ساحر لدھیانوی یوٹیوب پر

ساحر لدھیانوی یوٹیوب پر
ساحر لدھیانوی یوٹیوب پر

  

پورے پانچ سال یہ سننے پڑھنے میں گزارے کہ ڈالر 99 روپے سے ایک سو بیس پربس آج گیا کہ گیا۔ اس اثنا میں ملکی معیشت کو دھرنے کے ذریعے وہ گُرز مارا گیا کہ مودی اور ہمارے مغربی پڑوسی ایڑی چوٹی کا زورلگانے کے باوجود وہ کام نہیں کر سکے جو اس دھرنے کے ذریعے، نمائندگان پینٹا گان اور ان کے مہروں نے روپے کو پہنچایا۔

ایک ڈالر جب ایک سو دس روپے پر گیا تو یہ تمام افراد کچھ مطمئن ہو گئے کہ دیکھا ، ہم نہ کہتے تھے۔ اُس آہنی اعصاب کے مالک نواز شریف کی ٹیم روپے کو واپس 99 روپے پر تو نہ لا سکی لیکن ڈالر ایک سو سات ایک سو نو کے درمیان غوطے لگاتا رہا۔ مذکورہ بالا تخریب کاروں کو نہ چین آیا نہ آنا تھا۔ ملکی معیشت پر ڈینٹ ڈالنے کا کوئی موقع ان لوگوں نے ہاتھ سے نہ جانے دیا۔

یوں مسلم لیگ نواز کی حکومت تمام رکاوٹوں، تخریبی سرگرمیوں اور ان لوگوں کی ملک دشمن حرکتوں کے باوجود پانچ سال پورے کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ اس پورے عرصے میں ان فسادی اور ملک دشمن افراد نے کبھی ایک دفعہ بھی یہ الزام نہیں لگایا کہ روپیہ اوکسیجن ٹیسٹ میں ہے یا یہ کہ اسے مصنوعی عمل تنفس سے گزارا جا رہا ہے۔

پڑھنے والے اس بات کے گواہ ہیں کہ بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کے ملکی نمائندگان کے ذریعے ان چنیدہ افراد کے پانچ سالہ بیانات اس ایک تمنا کے شاہکار تھے کہ کسی طرح روپے کی قیمت کم ہو، تاکہ وہ کہہ سکیں کہ دیکھا ہم نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ یہ کچھ ہو گا، دیکھ لو وہی ہوا۔

لیکن مسلم لیگ نواز کی حکومت اس تمام سیاسی جادوٹونے کے باوجود روپے کو مستحکم رکھنے میں کامیاب رہی۔ 6جون 2013ء کو جب یہ حکومت ایوانِ اقتدار میں داخل ہوئی تو ڈالر 99 روپے کا تھا۔تب کسی حکومتی عہدیدار کی زبان سے ہم نے یہ نہیں سناکہ معیشت زبوں حالی کا شکار ہے، ملک قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہواہے، ہمارے پیشرو بدعنوان تھے، ہمارا ملک بے حد خطرے میں ہے۔

اس کے برعکس جو کچھ تھا، ضروری ہے کہ قارئین کو کچھ چیزیں یاد دلا دیں۔کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ تب ملک میں اٹھارہ گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہوا کرتی تھی۔پورا صوبہ خیبراور پورا صوبہ بلوچستان اس قدر بدامنی کا شکار تھا کہ کسی دن بھی دو تین بم دھماکوں سے کم دہشت گردی نہیں ہوتی تھی۔

درجن دو درجن لاشیں اٹھانا اہلِ کراچی، خیبر اور بلوچستان کا معمول بن چکا تھا۔ کیا کراچی کا کوئی ایک گھرانہ بتایا جا سکتا ہے جو کسی مجرمانہ کارروائی کا شکار نہ بن چکا ہو؟ گھروں میں گیس کے چولہے ٹھنڈے تھے اور سی این جی کے اسٹیشن پر رات دس بجے قطاریں لگنا شروع ہو جاتی تھیں۔ کہیں گاڑیوں کو دو دن اور ملک کے کسی حصے میں تین دن بعد گیس ملا کرتی تھی۔ملکی زرِمبادلہ کے ذخائر چھ ارب تک گر چکے تھے۔

پرویز مشرف کے بکھرے ان کانٹوں کو جب نواز شریف نے اپنی پلکوں سے چننا شروع کیا تو کسی کو یاد ہے، کیا ہوا تھا۔شکریہ راحیل شریف! یہ وہ نعرہ تھا جسے سماجی رابطے پر غبی اور کُندذہن تعلیم یافتہ افراد کے ذہن میں ڈال دیا گیا۔

اسی پر بس نہیں کیا گیا، مسائل کی تحلیل کے لیے جب نواز شریف نے ہندوستان کی طرف ہاتھ بڑھایا تو عوامی ٹیکسوں سے حاصل وسائل پر کرائے کے میڈیا ہاؤسوں میں ایک نیا نعرہ تراش لیا گیا۔ ذرا یاد کریں: ’’مودی کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے‘‘ کی لے پر کیا کیا ماہیے اور ٹپے نہیں لکھوائے گئے۔ غبی، ایڈیٹ، کند ذہن اور کم فہم افراد ان تمام حرکاتِ بد پر فوراً ایمان بھی لے آئے ہیں۔ مودی کا یار، یعنی اگر کوئی ہے اور اگر غدار ہے تو چلیے مان لینے میں کوئی حرج نہیں کہ وہ غدار ہے۔

ظلم تو اَنا کے اسیر یہ ملک دشمن ا ور بزدل افراد یہ کرتے رہے کہ اس نعرہ کا رخ بائیس کروڑ عوام کے نمائندے نواز شریف کی طرف کیے رکھا۔دنیاوی مفاد کی خاطر اپنی انا کی تسکین اور پینٹاگان کے احکام کی بجا آوری کے لیے ہر وزیراعظم کو غدار، ملک دشمن مشہور کرنا اگر ریاستی ملازمین نے اپنا شعار بنا لیا ہے تو کم علم، کم فہم اور فطری طور پر کج فہم ملا کے اپنے مسلکی مخالف کو کافر قرار دینے پر سیخ پا ہونے کا کیا جواز ہے۔بات اتنی سی ہے کہ آپ ہر وزیراعظم کو غدار قرار دیے بغیر چین سے نہیں بیٹھتے تو یہی حرکت ذرا دوسرے انداز میں مولوی اپنے دیدہ و نادیدہ مخالفین کو کافر بنا کر کرتا ہے۔

تو فرق کیا ہوا؟ کچھ نہیں۔ اوّل الذکر حرکت کے نتیجے میں الذوالفقار اور منظور پشتین سامنے آتے ہیں۔ ملک کا امن کِرچی کِرچی ہوتا ہے۔ باپ بیٹوں کے جنازے اٹھاتے ہیں، مائیں بچوں کی تلاش میں احتجاجی کیمپ لگاتی ہیں، بچے باپ کی جستجو میں گلیوں میں بلکتے ہیں۔ باقی کاقیاس ۔۔۔قارئین کرام میرا خیال ہے، ملک دشمن اور مودی کے یاروں کی تعریف کچھ نئے انداز میں مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ سوال یہ ہے کہ ملک دشمن کون ہوتا ہے۔پانچ سال پورے کرنے کے بعد نواز شریف کی جماعتی حکومت جب ایوانِ اقتدار سے رخصت ہوئی تو لوڈشیڈنگ نام کی شے موجود نہیں تھی۔

گیس نہ صرف گھروں میں خوب آنا شروع ہو گئی بلکہ گاڑیوں کے لیے بھی اس کی بہم رسانی کوئی مسئلہ نہ رہا۔ نمائندگانِ پینٹاگان، داروغہ فسادفی الارض کی منفی اپیلوں کے باوجود روپیہ مستحکم کھڑا تھا۔ اسٹاک ایکسچینج کے تمام اشاریے اوپر کی طرف رخ کیے ہوئے تھے۔ دہشت گردی کے نتیجے میں ماضی میں ہونے والی روزانہ درجنوں اموات کی تعداد صفر کے عدد کو چھو چکی تھی۔

قارئین کرام رواروی میں اور یادداشت کی بنیاد پر لکھی جانے والی یہ چند باتیں ہیں جو نواز شریف کے نامہ اعمال میں درج ہیں۔ کیا ایسے شخص کی بچت ممکن ہے؟ صرف نوماہ کی قلیل مدتِ اقتدار میں جس شخص نے مسقط سے گوادر کا طویل ساحل خرید کر ملک کو تزویراتی Strategically اعتبار سے محفوظ کر دیا تھا وہ نہیں بچ سکا، نواز شریف تو مودی کا یار ہے۔ کیوں مصافحہ کیا تھا اس نے گھر آئے ہوئے مہمان سے؟ اچھا تو صاحب وہ جو ’’را‘‘ کے چیف اور دنیا کی نمبر ون انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ نے درجنوں ملاقاتوں کے نتیجے میں ابھی چند ماہ قبل ایک کتاب لکھی تھی،کیا اس کا کسی نے این او سی جاری کیا تھا۔ غالباً تو کیا یقیناًنہیں۔ تو پھر مجھے ساحر لدھیانوی کیوں یاد نہ آئے: میں نے پی شراب! ہاں یوٹیوب پر جا کر اس عنوان سے جستجو کریں، محمد رفیع ساحر لدھیانوی کا پورا گیت سنا دے گا۔

مجھے اس طرح کی بے سروپا نظمیں گیت یاد نہیں رہتے۔ لیکن ٹھہریئے! یاد پڑتا ہے، اگر میں غلطی پر نہیں ہوں، اور یقیناًنہیں ہوں تو اسی گیت میں کچھ آنے والے دور کا ذکر بھی آتا ہے۔ ساحر لدھیانوی کم بخت اسم بامسمّیٰ تھا اس نے جو کچھ لکھا مسحور کرنے کے لیے لکھا۔ مسئلہ البتہ یہ ہے کہ اس قسم کے مجذوب افراد کے ملفوظات نہ تو تحلیل ہوتے ہیں اور نہ انہیں کسی عجائب گھر کی زینت بنانا ممکن ہوا کرتا ہے۔

یہ کتابوں کے ذریعے لوگوں کے اذہان کو مسحور کریں نہ کریں، سینہ بہ سینہ ایک سے دوسرے کو منتقل ہوتے رہتے ہیں: ’’آنے والا دور لے گا سب حساب، میں نے پی شراب‘‘ ! مجھے یاد پڑتا ہے، کوچۂ افرنگ میں کرامویل کی ہڈیوں کو سو سال بعد حساب دینا پڑا تھا۔ پتہ نہیں ساحر لدھیانوی اس کی حساب گری کو کیوں نظرانداز کر گزرا۔کل ایک جگہ سے سجی خریدی تو ریستوران کے مالک نے لذت کام و دہن کا لطف دوبالا کرنے کی خاطر کچھ پلاؤ زردہ بھی ساتھ کر دیا۔ اب میں سجی اور پلاؤ زردے سے تو آپ کی تواضع کرنے سے رہاکہ خانساما ں نہیں ہوں۔ مجھے پتہ ہے میری یہ ہفتہ وا رتحریراور اس طرح کی دیگر تحریریںآپ ذہنی آسودگی کی خاطر پڑھا کرتے ہیں۔ کوشش تویہی رہتی ہے کہ تحریر میں کوئی جھول نہ رہے۔

لیکن ادھر آج کل یعنی آج کل سے مراد چند سالوں سے ہر لکھنے والے کی تحریر کسی نہ کسی جھول کا شکار ہے(غالباً علامتی افسا نے کا دور لوٹ آیا ہے)۔ ریستوران کے مالکان اپنے تیار کردہ پکوان میں موجود جھول دور کرنے کے لیے پلاؤ زردے سے کام لیتے ہیں۔ اب میں تحریر میں موجود جھول کیسے ختم کروں؟ قارئین کرام! یہ تحریر پڑھتے وقت کوشش کر کے یوٹیوب پر سے ساحر لدھیانوی کا گیت، میں نے پی شراب ضرور سنیئے۔ پلاؤ زردے کی ضرورت نہیں رہے گی۔وہ جو ’’را‘‘ کے چیف اور دنیا کی نمبر ون انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ نے درجنوں ملاقاتوں کے نتیجے میں ابھی چند ماہ قبل ایک کتاب لکھی تھی،کیا اس کا کسی نے این او سی جاری کیا تھا۔

ابتدائی حکومتی سو روزہ ایام حکومتی عہدے داروں کے سر کو ذرا بلند کرنے کا موقع دیتے ہیں۔ ادھر چنیدہ حکومت کے چند ایک اوّلین کارناموں میں سے ایک کارنامہ یہ ہے کہ اس نے اتنے مختصر عرصے میں روپے کی اس بُری طرح لٹیاڈبوئی کہ ملک کی سات عشروں پر محیط تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ڈالر ایک دم سے ایک سو نو روپے سے چھلانگ مار کر ایک سو چالیس روپے پر جا پہنچا۔

اعتراف جرم کرنے یا سر جھکانے کی بجائے اسے بھی نواز شریف کے جرائم میں یوں ڈالا گیا: ’’روپے کو مصنوعی طور پر سہارا دینے کے لیے قومی خزانے کے اربوں روپے نواز شریف نے ڈبو دیے۔‘‘ کوئی بات نہیں حکومتی عہدے دار اس طرح کی بے تکی باتیں کرتے رہتے ہیں۔ ظلم تو یہ ہے کہ ان باتوں پر من و عن ایمان لانے والے لاکھوں افرادآپ دیکھ سن سکتے ہیں۔

ان لاکھوں افراد میں صرف سیاسی کارکن یا سیاسی عہدیدارہی نہیں، آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ان میں ہر سطح کے ریاستی عہدیدار بھی شامل ہیں۔ مزید تعجب اس پر ہے کہ وہ تمام لوگ جوسیاستدانوں کو تمام فساد کی جڑ کہتے نہیں تھکتے، اپنے ہی اس چیندہ سیاست دان کے یوں رطب اللسان ہیں کہ ذہن میں صرف ایک تصور ابھرتا ہے : دیوتا اور پجاری۔

ان تمام منفی عوامل کے ساتھ ساتھ پہلو بہ پہلو کبھی کبھار کوئی نہ کوئی کلمہ حق کہنے والا بھی کچھ نہ کچھ کہہ گزرتا ہے۔وہ فیصل واوڈا صاحب نام کے ایک وزیر ہیں۔شرماتے شرماتے آخر ایک دن کہہ گزرے : ’’حکومت تو ہماری ہے لیکن اقتدار ہمارے پاس نہیں ہے۔‘‘ میری معلومات کے مطابق یہ بارش کا پہلا قطرہ تھا۔ پھر ایک اور حکومتی رکن بھی بولے اور ذرا آہنگِ بلند میں بولے: ’’حکومت معیشت کے امراض دور کرنے کی بجائے علامتیں دبا رہی ہے۔‘‘ مجھے لگتا ہے کہ اب ہلکی سی بوندا باندی شروع ہونے کو ہے۔

افسوس ناک امر یہ ہے کہ حلوہ کھانے والے یہ دریوزہ گر تو کسی لمحۂ نامعلوم کو اپنا کشکول لے کر فارغ ہو جائیں گے لیکن ملکی معیشت کے بکھرے ہوئے اعضا جمع کرنے کا فریضہ ایک مرتبہ پھر کسی نوازشریف ہی کو سزاوار ہو گا۔ اللہ ہم سب پر رحم کرے۔ آمین۔

مزید : رائے /کالم