حکومت نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کیلئے نئے قواعد کی منصوبہ بندی کرلی

حکومت نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کیلئے نئے قواعد کی منصوبہ بندی کرلی

لاہور(اے پی پی )حکومت نے ملک میں نئی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کیلئے قواعد و ضوابط میں تبدیلی کی منصوبہ بندی کر لی ہے اور نئے قواعد کے تحت کسی بھی نئی آئل مارکیٹنگ کمپنی کو انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کیلئے سرمایہ کاری کی حد 50کروڑ روپے سے بڑھا کر 6ارب روپے کرنا ہو گی جس کا مقصد مزید نئی کمپنیوں کے قیام کیلئے سرمایہ کاروں کی حوصلہ شکنی کرنا ہے کیونکہ ملک میں پہلے ہی بڑی تعداد میں آئل مارکیٹنگ کمپنیاں کاروبار کر رہی ہیں۔پٹرولیم ڈویژن کے ذرائع کے مطابق اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 2003ء میں ملک میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے قواعد و ضوابط کی منظوری دی جن کے تحت 59 میں سے53کمپنیوں کو لائسنس جاری کئے گئے جو کہ ملک میں آئل مارکیٹنگ میں مسابقتی اعتبار سے کافی ہیں،حکومت چاہتی ہے کہ ملک میں اس وقت کاروبار کرنے والی کمپنیاں تیل کی ٹرانسپورٹ اور سٹوریج انفراسٹرکچر کی استعداد کو بڑھانے کیلئے مزید سرمایہ کاری کریں تا کہ ملک کے دور دراز علاقوں تک تیل کی سپلائی کو یقینی بنایا جا سکے جس سے مقابلے کی فضاء کوفروغ ملے گا،نیز نئی کمپنیوں کو کم سے کم ایکویٹی کیپٹل کی مد میں 3ارب روپے ادا کرنے کی بھی ہدایت کی جائیگی ،اس وقت ایک آئل مارکیٹنگ کمپنی کے سرمایہ کار کو انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کیلئے 50کروڑ روپے درکار ہوتے ہیں جبکہ ذرائع کے مطابق پٹرولیم ڈویژن نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کو سرمایہ کاری کے حجم کو6ارب روپے تک بڑھانے کی تجویز دی ہے تا کہ پٹرولیم مصنوعات کی ٹرانسپورٹیشن اور سٹوریج کی استعداد کار بڑھانے سمیت کمپنیوں کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنایا جا سکے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ نئی پالیسی کے تحت سرمایہ کاروں کو آئل کمپنی کے قیام کیلئے درخواست دینے کے وقت کم از کم ایکویٹی 3ارب روپے انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کا پلان جمع کروانے کی صورت میں ادا کرنے کی ضرورت ہو گی۔ذرائع نے بتایا کہ اس وقت ملک میں 59آئل مارکیٹنگ کمپنیاں کاروبار کر رہی ہیں جن کو نئی پالیسی کے تحت زیادہ سرمایہ کاری کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے،آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی(اوگرا)نے متعدد کمپنیوں کو لائسنس جاری کر رکھے ہیں لیکن بہت سی کمپنیاں آئل سٹوریج بلڈنگ کی صورتحال اور قواعد و ضوابط کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہیں،اس وقت پاکستان سٹیٹ آئل اور شیل پاکستان کے پاس تیل کو ذخیرہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے مگر تیل کے بحران سے نمٹنے کیلئے آئل ٹینکس نا کافی ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ پلان صوبوں اور ریجنز کی جانب سے ڈیمانڈ اور تنصیبات کی تفصیلات ،سٹوریج و ٹرمینلز اور مختلف مقامات کی نشاندہی کے مطابق مرتب کیا جائیگا۔

ذرائع کے مطابق پٹرولیم ڈویژن نے اپنی ایک سمری میں تجویز دی ہے کہ نئی کمپنی کو ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی سیلز سے قبل 20ہزار ٹن تک پٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل الگ الگ ذخیرہ کرنے کیلئے سٹوریج ٹینکس تعمیر کرنا ہونگے یا 20روز کی اوسط سیل کے برابر تیل کے ذخیرہ کی استعداد رکھنا ہو گی جو پہلے سے کہیں زیادہ ہے نیز نئی کمپنی کا انحصار درآمد پر بھی ہو گا او ر اسے پورٹ پر سٹوریج اور ٹرمینل کی سہولت کو بھی یقینی بنانا ہو گا۔

مزید : کامرس