عمران خان کے چہار درویش

عمران خان کے چہار درویش
عمران خان کے چہار درویش

  

میرا آج بھی یہی موقف ہے کہ کپتان کے ساتھ بڑبولے وزراء نہ ہوتے تو ان کی آدھی سے زائد مشکلات بھی کم ہوتیں اور سیاسی انتشار بھی اتنا نہ بڑھتا۔ اس پر میں پہلے بھی کئی کالموں میں اپنے تحفظات کا اظہار کرچکا ہوں اور اب پھر سیاسی ماحول کی گندی زبان اور خطابات دیکھ کر مجھے لگ رہا ہے کہ وزراء نے وزیر اعظم کو اپنے اعمال سے دشنام طرازی کا ہدف بنا دیا ہے۔

ان لوگوں کو نجانے کس نے یہ مشورہ دیا ہے کہ صبح و شام اپوزیشن پر جملے کسو، رقیق حملے کرو، انہیں مختلف ناموں سے پکارو اور ایسے الزامات لگاؤ جن کا ثابت ہونا ابھی باقی ہے ۔میں نے ایسے چار وزراء کی خصوصی توجہ کے ساتھ ساری سرگرمی دیکھی ہے اور اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ عمران خان کا امیج اس سے کہیں بہتر ہوتا، جتنا آج ہے، اگر یہ وزراء اپنی زبانیں بند رکھتے۔ اب ظاہر ہے میری اس بات پر یہ سوال تو اٹھے گا کہ آخر وزیر اعظم عمران خان کیوں خاموش ہیں، کیوں لاتعلق ہیں اور کیوں ان وزراء کی اڑائی ہوئی اس گرد کا نوٹس نہیں لے رہے جو خود ان کے دامن تک پہنچ رہی ہے؟ ان چار وزراء میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری، وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید، وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا اور صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان شامل ہیں، حکومت میں آکر تو عزت بچانا پڑتی ہے خاموش رہ کر کام کرنا پڑتا ہے، لیکن یہاں عجیب ماجرا دیکھنے میں آیا ہے، اپوزیشن کا کوئی بندہ چھینک بھی مارتا ہے تو یہ وزراء فوراً ٹی وی سکرین پر آکر الٹا سیدھا جواب دینا ضروری سمجھتے ہیں ۔شاید یہ ان کا شوق ہے کہ روزانہ ان کی شکل ٹی وی پر نظر آتی رہے حالانکہ بے مقصد شکل دکھانے سے کہیں بہتر ہے کہ آدمی اپنی شکل دکھانا کم کرے۔

اب چند روز پہلے فیصل واوڈا کے اس رویئے کو ہم کیسے ایک وزیر کا رویہ کہہ سکتے ہیں جس میں انہوں نے شہباز شریف کے بلاوے پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے انکار کیا اور انہیں چور، ڈاکو کہہ کر مخاطب کرتے رہے پھر یہ کیا انداز بیان ہے کہ میں کسی کے باپ کا نوکر نہیں ہوں کہ بلاوے پر پیش ہو جاؤں۔ جب کسی شخص کو عہدہ مل جاتا ہے تو اس کی ذاتی شناخت ختم ہو جاتی ہے۔ وہ بطور ایک ادارے کے کام کر رہا ہوتا ہے۔ شہباز شریف پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین بن گئے ہیں تو اب وہ چیئرمین ہیں ان کے بارے میں چور، ڈاکو، لٹیرے کے خطابات کسی کو زیب نہیں دیتے ۔

یہ تو اس وقت سوچنا چاہتے تھا جب اپوزیشن شہباز شریف کو چیئرمین پی اے سی بنانے کا مطالبہ کر رہی تھی۔ بنایا تو خود حکومت نے ہے ،پھر یہ اگر مگر کیوں؟ فیصل واوڈا کو ابھی تک وزیر بننے کا شاید یقین نہیں آ رہا، کیونکہ وزیر بننے کے بعد آپ گلی محلے کی زبان استعمال نہیں کر سکتے۔ بطور وزیر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے پیش ہونا معمول کی بات ہے، اس میں یہ کہنا کہ میں کسی کے باپ کا نوکر نہیں، ایک بہت بڑی حماقت ہے پھر یہ کہنا کہ میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو جوابدہ نہیں وزیر اعظم عمران خان کو جواب دہ ہوں، ایک بہت بڑی لاعلمی ہے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی جوابدہی کا ایک ایسا فورم ہے جو وزیر اعظم کو بھی طلب کر سکتا ہے، پھر کسی وزیر کے لئے ایسے مزاجِ شاہانہ کی کہاں گنجائش ہوتی ہے، جیسا فیصل واوڈا نے پایا ہے۔ آپ پریس کانفرنس کرتے ہیں تو فرمانِ شاہی سنانے نہیں آتے ،بلکہ صحافیوں کے سامنے اپنے خیالات پیش کرتے ہیں۔ ان پر اگر کوئی صحافی سوال پوچھ لے تو اگر آپ آپے سے باہر ہو جاتے ہیں تو آپ سے زیادہ کمزور آدمی کوئی نہیں ۔

فیصل واوڈا نے اپنی یہ کمزوری اسلام آباد میں صحافی کے سوال پر ظاہر کی ا ور پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے۔ آیا ایسے کھلاڑی کپتان کی ٹیم کو جتوا سکتے ہیں؟

شیخ رشید نے تو بالکل ہی انوکھا انداز اپنا رکھا ہے۔ وہ اطلاعات کی وزارت چاہتے تھے مگر عمران خان راضی نہ ہوئے، کیونکہ وہ جانتے تھے، کہ شیخ صاحب کو کیمروں کے سامنے رہنے کی عادت ہے اور اس کے لئے وہ کوئی بڑھک بھی مار سکتے ہیں۔ بڑھکیں تو وہ ریلوے کا وزیر بن کر بھی صبح و شام مار رہے ہیں اور آج کل تو ان کی زبان پر شام سویرے عمران خان کا اس حوالے سے تذکرہ رہتا ہے کہ نجانے انہوں نے شہباز شریف کو چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کیوں تسلیم کیا؟ کمال ہے کابینہ کا ایک وزیر پوری حکومت کے فیصلے کو چیلنج کر رہا ہے اور ساتھ ہی یہ دھمکی بھی دے رہا ہے کہ وہ شہباز شریف کو ہٹانے کے لئے یہ کیس سپریم کورٹ لے جائے گا۔ اس کیس میں وہ فریق کس کو بنائیں گے۔ حکومت بھی لازمی فریق بنے گی، کیونکہ اس کی آشیر باد بھی شامل ہے ۔تو کیا وفاقی وزیر اپنی ہی حکومت کو عدالت میں لے جائے گا۔

اصولی طور پر میرا بھی یہی خیال ہے کہ شہباز شریف کو اس وقت تک یہ عہدہ نہیں لینا چاہئے تھا جب تک وہ نیب کیسوں سے باعزت بری نہ ہو جاتے۔ یہ اس کا ایک اخلاقی پہلو تھا، جسے ضرور سامنے رکھا جانا چاہئے تھا، لیکن اگر نہیں رکھا گیا تو اب کوئی امر مانع نہیں کہ شہباز شریف پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے کام نہ کر سکیں۔ ان کی اسمبلی رکنیت معطل نہیں ہوئی۔ وہ اپوزیشن لیڈر بھی ہیں، کسی عدالت سے سزا یافتہ بھی نہیں اور نہ ہی کسی عدالت نے انہیں عوامی عہدے کے لئے نااہل قرار دیا ہے۔

اسے آپ اپنے سیاسی نظام کی خامی کہیں یا سیاسی ’’اخلاقیات کی کمزوری‘‘ مگر حقیقت یہی ہے کہ نیب کو مطلوب یا نیب کی حراست میں بیٹھا ہوا کوئی منتخب نمائندہ ملک کا وزیر اعظم بھی بن سکتا ہے، بشرطیکہ وہ قومی اسمبلی کا رکن ہو۔ سو اس بحث میں پڑنا فضول ہے کہ شہباز شریف چیئرمین کیسے بن گئے؟ البتہ صرف سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لئے آپ کوئی طوفان کھڑا کر سکتے ہیں شیخ رشید کا موقف بھی وہی ہے جو فیصل واوڈا کا ہے کہ ہم ایک چور کے بلاوے پر نہیں جائیں گے۔

پھر وہ آئے روز پریس کانفرنس کر کے شہباز شریف کو ملک کا سب سے بڑا لٹیرا قرار دیتے ہیں، حتیٰ کہ یہ بھی کہہ جاتے ہیں کہ آصف علی زرداری کی کرپشن تو ان کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ اب یہ سیاسی دعویٰ تو ہو سکتا ہے، عملاً تو ابھی شہباز شریف کو کسی مقدمے میں سزا نہیں سنائی گئی۔

شیخ رشید کی یہ پریس کانفرنسیں سیاسی ماحول کو بلا وجہ کس طرح گرم کر رہی ہیں، اس کا اندازہ رانا ثناء اللہ کی پریس کانفرنس سے کیا جا سکتا ہے، جس میں انہوں نے شیخ رشید کو انتہائی نازیبا القابات سے نوازا ہے ۔شیخ رشید نے کہا کہ مارچ میں جھاڑو پھر جائے گا اور رانا ثناء اللہ اور مشاہد اللہ نے کہا ہاں عمران خان سمیت پوری کابینہ اندر ہو جائے گی۔ گویا ’’کرے کوئی بھرے کوئی‘‘ کے مصداق باتیں وزراء کرتے ہیں اور نزلہ وزیر اعظم عمران خان پر گرتا ہے۔ عمران خان کے چہار درویشوں میں تیسرا نمبر فواد چودھری کا ہے۔

پہلے دن سے وہ حکومت کے لئے باعث ہزیمت بنے ہوئے ہیں اب تو یہ واضح ہو گیا ہے کہ وہ جھوٹ سے بھی کام لیتے ہیں اور بے پر کی بھی اڑاتے ہیں ہیلی کاپٹر کے 55 روپے کلومیٹر خرچ کے بیان سے لے کر پوری اپوزیشن کے جیل جانے کی پیش گوئی تک وہ اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں آج سپریم کورٹ پوچھتی ہے کہ 4 ماہ میں حکومت نے ایک بھی قانونی بل منظور نہیں کرایا سب جانتے ہیں کہ فواد چودھری کے مظہر شاہی بیانات نے اسمبلی کے ماحول کو مچھلی منڈی بنایا اور اپوزیشن نے بار بار واک آؤٹ کیا۔

اگر حکومت کے وزراء اس بات کو اپنی کامیابی سمجھ لیں کہ ان کی تقریر سے اپوزیشن واک آؤٹ کر جاتی ہے تو ان کی سیاسی تربیت ہونے والی ہے حکومت کی کامیابی یہ ہے کہ ایوان پُر امن انداز میں چلتا رہے کیونکہ ایوان چلے گا تو قانون سازی بھی ہو گی اور سیاسی استحکام بھی نظر آئے گا۔ وزیر اطلاعات فواد چودھری نے بد قسمتی سے یہ سمجھ لیا ہے کہ جتنا اپوزیشن پر تنقید کریں گے، اتنا ہی کامیاب وزیر اطلاعات قرار پائیں گے۔ آج حالت یہ ہو گئی ہے۔ کہ وہ حکومت کا مثبت امیج ابھارنے کے لئے کوئی سنجیدہ بات بھی کرتے ہیں تو اس پر مزاح کا گمان ہوتا ہے۔

گویا وہ اپنا سنجیدہ چہرہ گنوا بیٹھے ہیں۔ سب سے بڑی خرابی یہ ہوئی کہ ان کے پکڑ دھکڑ والے بیانات کے ذریعے احتساب کا عمل متنازعہ ہوا۔ اپوزیشن یہ اعتراض کرتی رہی کہ جو باتیں نیب کو بتانی چاہئیں وہ وزراء کیسے بتا رہے ہیں کیا یہ دونوں میں گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے؟ رہی بات پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کی تو ان پر ایک پھبتی باز وزیر کا گمان ہوتا ہے۔

وہ جب نوازشریف اور شہباز شریف کا تضحیک آمیز انداز میں ذکرکرتے ہیں تو صاف لگتا ہے کہ وہ اپنے قد سے بڑی بات کر رہے ہیں۔ پھر انہیں پنجاب کے معاملات تک محدود رہنا چاہئے مگر وہ سندھ کی کرپشن اور آصف علی زرداری پر بھی تیر و تفنگ برساتے ہیں۔ یہ چاروں وزراء یہ نہیں جانتے کہ وہ عمران خان کو اپنی نادان دوستی سے کتنا نقصان پہنچا رہے ہیں۔

شہرہ آفاق کتاب ’’باغ و بہار‘‘ میں چار دریش اپنی حماقتوں سے کیا کچھ نہیں کرتے، مگر میرا خیال ہے کہ اگر آج کے چہار درویشوں پر لکھنے کا موقع ملے تو باغ و بہار میں حماقتوں کی نئی تاریخ رقم ہو جائے۔

مزید : رائے /کالم