سکتے ہیں بھارتی دھمکیوں کے جواب میں پاکستان کی فوج پہلے ہی ہر قسم کے حالات سے مقابلے کے لئے تیار ہے اور اگر کشمیر کی کنٹرول لائن کی چنگاری نے جنگ کی آگ بھڑکا دی تو یہ خطہ خطرناک تباہی سے دو چار ہو جائے گا اس لئے ایسے حالات سے پہلے پہلے اقوام متحدہ نہ صرف اپنی ذمہ داریاں پوری کرے بلکہ بھارت کو بھی خبردار کرے کہ وہ کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت دینے کے سلسلے میں اپنے وعدوں اور یقین دہانیوں پر عمل کرے۔

مزید : رائے /اداریہ