افغانستان: وہ جارہا ہے کوئی شبِ غم گزار کے!

افغانستان: وہ جارہا ہے کوئی شبِ غم گزار کے!
افغانستان: وہ جارہا ہے کوئی شبِ غم گزار کے!

  

آخر 18 سال بعد امریکہ نے فیصلہ کر ہی لیا ہے کہ وہ افغانستان سے چلا جائے۔ گزشتہ 18برسوں میں 18ہزار کالم تو بلامبالغہ اس موضوع پر لکھے گئے ہوں گے کہ امریکہ پہلے اکیلا کیوں یہاں آیا، پھر اپنی ناٹو کیوں ساتھ لایا۔ پھر ناٹو کیوں واپس چلی گئی اور دوبارہ نہ آئی اور اب اگر اتنی رسوائیوں کے بعد واپسی ہی اختیار کرنا تھی تو اس کے محرکات و مضمرات پہلے کیا تھے اور اب کیا ہوں گے۔۔۔ ان میں سے ایک موضوع پر کئی کالم، مقالے اور کتابیں لکھی گئیں، لکھی جا رہی ہیں اور آئندہ بھی لکھی جاتی رہیں گی۔۔۔ بنا بریں آپ سوال کر سکتے ہیں کہ اس گھسے پٹے موضوع پر کرنل جیلانی کیوں قلم اٹھا رہا ہے؟۔۔۔ آپ کے اسی اعتراض کا جواب دینے کی کوشش کروں گا۔

پہلے تو مختصراً بار بار کی چبائی ہوئی باتوں اور واقعات کی جگالی ایک بار پھر دیکھ لیجئے۔۔۔ پہلی بات یہ ہے کہ امریکہ نے اپنی جنگِ آزادی (1776ء) کے بعد آج تک سمندر پارآکر اتنی طویل جنگ (18سال) نہیں لڑی۔ پہلی عالمی جنگ کے آخری ایک ڈیڑھ سال میں امریکی افواج نے بحراوقیانوس عبور کیا اور لہو لگا کر شہیدوں میں مل گیا۔ اس جنگ کے فاتحین میں امریکہ کا رول میدانِ کارزار میں بہت کم تھا اور میدان انصرام (Logistics) میں بہت زیادہ تھا۔

یعنی اس جنگ میں جو انصرامی امداد، اتحادیوں کو امریکہ نے فراہم کی وہ بے بہا تھی اور بعض مبصروں کا یہ تجزیہ بجا ہے کہ امریکن لاجسٹک سپورٹ کے بغیر اتحادی یہ جنگ نہیں جیت سکتے تھے۔۔۔ یہ جنگ چار سال تک جاری رہی۔

دوسری عالمی جنگ کا دورانیہ 6سال تھا اس میں امریکی افواج نے بھرپور لڑاکا اور لاجسٹک رول ادا کیا اور اس کا خاتمہ بھی امریکی جوہری بموں نے کیا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد کوریا وار شروع ہوئی جو3سال (1950ء تا 1953ء) جاری رہی۔ نتیجہ کچھ بھی نہ نکلا۔

ایک طرف امریکہ تھا اور دوسری طرف شمالی کوریا اور چین تھے۔ اس کی جنگ بندی جو 1953ء میں ہوئی اب تک (65برس گزرنے کے بعد بھی) قائم ہے۔۔۔۔ کورین وار کے بعد وہ جنگ شروع ہوئی جو اس افغانستان جنگ سے پہلے دورانیئے کے حساب سے طویل ترین جنگ تھی۔ ایک طرف امریکہ جنوبی ویت نام کو بچانے آیا تھا اور دوسری طرف روس اور چین شمالی ویت نام کی پشت پر تھے۔ یہ جنگ 1963ء میں شروع ہوئی اور 1975ء میں ختم ہوئی۔ ان 12برسوں میں امریکی فوج کے 60ہزار آفیسرز اور جوان مارے گئے اور ایک بڑی تعداد زخمی ہوئی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ جانی نقصان امریکی افواج کا سب سے بڑا نقصان تھا جس کی کچھ بھی پروا امریکہ کو نہیں تھی!

یہ پروا کیوں نہیں تھی۔۔۔ اس کا جواب بڑا عجیب و غریب اور دلچسپ ہے۔ امریکہ اپنی فوج کی ہلاکتوں کی کبھی پروا نہیں کرتا۔ اس کا ڈاکٹرین ہے کہ جب تک کسی فوج میں لڑنے کا دم خم باقی ہے، تب تک اسے جانی نقصانات کی پروا نہیں کرنی چاہیے۔

یہ ڈاکٹرین، اسلامی فوج کے ڈاکٹرین سے ملتا جلتا ہے۔ ویت نام کی یہ 12سالہ جنگ جب ختم ہوئی تو امریکہ کی افواج اور اس کی سویلین اور عسکری لیڈرشپ میں لڑنے کا حوصلہ بدستور قائم تھا۔تاہم امریکہ تلملا ضرور رہا تھا کہ اس عسکری ناکامی کی کتھارسس کیسے کی جائے۔ اس کا موقع اس نے 1990ء میں عراقی فوج کو شکست دے کر پا لیا۔ عراق اس جنگ میں تنہا تھا جبکہ امریکہ کے ساتھ اس کی درجنوں حواری / اتحادی افواج تھیں۔1990ء سے 2000ء تک کا عرصہ امریکہ کا سنہرا دور تھا۔ سوویت یونین نے افغان جہاد کے 10سالہ دورِ جنگ کے بعد خود ہی اپنی 15ریاستوں کو آزاد کر دیا تھا۔

اس لئے وہ اس قابل نہ تھا کہ کسی عالمی سطح کی جنگ میں اپنے کسی اتحادی کے لئے پراکسی جنگ لڑ سکتا۔ اسی اثناء میں 2001ء میں نو گیارہ کے بعد امریکہ نے افغانستان کا قصد کیا۔ یہاں طالبان کی حکومت تھی، اس کے سقوط میں کوئی رکاوٹ حائل نہ ہوئی اور امریکہ نے یہاں قدم جما لئے۔ اسی اثناء میں CIAنے خبر دی کہ عراق کے پاس جوہری بم ہیں۔ نیوکلیئر وارہیڈز کا نام تو نہ لیا گیا ان کی جگہ اجتماعی بربادی کے ہتھیاروں (WMD) کی اصطلاح گھڑی گئی اور عراق پر حملہ کر دیا گیا۔ عراق تو 1990-91ء کی مختصر جنگ میں پہلے ہی اپنے ایسٹ ٹینک ڈویژنوں سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔

اس وقت کے امریکی صدر بش سینئر نے سمجھا کہ فی الحال عراق پر زمینی قبضہ نہ کیا جائے۔ لیکن نو گیارہ ہوا تو بش سینئر کا بیٹا بش جونیئر صدرِ امریکہ تھا۔ وہ نیویارک کے ٹریڈ سنٹر کی تباہی دیکھ کر اتنا برہم ہوا کہ پہلے افغانستان سے طالبان کو بے دخل کیا اور پھر عراق کے مہلک اسلحہ جات کو تلف کرنے کے بہانے بغداد، بصرہ، موصل اور کرکوک میں اپنی فوجیں اتار دیں۔

روس اور چین خاموش رہے۔ ان کی باری کو ابھی دیر تھی۔اسی اثناء میں امریکی افواج لیبیا کو تاراج کرتی شام پر چڑھ دوڑیں اور مشرق وسطیٰ کا سارا عسکری توازن درہم برہم کرکے رکھ دیا۔

دراصل یہ توازن دوسری جنگ عظیم میں خود اتحادیوں ہی نے قائم کیا تھا وگرنہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک( زیادہ تر مسلمان) کیا تھے؟ اسرائیل ان کا اپنا قائم کردہ تھا اور باقی مسلم ممالک برائے نام آزاد کئے گئے۔مال و زر اور تیل کی امارت اور ہوتی ہے اور آزادی کے لئے عسکری امارت ایک دوسری جنس کا نام ہے۔

میں نے سطور بالا میں 2001ء سے لے کر آج تک کے 18برسوں کی ’جگالی‘ کر دی ہے تاکہ واقعات کا تسلسل قائم رہے۔۔۔ دریں اثناء افغانستان میں جنگ جاری رہی۔ اول تو افغانستان اور امریکہ کا کوئی مقابلہ نہ تھا لیکن پھر بھی سلام ہے افغانستان کے حریت پسندوں کو کہ انہوں نے ان دو عشروں میں اپنے ہزاروں لاکھوں فرزندوں کی قربانی دی لیکن کابل، قندھار اور ہرات وغیرہ کے شہری علاقوں کے علاوہ اپنے کوہ و دمن میں امریکیوں اور ناٹو افواج کے از سر تاپا غرقِ آہن افسروں اور سپاہیوں کو ناکوں چنے چبوا دیئے۔۔۔ ویت نام کے بعد امریکہ کی یہ طویل ترین جنگ ہے جس کا انجام نوشتہء دیوار ہے اور اگرچہ ویت نام کی طرح کوئی روس اور کوئی چین افغانوں کی پشت پر نہیں لیکن پھر بھی امریکہ نے زچ ہو کر اعلان کر دیا ہے کہ وہ مستقبل قریب میں افغانستان خالی کر دے گا۔۔۔ سوال یہ ہے کہ کیا چیز ہے جو امریکیوں کو اب تک افغانستان میں روکے رہی اور اب ان کی رخصتی کا سبب بن رہی ہے۔۔۔۔ یہی اس کالم کا موضوع ہے۔

امریکی میڈیا ایک عرصے سے اپنے صدر کی خارجہ اور دفاعی پالیسیوں کا نقاد ہے۔ ہماری طرح امریکی صحافی بھی کسی ایک پارٹی کے ثنا خواں اور دوسری کے (اللہ واسطے کے) نقاد ہوتے ہیں۔ ان میں ایک کانام رابرٹ کاپلان (Robert Kaplan) ہے اور وہ اپنے صدر کی سیاسی پارٹی (ری پبلکن) کا حامی ہے۔ شروع شروع میں تو وہ ٹرمپ کا مداح رہا لیکن جب دیکھا کہ وہ انتہا درجے کے متلوّن مزاج ہیں تو اب ان کی حمائت نہیں کرتا۔ وہ فری لانس صحافی ہے یعنی کسی ایک اخبار سے وابستگی نہیں۔ کچھ دن پہلے اس کا ایک کالم ’’دی نیویارک ٹائمز‘‘ کے صفحہ اول پر شائع ہوا۔(3جنوری 2019ء)۔ اس کا ایک پیراگراف درج ذیل ہے:

’’دنیا بھر میں افغانستان کے سوا کوئی دوسرا ملک ایسانہیں جو امریکی ایمپائر کے زوال کا نقیب ہو۔ اب طالبان پر فوج کی مدد سے فتح حاصل کرنے کا کوئی امکان نہیں رہا اورنہ ہی اس بات کے آثار ہیں کہ جب کبھی امریکہ، افغانستان سے نکلے گا تو اپنے پیچھے ایک ایسی کابل حکومت چھوڑ جائے گا جو جمہوری قدروں کی حامل ہو گی اور کچھ عرصے تک قائم رہ سکے گی۔

لیکن افسوس کہ واشنگٹن میں پالیسی سازوں کی برادری اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے قاصر ہے۔۔۔ ہزاروں امریکی ٹروپس آج بھی کنکریٹ اور فولاد سے بنی دیواروں کے پیچھے ان افغانوں سے چھپنے پر مجبور ہیں جن کی حفاظت کا عزم لے کر وہ 18برس پہلے افغانستان میں وارد ہوئے تھے لیکن اس کے باوجود واشنگٹن انتظامیہ میں اس موضوع پر کوئی بحث نہیں کی جاتی۔

یوں لگتا ہے کہ واشنگٹن ایک ایسا شہر ہے جو اپنی ہی ندامت اور فرسٹریشن کی دیواروں کے پیچھے پناہ لئے ہوئے ہے۔ چین، پاکستانی، ایرانی اور بھارتی سارے کے سارے افغانستان کے قرب و جوار میں بس رہے ہیں اور وہ اس ملک کے وسائل سے استفادہ کرنے کے لئے طرح طرح کے منصوبے بنا رہے ہیں جبکہ امریکہ یہاں قیام کرنے کے لئے 45ارب ڈالر سالانہ خرچ کر رہا ہے۔ براؤن یونیورسٹی کے شعبہ ء شماریات کے مطابق امریکہ اس جنگ میں اب تک دو ٹریلین ڈالر (دو ہزار ارب ڈالر) جھونک چکا ہے۔

اور اس کے بدلے میں کابل میں جو حکومت آج دکھائی دے رہی ہے وہ جونہی امریکی امداد بند ہوئی اشنکا ٹنکا ہو کر بکھر جائے گی۔۔۔ افغانستان کی یہ سرزمین یہاں کے پشتونوں، ازبکوں اور تاجکوں کے عزم صمیم کی قصیدہ خواں ہے۔ اس کا جغرافیہ، تاریخ،ثقافت، روایات اور نسلی آبادیاں اس کے استحکام کی شاہدِ عادل ہیں‘‘۔

ایک اور برطانوی کالم نگار اناتول لیون (Anatol Lieven) نے تو صرف ایک جملے میں امریکی زوال کی ساری داستان سمیٹ کر رکھ دی ہے۔ وہ لکھتا ہے : ’’دو ہزار ارب ڈالر کی یہ خطیر رقم ضائع نہیں کی گئی۔ اس کا ایک بہت بڑا حصہ ان افغان وار لارڈ کی جیبوں میں ڈالا گیا ہے جو طالبان سے جا ملنے کو تیار تھے۔

اگر ایسا ہوجاتا تو امریکہ 18سال تک یہاں نہیں ٹھہر سکتا تھا‘‘۔۔۔۔ امریکہ اب بھی یہی کوشش کر رہا ہے کہ جب آخری امریکی سپاہی افغانستان چھوڑے تو اس کو نکلنے کی اجازت اور مہلت دی جائے!۔۔۔ کام ایک خصوصی امریکی مشیرزلمے خلیل زاد کے ذمے ہے جو طالبان سے مذاکرات کر رہا ہے۔

امریکہ نے اس جنگ میں صرف مالی نقصان ہی نہیں اٹھایا بلکہ اپنے 4ہزار سے زیادہ فوجیوں کو ہلاک کروایا ہے اور تقریباً 70 ہزار زخمی ہو کر واپس امریکہ جا چکے ہیں لیکن ابھی تک ہسپتالوں میں گل سڑ رہے ہیں۔

لیکن جیسا کہ میں نے وپر عرض کیا امریکی ایک ظالم قوم ہیں۔ ان کو اپنے ہم قوم فوجیوں کی جان و مال کی کچھ پروا نہیں۔ وہ صرف اور صرف اپنی مین لینڈ (Main Land) کو بچانے کی فکر میں ہیں۔ یہ مین لینڈ ایک ایسا جزیرہ بن کر رہ گئی ہے جس کے چاروں طرف امریکہ نے ایک طرح کی دیوار چین تعمیرکی ہوئی ہے جو آج نہیں تو آنے والے کل میں ٹوٹ کے رہے گی۔

امریکہ نے افغانستان میں ٹھہرنے کے لئے بہت ہاتھ پاؤں مارے۔یہاں اتنا طویل عرصہ ٹھہرنے کے مقاصد میں تین باتیں بہت واضح تھیں۔۔۔ اول پاکستان کی جوہری استعداد کو ختم کرنا۔۔۔ دوم جنوبی ایشیاء (پاکستان، بھارت، سری لنکا، بنگلہ دیش وغیرہ) میں امریکی اثر و رسوخ قائم رکھنا ۔۔۔ اور سوم دنیا کی نئی ابھرتی ہوئی طاقت چین کے خلاف بحرہند کے خطے میں بند باندھنا۔)لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ کے یہ تینوں مقاصدبُری طرح ناکام ہو چکے ہیں اور مستقبل میں مزید ناکامیاں اس کا مقدر بننے والی ہیں۔

امریکہ کے ان تین مقاصد کے مقابلے میں پاکسان کے بھی تین مقاصد تھے جو الحمدللہ! تکمیل کی منزل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ میری مراد۔۔۔ اول پاکسان کی جوہری اور میزائل استعداد کی حفاظت اور ترویج و ترقی سے ہے۔۔۔ دوم سی پیک (CPEC) ایک حقیقت بن کر سامنے آ رہا ہے اور۔۔۔ سوم بحیرہ عرب میں پاکستانی ساحل کے ساتھ ساتھ اس کے خصوصی اقتصادی زون (EEZ) میں زیرِِ آب تیل کی تلاش کی کھدائی ہے۔ جس دن ایگزن کمپنی نے تیل اور گیس کی دریافت کی خوش خبری سنائی، اگلے روز افغانستان سے آخری امریکی فوجی ایک طویل ’’شب غم گزار کے‘‘ یہاں سے کوچ کر رہا ہو گا!

مزید : رائے /کالم