پچھتاوا

پچھتاوا
پچھتاوا

  

خواجہ سعد رفیق آج کل نیب کا یکطرفہ احتساب بھگت رہے ہیں ۔ نیب کی جانب سے صرف ایک ہی پارٹی کے لیڈروں کی پکڑ دھکڑ ہو رہی ہے، مسلم لیگ نواز کے لیڈروں کا احتساب جیلوں میں بند کرکے کیا جا رہا ہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف، پیپلز پارٹی اور قائد اعظم مسلم لیگ کے لیڈرانکوائریاں ہونے کے باوجودمزے سے اپنے اپنے گھروں میں ہیں۔

شریف برادران کی طرح خواجہ برادران بھی اندر ہیں ، ہو سکتا ہے مسلم لیگ نواز کے مزید لیڈر بھی اندر باہر ہوتے رہیں، شاہدخاقان عباسی کا نام بھی ان ممکنہ لیڈروں میں لیا جاتا ہے۔ اس یکطرفہ احتساب نے پورے عمل کی شفافیت پر سوالیہ نشان کھڑے کر رکھے ہیں۔

نہ صرف نیب ‘بلکہ دوسرے معاملات میں بھی یکساں برتاؤ نظر نہیں آتا۔ فرق ہر شہری محسوس کرتا ہے لیکن احتساب کے نام پر دوڑایا جانے والا سرکش گھوڑا بگٹٹ بھاگے جا رہا ہے اور شاباش کے ساتھ ساتھ سلیوٹ بھی وصول کر رہا ہے۔

تجاوزات کے خلاف مہم میں بھی اسی طرح کے مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں۔وزیراعظم اور ان کی قربت رکھنے والے وزرا حسب معمول خصوصی طیاروں میں دوسرے ملکوں میں فراٹے بھر رہے ہیں جہاں امداد لینے کی بات کی جاتی ہے اور گاہے بگاہے قوم کو امدادی رقوم آنیکی خوشخبریاں سنائی جاتی ہیں۔ بظاہر یہی لگتا ہے کہ گلشن کا کاروبار فی الحال اسی ڈگر پر چلتا رہے گا کہ جلنے والے کا منہ کالا، ہم تو جو دل چاہے گا وہی کرتے رہیں گے۔

ویسے بھی ساٹھ ستر سال میں اس ملک میں ایسا کئی بار ہو چکا ہے، اس میں نئی بات کون سی ہے۔

میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ سب کچھ ایسے ہی چلتا رہے گا ، لاڈلے اسی طرح مزے اور غیر لاڈلے اندر باہر رلتے رہیں گے لیکن احتسابی مکے کھانے والے خواجہ سعد رفیق کا خیال کچھ مختلف ہے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ عمران خان کو حکمران بنانے والے اب پچھتا رہے ہیں، انصاف اور احتساب کے نام پر انتقام ہو رہا ہے جو زیادہ دیر نہیں چلے گا۔ خواجہ سعد رفیق نے نیب عدالت کی پیشی کے موقع پر یہ پیش گوئی کی، معلوم نہیں انہوں نے یہ بات کسی معلومات کی بنیاد پر کی یا حالات کو دیکھتے ہوئے اپنی رائے اور تجزیہ دیا۔

ان کے خیال میں حکومت کو نالائقوں کے حوالے کر دیا گیا ہے جو منی بجٹ پر منی بجٹ لا کر مہنگائی کا طوفان لا رہی ہے۔ خواجہ سعد رفیق سمجھتے ہیں کہ موجودہ حکومت سول آمریت ہے اور جلد عوام کی اس سے جان چھوٹ جائے گی۔ خواجہ سعد رفیق کی بات درست ثابت ہو یا نہ ہو لیکن کچھ باتوں میں ان سے اختلاف ممکن نہیں کیونکہ سول آمریت کا مفہوم ان سے زیادہ کون سمجھتا ہو گا جن کے والدخواجہ رفیق نے اپنے دور کی سول آمریت کے خلاف جدو جہد میں جام شہادت نوش کیا تھا۔ کوئی خواجہ صاحب سے اتفاق کرے یا اختلاف، لیکن حقیقت یہی ہے کہ وہ ایک شہید باپ اور بہادر ماں کے نڈر بیٹے ہیں جو حالات کے جبر کے سامنے جھکنے کی بجائے اس سے لڑنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

مجھے یہ تو نہیں معلوم کہ موجودہ حکومت کے آنے کے بعد کون پچھتا رہا ہے اور کون نہیں، لیکن اتنا ضرور ہے کہ نئے پاکستان کے جو خواب دکھائے گئے تھے ملک کے سیاسی اور اقتصادی حالات دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ اس خواب سے متاثر ہو کر ووٹ دینے والے ضرور سوچ رہے ہوں گے کہ سوچا کیا تھا اور ہو کیا رہا ہے۔ ایک کروڑ نوکریوں کے وعدے پر امید لگانے والے جب اپنے ارد گرد دیکھتے ہیں تو انہیں پتہ چلتا ہے کہ پہلے سے نوکریوں پر لگے لوگ بھی تیزی سے فارغ ہو کر ان جیسے بیروزگاروں کی صف میں شامل ہوتے جا رہے ہیں۔

کچھ ایسا ہی معاملہ اپنے گھرکا خواب دیکھنے والوں کا ہے کہ پچاس لاکھ نئے گھروں کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن جب وہ بھی نظر دوڑاتے ہیں تومعلوم ہوتا ہے کہ پچاس پچاس ستر ستر سال سے قائم دکانیں اور مارکیٹیں گرائی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے تین نسلوں سے کاروبار کرنے والوں کی چوتھی نسل اب سڑک پر آ گئی ہے۔ عام شہری تو ایک طرف رہے، کوئی صحافی بھی اگر کسی وزیر سے کوئی سوال پوچھ بیٹھے تو وزیر صاحبان اس کا گریبان پکڑتے ہیں۔ اس میں کوئی صحافی کر بھی کیا سکتا ہے کہ پورے پاکستان کیلئے مثبت رپورٹنگ کرنے کا حکم ہے۔ بچپن میں صوفی تبسم کی ایک نظم ہم سارے بچے بہت شوق سے پڑھا کرتے تھے جس کا اختتام اس شعر پر ہوتا تھا کہ ’کیسی باتیں کرتی ہو، انڈے بیچو جوتے لو‘۔

لگتا ہے صوفی تبسم صاحب نے 1942 میں ہی 2018 کے حالات بھانپ لئے تھے کہ77 سال پہلے یہ نظم جیسے انہوں نے آج کے لئے لکھی تھی۔

پاکستان میں مہنگائی کا سونامی بلا وجہ نہیں آ رہا، پی ٹی آئی حکومت کے آنے کے بعد سے افراطِ زر میں تیزی سے اضا فہ ہو رہا ہے، شاہد آفریدی کی بیٹنگ کی طرح زیادہ تر چوکے چھکے ہی لگ رہے ہیں ۔ آج 40 سال بعد بھی خوب چھکے لگ رہے ہیں لیکن اب عمران خان کے ہاتھ میں کرکٹ کی بجائے افراطِ زر کا بیٹ ہے۔مسلم لیگ نواز کے دور میں پاکستان کی اقتصادی ترقی کی شرح 5.8 فیصد تھی جو پی ٹی آئی کے دور میں اب بہت کم رہ گئی ہے۔

یہ سیاسی بات بالکل بھی نہیں ہے بلکہ ورلڈ بینک، آئی ایم ایف ، ایشین ڈویلپمنٹ بینک اور انٹرنیشنل کریڈٹ ایجنسیوں سٹینڈرڈ اینڈ پور، موڈی اور فچ ، سب کی رپورٹوں میں صاف صاف لکھی ہوئی ہے جن کا تعلق نہ مسلم لیگ نواز سے ہے اور نہ پی ٹی آئی سے۔ یہ تو پروفیشنل عالمی مالیاتی ادارے ہیں جن کی رپورٹوں میں لکھا ہے کہ مسلم لیگ نواز کی حکومت اگر جاری رہتی تو اقتصادی ترقی کی شرح 2019 میں 6.2 فیصد ہوتی لیکن اب پی ٹی آئی دور میں یہ 3 فیصد تک گر جائے گی ۔ جب اقتصادی ترقی نصف رہ جائے تو ظاہر ہے پاکستان میں کاروباری ادارے، صنعتیں اور سروسز ادارے بند ہو جائیں گے جن کی وجہ سے ہزاروں لاکھوں لوگ بیروزگار ہو جائیں گے۔

آنے والے مہینوں میں مہنگائی اور بیروزگاری کا سونامی تیزی سے بڑھتا ہوا آرہا ہے۔ عمران خان اپنی ہر تقریر میں یوتھ (نوجوانوں) کا ذکر کرتے ہیں کہ ملک کی دو تہائی آبادی 30 سال سے کم عمر ہے اور یہ پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ ہے۔ یقیناًیہ بہت بڑا اثاثہ ہے اگر ملک میں کاروباری حالات اچھے ہوں اور اقتصادی ترقی کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہو ، لیکن اگر اقتصادی ترقی کی شرح آدھی رہ جائے تو یہ کروڑوں بیروزگار ایٹم بم سے زیادہ تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ نوجوان، مزدور، کسان، پیشہ ورانہ اور ہنر مند لوگ اور کاروباری اداروں میں ملازمت کے خواہشمند کہاں جائیں؟ افراطِ زر ہماری معیشت، ہمارے بجٹوں اور لوگوں کو نگل جائے گاکہ اب خود پی ٹی آئی حکومت بتا رہی ہے کہ اس سال اقتصادی ترقی کی شرح صرف 3فیصد رہے گی۔

روپے کی بے قدری، سٹاک مارکیٹ کا تیزی سے گرنا، گردشی قرضوں میں ہوشربا اضافہ، برآمدات میں اضافہ نہ ہونا، شرح سود میں اضافہ اورزراعت کے شعبہ کی تباہی وغیرہ وغیرہ کا ایک ہی منطقی انجام ممکن ہے اور وہ افراطِ زر کا نہ رکنے والا سلسلہ۔ جب کوئی ملک اقتصادی طور پر گرتا ہے تو اس کے تمام سسٹم فیل ہو جاتے ہیں اور یہ بہت بڑا سیکورٹی رسک بھی بن جاتا ہے۔

جب پاکستان کے حالات کو سامنے رکھا جائے تو کسی بھی تبدیلی کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ لنگڑی معیشت دور تک نہیں بھاگ سکتی اور سیاسی نا تجربہ کاریاں اگر ساتھ مل جائیں تو سیکورٹی رسک بہت حد تک ممکن ہو جاتا ہے۔

مجھے یہ کالم کئی قسطوں میں لکھنا پڑا ہے کیونکہ کروڑوں پاکستانیوں کی طرح میرے یہاں بھی بجلی بہت دنوں سے ناپید ہے، کبھی آ جاتی ہے تو تھوڑا بہت کام چل جاتا ہے لیکن کئی دنوں سے موبائل فون، لیپ ٹاپ، انٹرنیٹ ڈیوائس وغیرہ زیادہ تر ان چارجڈ ہی ہیں۔

نوجوان بجلی نہ ہونے کی وجہ سے کافی پریشان ہیں لیکن میں چونکہ پرانے وقتوں کا آدمی ہوں اس لئے سمجھتا ہوں کہ انڈوں، مرغی اور کٹوں کی وجہ سے ملک کی طرح میری اکانومی بھی نہ صرف چلے گی بلکہ بہت ترقی بھی کرے گی۔ ٹرانسپورٹ کا بھی مجھے زیادہ مسئلہ اس لئے نہیں لگتا کیونکہ اخباری اطلاعات کے مطابق پاکستان گدھوں کی تعداد میں دنیا بھر میں تیسرے نمبر پر آچکا ہے، اس لئے خواجہ سعد رفیق سمیت سب پاکستانیوں کے لئے میرا مشورہ یہی ہے کہ گھبرانا نہیں ہے۔

جہاں تک خواجہ صاحب کی یہ بات کہ عمران خان کو لانے والے پچھتا رہے ہیں تو اس ضمن میں میری گذارش ہے کہ عام شہریوں سے دل کی کیفیت ضرور پوچھنی چاہئے جن کا خیال تھا کہ عمران خان کے آتے ہی دودھ اور شہد کی نہریں بہیں گی ۔مجھے نہیں معلوم انہیں پچھتاوا ہے یا ابھی تک ان کی دنیا امید پر قائم ہے۔

مزید : رائے /کالم