بھارتی حکومتوں کی ظالمانہ پالیسیوں سے کسانوں کی خودکشی میں ہوشربا اضافہ

بھارتی حکومتوں کی ظالمانہ پالیسیوں سے کسانوں کی خودکشی میں ہوشربا اضافہ

نئی دہلی(آئی این پی ) جمہوریت کے نام نہاد علمبردار بھارت میں حکومت کی ظالمانہ پالیسیوں نے کسانوں پر بھی عرصہ حیات تنگ کر دیا، ہندو انتہاپسند سرکار کے اقدامات کے باعث کسانوں کی خودکشیوں میں اضافہ ہو نے لگا ، صرف بیس برس میں تین لاکھ سے زائد ہاریوں نے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔ریاست مہاراشٹرا میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2018کے ابتدائی تین ماہ جنوری سے مارچ تک صرف چھ سو چھیانوے کسانوں نے کیڑے مار دوا پی کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ آندھرا پردیش، اترپردیش، کرناٹک، گجرات اور دیگر ریاستوں میں بھی ہزاروں کسانوں نے خودکشی کرکے اپنی زندگی کا چراغ بجھا ڈالا۔بھارتی میڈیا کے مطابق کسانوں کی خودکشی کی بڑی وجہ مودی سرکار کی زرعی پالیسی کا نہ ہونا، بینکوں اور چھوٹے اداروں سے لئے گئے قرضوں کے سود میں اضافہ اور دیگر مسائل شامل ہیں۔ بی جے پی کی حکومت نے کسانوں اور دیگر شہریوں کے مسائل حل کرنے کے بجائے نسلی اور مذہبی منافرت پھیلا کر مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کا قتل عام کیا۔مودی سرکار نے ہندو انتہا پسندی کی پالیسی کیخلاف آواز اٹھانے والے سیاسی رہنماں، سماجی کارکنوں کو قتل کرایا۔ ہزاروں غیر سرکاری تنظیموں اور عالمی اداروں کو ملک سے بے دخل کردیا گیا۔

مزید : عالمی منظر