بزم احباب کے زیر اہتمام ،گروپ جوائنٹ ایڈیٹر روزنامہ پاکستان شوکت اشفاق کے اعزاز میں تقریب پذیرائی

بزم احباب کے زیر اہتمام ،گروپ جوائنٹ ایڈیٹر روزنامہ پاکستان شوکت اشفاق کے ...

ملتان( سٹی رپورٹر)ممبر قومی اسمبلی، سابق سپیکر سید فخر امام نے کہاہے کہ ہم نے ترقی کی کئی منازل کو طے کرنا ہے ، قلم وقرطاس کی بدولت ترقی کی راہیں ہموار ہوئیں ، آج ملک میں قائد اعظم ؒ جیسے لیڈر کی ضرورت ہے ، شوکت اشفاق صحافت کا معتبر حوالہ ہیں ، شوکت اشفاق کی شخصیت میدان(بقیہ نمبر11صفحہ12پر )

صحافت میں رول ماڈل کی حیثیت کی حامل ہے ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے بزم احباب کے زیر اہتمام گروپ جوائنٹ ایڈیٹر روزنامہ پاکستان شوکت اشفاق کے اعزاز میں انکی صحافتی سماجی خدمات کے اعتراف میں ملتان ٹی ہاوس میں منعقدہ تقریب پذیرائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،انہوں نے کہاکہ آج ہم قلم وقرطاس ، مطالعہ ، بحث وتمحیص سے دور ہوچکے ہیں جو کہ ایک المیہ ہے ، اس وقت ملک کی تین بڑی پارٹیاں ایوان میں موجود ہیں تاہم اب بھی اور گزشتہ ادوار میں بھی بحث کا فقدان ہے ،جب تک ہم اسمبلی میں قومی سطحی اور قومی مفاد کے لئے بحث مباحثہ کو نہیں لائیں گے دیگر ممالک کامقابلہ ،ملکی ترقی ، مسائل کا خاتمہ محض خواب بن کر رہ جائیں گے،کیونکہ بحث ومباحثہ سے ہی آئین تشکیل پاتا ہے ، ہمیں خود کو اقوام عالم میں نمایاں کرنے کے لئے متحد ہوکر کام کرنے کی ضرورت ہے ، یہ افسوسناک امر ہے کہ یہاں کوئی بھی عالمی سطحی یونیورسٹی نہیں ہے ، ضرورت اس امر کی ہے کہ یہاں ایسی معیاری یونیورسٹی بنائی جائے جس میں پڑھنے کے لئے دنیا بھر سے لوگ خواہش مند ہوکر پڑھنے کے لئے ، تحقیق کے لئے آئیں ،شوکت اشفاق پرخلوص شخص ہیں ،انکی تحریر میں ہمیشہ خطے کی ترجمانی ہوتی ہے ، شوکت اشفاق جیسی شخصیت نے خطے کا نام بلند کیا ہے ، ایسے لوگ اور ان کا قلمی جہاد ملک میں عدل وانصاف کا بول بالا ہوگا اور ملک قائد اعظم ؒ کا پاکستان بنے گا ،اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سینئر سیاستدان ، مرکزی رہنما پاکستان مسلم لیگ ن مخدوم جاوید ہاشمی نے کہاکہ برصغیر میں ماضی سے اب تک صحافت کا اثر نمایاں ہے، عصر حاضر میں شوکت اشفاق نے صحافت کے میدان میں ان مٹ نقوش چھوڑے ہیں ، میرا صحافت سے گہر ا تعلق ہے صحافت اور سیاست لازم ملزوم ہیں ، میں ملک کی سیاسی وصحافتی تاریخ کا چشم دید گواہ ہوں ،مولانا ظفر علی خان ، مولانا محمد علی جوہر ، بہادر یاجنگ ، شورش کاشمیری تاریخ کا سنہر اباب ہیں ، آج ملک کا چیف جسٹس حسین نقی جیسے ہیرے کو نہ جانتا ہو تاریخ سے نا واقف ہو یہ بہت افسوسناک ہے، بحث وتمحیص ایک حقیقت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ،آج 18 ویں ترمیم کی بات کی جارہی ہے کہ یہ بحث کے بغیر پاس ہوئی ، ہم نے ضیاالحق کی اسمبلی میں بھی آئینی ترامیم کو تسلیم نہیں کیا تھا ، اور 18 ویں ترمیم کو بھی ووٹ نہیں دیا تھا ،جمہوریت اورصحافت بہت وسعت والی تھی جسے باندھ کر رکھ دیا گیا ، صحافیوں نے ہر دور میں قوم کی رہنمائی کی ہے شوکت اشفاق نے نہ صرف رائے عامہ کو ہموار کیا ہے بلکہ جنوبی پنجاب کے لئے آواز بلند کی ، یہ المیہ ہے کہ ہم 40 سال آئین کے بغیر رہنے والی قوم ہیں ،اب تک جتنے وزیراعظم رہے انکے پاس اختیارات نہیں تھے ، انہیں بے اختیار رکھا گیا عمران خان وزیر اعظم بنے ہیں سب کے لئے قابل قبول ہیں ، کرتارپوربارڈ ر کے حوالے سے سدھو نے کریڈٹ جنرل باجوہ کودیا ، حالانکہ اس کے لئے بات نواز شریف اور بے نظیر بھٹو نے بھی کی تھی ، اب ہونا یہ چاہئے تھا کہ عمران خان بطور وزیر اعظم کہتے کہ یہ ہماری کاوش ہے، انہوں نے کہاکہ میں فوج کا احترام کرتاہوں فوج ملک کا سب سے اہم ، معتبر قومی ادارہ ہے ، پوری قوم فوج کے شانہ بشانہ ہے ، وائس چانسلر محمد نواز شریف یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر راو آصف علی نے کہاکہ اس تقریب میں تمام طبقات کی نمائندگی اور شرکت ہی شوکت اشفاق کی خدمات کا اعتراف ہے ،2016 میں جب یونیورسٹی میں نے سنبھالی تویونیورسٹی کا نظام جام تھا اس کو روان کرنے میں شوکت اشفاق کی حوصلہ افزائی کا نمایاں کردار ہے اسی طرح ملتان میں مینگو فیسٹیول کے انعقاد کا کریڈٹ بھی شوکت اشفاق کو جاتاہے یہ ان کا آئیڈیا تھا ،میں انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں ،تقریب سے خطاب کر تے ہوئے صاحب شام وتقریب گروپ جوائنٹ ایڈیٹر شوکت اشفاق نے کہاکہ قلم وقرطاس برداشت وتحمل کا درس دیتے ہیں ، آج ہمارے معاشرے میں تربیت اور برداشت ناپید ہوچکی ہے،جس کو بحال کرنے کی ضرورت ہے ، مطالعہ سے دوری کے باعث معاشرہ عدم توازن کا شکار ہوچکاہے ، ملتان شہر مختلف اعتبار سے روایات کا امین ہے ، بزم احباب نے جو پذیرائی کا اعز از بخشا ہے میں ان کا شکر گزار ہوں ، اس وقت مختلف مذہبی ، ثقافتی روایات دم توڑ چکی ہیں جنہیں زندہ کرنے کی ضرورت ہے میری صحافتی کامیابیاں اساتذہ کی تربیت کی مرہون منت ہیں،ہم نے صحافتی اقدار کی پاسداری کو مقدم سمجھا ہے ،اہلیان ملتان کی محبتیں دنیا بھر میں معروف ہیں آج مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے نمائندہ افراد کی طرف سے پذیرائی میرے لئے باعث مسرت ہے ، میں نے قلم کی ذمہ داری کو اداکرتے ہوئے حقائق کو ہی بیان کیا ہے اور معاشرتی توازن کی بحالی کی کوشش کی ہے ، ملتان مسائل سے پاک ہو یہ میری اولین خواہش ہے اور اس کے لئے میں قلم سے نشاندہی اور ذاتی کا وش کو فرض سمجھتا ہوں اور اسے ادا کیا ہے ، آج بزم احباب سمیت تما م شعبہ جات کے احباب کا شکرگزارہوں کہ میری عزت افزائی کی اور پذیرائی بخشی میں قلمی سفر کومزیدموثر انداز میں جاری رکھوں گا ،سابق وفاقی وزیر علامہ سید حامد سعید کاظمی نے کہاکہ شوکت اشفاق جوانی دور سے ہی نڈر تھے او ر اب بھی بے باک صحافت کر رہے ہیں جو کہ ان کی انفرادیت ہے ہم انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں ،سینئر قانون دان سابق جج حبیب اللہ شاکر نے کہاکہ روزنامہ پاکستان دراصل پاکستان کا ترجمان ہے شوکت اشفاق نے ہمیشہ حق سچ کی بات کی پیا ر کوبانٹا ہے اور یہ ان کا اعزاز ہے کہ یہ وسیع سوچ وفکر کے حامل ہیں ،ڈی سی ملتان مدثر ریاض نے کہاکہ شوکت اشفاق دلیرانہ صحافت کے سالار ہیں ، شوکت اشفاق میں صحافت کی اعلی اقدار بدرجہ اتم موجود ہیں انہوں نے ایڈمنسٹریشن کے حوالے سے بھی رہنمائی کی اور ہمیشہ حق بات کرتے ہیں،ممتاز صحافی دانشور عبدالجبار مفتی نے کہاکہ فخرامام فخر پاکستان ہیں ، جاوید ہاشمی سیاست وجمہوریت جبکہ شوکت اشفاق صحافت کا فخر ہیں،بہترین دوست ساتھی ہیں ہم نے صحافتی میدان کی سیاست بھی اکٹھے کی جو کہ خاصا ٹیکنیکل کام ہے تاہم شوکت اشفاق کی بدولت ہم نے یہ سفر بخیر واسلوبی طے کیا ،ریذیڈنٹ ایڈیٹر روزنامہ خبریں ملتان میاں غفار احمد نے کہاکہ شوکت اشفاق میرے لئے استاد کا درجہ رکھتے ہیں میرے صحافی بننے اور میرے قلم کی روانی میں شوکت اشفاق کا بنیادی کردار ہے ، صحافت عرق ریز ی کاکام ہے صحافی ایک عرق ریزی کے بعد ہی خبررپورٹ کر تاہے مجھے جب بھی خبر کی تصدیق کی ضرورت ہوتی ہے تومیرا انتخاب شوکت اشفاق ہوتے ہیں،ریذیڈنٹ ایڈیٹر روزنامہ دنیا ملتان ڈاکٹر امجد بخاری نے کہاکہ جب اپوزیشن کمزور ہوجائے تو صحافت نے اپوزیشن کا کردار اداکیا ہے اور شوکت اشفاق میدان صحافت میں بہترین اپوزیشن لیڈر ثابت ہوئے ہیں ، صحافت ایک مشکل کام ہے تاہم شوکت اشفاق اسے احسن اندا زمیں انجام دے رہے ہیں،سینئر کالم نگارو ماہر تعلیم پروفیسر نسیم شاہد نے کہاکہ وفاداری او ر مستقل مزاجی شوکت اشفاق میں کوٹ کو ٹ کر بھری ہوئی ہے ، شوکت اشفاق نے خطے کے حقوق کی بقا کی جنگ لڑی ہے جسے ہر شخص سراہتا ہے،ممتاز ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر حمید رضا صدیقی نے کہاکہ شوکت اشفاق جیسے لوگ معاشرے میں بہت کم ہیں یہ لوگ معاشرے کے لئے مثل نعمت ہیں ، معروف شاعر ، دانشور کالم نگا ر خالد مسعود خان نے کہا کہ صحافتی روایات کے امین کا نام شوکت اشفاق ہے ،یہ نہ صرف صحافی بلکہ بہترین مدبر انہ شخصیت کے مالک ہیں ، ایسے لوگ انتہائی نایا ب ہوتے ہیں انکی پذیرائی خوش آئندہے ،ناظم اعلی جماعت اہلسنت پنجاب علامہ فاروق خان سعیدی نے کہاکہ شوکت اشفاق نے کبھی بھی الفاظ کا سودا نہیں کیا ،شوکت اشفاق بے داغ صحافت کے امین ہیں اور ایک جراء ت مند صحافی ہیں،ناظم اعلی وفاق المدارس العربیہ جنوبی پنجاب مولانا زبیر احمد صدیقی نے کہاکہ روزنامہ پاکستان ملی اقدار کا حامل ادارہ ہے ، اس ضمن میں جناب مجیب الرحمن شامی کا کردار مستحن ہے اور ملتان سے شوکت اشفاق بھی اسی نہج پر گامز ن ہیں، شوکت اشفاق عادل ، صادق صحافی ہیں،جید عالم دین سابق ممبر مرکزی رویت ہلال کمیٹی مفتی عبدالقوی نے کہاکہ شوکت اشفاق اپنے نام کے مثل شفیق صحافی ہیں اور حق گو ، بے باک صحافی ہیں انکی پذیرائی مستحسن امر ہے،ڈائریکٹر ملتان آرٹس کونسل سجاد جہانیہ نے کہاکہ شوکت اشفاق ہمارے خطے کا فخر اورمان ہیں انکی خدمات کسی سے مخفی نہیں زمانہ انکی خدمات کامعترف ہے ،یہ تقریب پذیرائی انکی خدمات کے اعتراف میں ناگزیر تھی باعث مسرت ہے کہ اس کا قرعہ بزم احباب کے نام نکلا ،ممتاز دانشور شاعر ادیب کالم نگار شاکر حسین شاکر نے کہاکہ شوکت اشفاق صحافت کے آفتاب وماہتاب ہیں ، آج کی تاریخ ساز تقریب شوکت اشفاق کی خدمات کے اعتراف کامنہ بولتا ثبوت ہے ہم انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں،مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے مرکزی رابطہ سیکرٹری و ضلعی امیر جمعیت علامہ عبدالرحیم گجر نے کہاکہ مستقل مزاجی شوکت اشفاق کا طرہ امتیاز ہے ،انہوں نے کبھی قلم کی حرمت پر آنچ نہیں آنے دی میں سینیٹر ساجد میر امیر جماعت سمیت پوری جماعت کی جانب سے شوکت اشفاق کی خدمات کو ہدیہ تبریک پیش کرتا ہوں ،ایم پی اے محمد ندیم قریشی نے کہاکہ یہ تقریب پذیرائی ملتان کے لئے باران رحمت کی مانند ہے ، شوکت اشفاق خطے کا فخر ہیں محبتوں کے امین صحافی ہیں اور مثبت سوچ کے حامل صحافی ہیں،سابق ایم این اے شیخ طارق رشید نے کہاکہ شوکت اشفاق ایک مخلص شخص ہیں، آج انکی پذیرائی میں ہر مکتبہ فکر کی نمائندگی انکی خدمات کا ہی اعتراف ہے،اس موقع پر تحریک صوبہ ملتان کے چیئرمین رانا تصویر احمد ،قربان فاطمہ ، زاہدہ خانم بخاری ، مسیح اللہ جام پوری ، مفتی غلام مصطفی رضوی ، رانا فراز نون ،حافظ معین خالد ، فیاض احمد اعوان ، محمد عبداللہ نے بھی خطاب کیا ، نظامت کے فرائض رفیق احمد قریشی نے انجام دیئے ،تلاوت کلام مجید کی سعادت زینت القر ا عالمی شہر ت یافتہ قاری عبدالغفارنقشبندی نے حاصل کی جبکہ قاری محمد سعید نقشبندی نے ہدیہ نعت پیش کیا ، شاعر اشعر حسن کامران نے شوکت اشفاق کی پذیرائی کے حوالے سے منظوم کلام پیش کیا ۔جبکہ ڈی جی پی ایچ اے علی اکبر بھٹی ، پروفیسر انور جمال ، ایم پی اے ظہیرالدین علیزئی ،کیپٹن ر ناصر مہے ، محمد بلال بٹ ، بابو نفیس انصاری ،شیخ کرامت علی ، ڈاکٹر صدیق قادری ، میاں عبدالشکور صابر ، محتشم ترین ، استاد صغیر ، بشارت عباس ، کنور صدیق ، عارف رضوی ، رانا اقبال نون ، مہر اقبال سرگانہ ، حافظ نسیم احمد قریشی ، محمد ساجد ، مسعود شفیع جلال الدین ، غزل غازی ، ناذیہ فیض صائمہ فیاض ، عابدہ بخاری ، یاسمین خاکوانی ، یاسر طاہر ، سیف الرحمن خان ، قاری ہدایت اللہ ، اختر سردار چوہدری ، واجد شوکت ، رانا الطاف حسین ، فہد قتالپوری ، رانا اعجاز سید طالب حسین پرواز ، محمد جنید اکرم ، شاہد صدیق، عامر نقشبندی ، دلاور ، ڈاکٹر مقبول گیلانی ، سجاد بخاری ، ممتاز نیازی ، نعیم اقبال نعیم ، رمضان اعوان ، جام جمشید اقبال ، خواجہ مظہر صدیقی ، محمد افضل سپر ا ، مخدوم عرفان ،قلب عابد ، غضنفر ملک ،عبداللہ طارق ، رانا روہیل ، اعظم جہانگیر ، امین کھوکھر ، اعجاز ترین ، جہانگیر ترین ، سردار ظفراللہ ، مظہر جاوید ، ریاض عطاری ، کاشف صدیقی ،طارق انآری ، روف مان ، شہزاد چوہدری ، علی رضا سرگانہ ، زاہد بلال ، اکرم ہریری ،وقا ر طیب ، مہر اقبال ، میاں سلیم کملانہ ، جاوید حید رگزدیزی ،ریاض انجم ، نصیر ناصر، سیف الرحمن ،عنایت قریشی ، محمد علی رضوی ، سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے نمائندہ افراد نے کثیر تعد اد میں شرکت کی۔تقریب کے اختتام پر مفتی غلام مصطفی رضوی نے دعاکرائی ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر