تقریب پذیرائی کی جھلکیاں

تقریب پذیرائی کی جھلکیاں

ملتان(قاری محمد عبداﷲ سے ) *تقریب کے آغاز سے آدھا گھنٹہ قبل ہی (بقیہ نمبر40صفحہ12پر )

مہمانوں اور شرکا ء کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا ۔*مقررہ وقت سے پہلے ہی ٹی ہاوس کے ہال کی نشستیں بھر چکی تھیں ۔*جیسے ہی صاحب تقریب کی آمد ہوئی تو لوگوں نے ٹی ہاوس کے گیٹ پر پہنچ کر شوکت اشفاق کا بھرپور ، شاندار استقبال کیا ۔*ہر شخص پھولوں کے گلدستے اور تحائف پیش کرنے لگا جس پر انتظامیہ کی طرف سے ہدایت کی گئی کہ یہ تحائف تقریب کے اختتام پر پیش کیئے جائیں کیونکہ اب تقریب کا وقت ہوچکاہے ، جس پر ایک جم غفیر کے ہمراہ شوکت اشفاق ٹی ہاوس کے ہال میں داخل ہوئے جس پر شرکا نے اپنی نشستوں سے کھڑے ہو کر اور زوردار تالیوں میں ان کا استقبا ل کیا ۔*ہال میں موجود لوگوں سے شوکت اشفاق نے فردافردا مصافحہ کیا ۔*تقریب کا آغاز تلاوت کلام مجید سے کیا گیا جس کی سعادت مسحورکن آواز ، عالمی شہرت کے حامل قاری القراء عبدالغفار نقشبندی نے تلاوت کلام مجید پیش کی ۔*قاری عبدالغفار نقشبندی کو تلاوت کے لئے مدعو کرنے سے قبل قرارداد پیش کی گئی کہ انکی طویل تر خدمات ، شعبہ قراء ت سے وابستگی ، علم قرات کی ترویج پر موجودہ حکومت صدارتی ایوارڈ دے جس کی تما م شرکاء نے تائید کی ۔*قاری سعید نقشبندی نے ہدیہ نعت پیش کیا ۔*نظامت کے فرائض وائس چیئرمین بزم احباب رفیق احمد قریشی نے انجام دیئے ۔*خطبہ استقبالیہ ، تنظیم بزم احباب کا تعارف ڈائریکٹر ملتان آرٹس کونسل وانفارمیشن سیکرٹری سجاد جہانیہ نے پیش کیا ۔*شاعر اشعر حسن کامران نے شوکت اشفاق کی خدمات کے حوالے سے منظوم کلام پیش کیا۔ *کالم نگارپروفیسر نسیم شاہد نے اپنے خطاب میں مزاحیہ اور برجستہ جملے پیش کئے جس پر تقریب قہقوں سے گونج اٹھی اور محفل کشت زعفران بن گئی ۔*بعدازاں علامہ حامد سعید کاظمی نے بھی ایک برجستہ مزاحیہ جملہ کہاکہ میں اور شوکت اشفاق پیچھے رہ گئے ہم دونوں کا پیٹ آگے نکل گیا ہے ،ایک دور میں مونچھیں بڑھی ہوئی ہوتی تھیں اور اب پیٹ بڑھ گیا ہے جس پر ہال میں قہقوں کی گونج تھی ، اور حامد سعید کاظمی نے اپنے خطاب میں اس شعر کے ذریعے خراج تحسین پیش کیا کہ ملتے رہتے ہیں بہت لوگ تمہارے جیسے مگر سمجھ میں نہیں آتاکہ تمہارے میں کیاہے*تقریب تمام مہمان مقررین سیاسی سماجی مذہبی رہنماوں نے شوکت اشفاق کے ساتھ اپنی یادوں کے تذکرے کیئے اور انکی جرات مندانہ صحافت کے متعدد واقعات بیان کیئے۔*بزم احباب کی جانب سے صاحب تقریب کو مدعو کرنے سے پہلے ایک قرارداد پیش کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ شوکت اشفاق اپنے صحافتی کیریئر کی یاداشتوں ، اہم واقعات پر مشتمل کتاب ضرورترتیب دیں جس کے متعلق انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ جلد کتاب مرتب کرینگے ۔*کلمات تشکر بزم احباب کے جنرل سیکرٹری فیاض احمد اعوان نے پیش کئے ۔*شوکت اشفاق جب خطاب کے لئے ڈائس پر آئے تو شرکا ء نے اپنی نشستوں سے اٹھ کر ان کا استقبال کیا۔*شوکت اشفاق نے اپنے خطاب میں میزبانوں ، مہمانوں ، شرکا ء تقریب کا شکریہ اداکیا ۔*تقریب کے اختتام پر ممتاز جید عالم دین مفتی غلام مصطفی رضوی نے اختتامی دعا کرائی ۔*صدر فٹ بال ایسوسی ایشن جاوید اقبال نے شوکت اشفاق کی دستار بندی کی ۔*بزم احباب کے عہدیداران نے پھولوں کے گلدستے ، تحائف پیش کئے ۔* پھولوں کے گلدستے ، تحائف پیش کرنے والوں کا تانتا بندھا رہا کہ ٹی ہاوس کے سٹیج پر ہر طرف پھولوں کی بہاردکھائی دے رہی تھی ۔*سید فخرامام ، مخدوم جاوید ہاشمی ، محمد حنیف چوہان نے شوکت اشفاق کو یادگاری شیلڈ پیش کی ۔*لوگ جوق درجوق شوکت اشفاق کے ہمراہ سیلفیاں بنواتے رہے ۔* اختتام پر شرکا کو ریفریشمنٹ بھی پیش کی گئی۔

جھلکیاں

مزید : ملتان صفحہ آخر