پاکستانی تاجرجرمنی میں انٹر نیشنل ہیم ٹیکس ٹیکسٹائل میلہ میں شرکت کریں‘ بیڈ شیٹس اینڈ اپ ہولسٹری مینوفیکچررز ایسوسی ایشن

پاکستانی تاجرجرمنی میں انٹر نیشنل ہیم ٹیکس ٹیکسٹائل میلہ میں شرکت کریں‘ بیڈ ...

فیصل آباد(بیورورپورٹ) آل پاکستان بیڈ شیٹ اینڈ اپ ہولسٹری مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے ترجمان نے کہا ہے کہ دنیا بھر کا سب سے بڑا انٹر نیشنل ہیم ٹیکس ٹیکسٹائل میلہ جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں منعقد ہو رہا ہے جس میں دنیا بھر کے تاجر ، ٹیکسٹائل مصنوعات کے خریدار ، برآمد و درآمد کنندگان کی بہت بڑی تعداد شرکت کر رہی ہے اس لئے اگر پاکستانی تاجروں نے ہیم ٹیکس میلہ میں شرکت نہ کی تو اربو ں ڈالرز کے برآمدی آرڈرز سے محروم ہو جائیں گے۔ بتایاکہ اگرچہ پاکستانی تاجروں سمیت فیصل آباد کے ٹیکسٹائل برآمد کنندگان نے مذکورہ میلہ میں شرکت کیلئے سٹال بک کروا رکھے ہیں

لیکن بجلی و گیس کی اعلانیہ و غیر اعلانیہ بندش نے انہیں چکرا کر رکھ دیا ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے پاس متعلقہ مصنوعات تیار نہ ہیں اور نہ ہی سیمپلز کی تیاری درست اندازمیں کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ میلہ کے دوران پاکستان کو کم از کم 8سے 10ارب ڈالرز کے آرڈرز ملنے کا امکان ہے اس لئے اگر پاکستانی برآمدکنندگان نے اس4روزہ میلہ میں شرکت نہ کی تو وہ اتنے بڑے آرڈر سے محروم رہ جائیگا۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں جاری توانائی و گیس کا بحران معاشی ترقی کی رفتار میں 60 فیصد تک کمی کا سبب بن رہا ہے جبکہ صنعتوں میں گیس کی جبری بندش سے ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو نے سمیت بیرون ممالک تمام منڈیاں بھی پاکستان کے برآمدی تاجروں و ایکسپورٹرز کے ہاتھوں سے نکل جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ انٹرنیشنل ہیم ٹیکس فیئر برآمدی تاجروں کیلئے انتہائی اہمیت رکھتا ہے جہاں دنیا بھر سے لاکھوں برآمدی تاجر اپنی مصنوعات کو متعارف کروانے سمیت مستقبل کیلئے برآمدی معاہدے کرتے ہیں لیکن مختلف بحرانوں نے ملک و قوم کیلئے بھاری زرمبادلہ کمانے والے صنعتکاروں اور برآمدی تاجروں کیلئے مشکلات کھڑی کر کے ان حوصلے پست کر دیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر موجودہ صورت حال میں بہتری نہ لائی گئی تو ملک میں اربوں ڈالر کی مشینری زنگ آلود ہوکر سکریپ بن جائے گی اور صنعتوں سے منسلک چار کروڑ کے لگ بھگ صنعتی مزدور اور روزانہ دیہاڑی کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پالنے والے مزدور بیروزگار ہوکر فاقہ کشی میں مبتلا ہو جائیں گے ۔

مزید : کامرس