عبدالقادر نے قومی ٹیم کی سلیکشن کمیٹی کو آڑے ہاتھوں لے لیا

عبدالقادر نے قومی ٹیم کی سلیکشن کمیٹی کو آڑے ہاتھوں لے لیا

لاہور(سپورٹس رپورٹر)پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عبدالقادر نے کیپ ٹاؤن ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کے ہاتھوں پاکستان کی شکست پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ساری توجہ ٹی ٹوئنٹی اور پی ایس ایل پر مرکوز ہونے کی وجہ سے ہم ٹیسٹ میں مسلسل مار کھا رہے ہیں۔ایک انٹرویومیں انہوں نے کہاکہ نہایت افسوس ہے کہ ہم لوگ ٹیسٹ کرکٹ کو سنجیدہ ہی نہیں لے رہے ٗ ایسا میں 10 سال سے دیکھ رہا ہوں، دراصل یہی اصل کرکٹ ہے، لیکن ہم ٹی ٹوئنٹی کی جیت کے ساتھ ساری توجہ پی ایس ایل پر مرکوز کیے بیٹھے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہم ٹیسٹ کرکٹ میں مسلسل مار کھا رہے ہیں۔پاکستان کیلئے 1977ء سے 1990ء تک 67 ٹیسٹ میچوں میں 32.80کی اوسط سے 236 وکٹیں حاصل کرنے والے عبدالقادر نے کہا کہ کیپ ٹاؤن ٹیسٹ میں کسی ایک کھلاڑی کو موردِ الزام ٹھہرانا غلط نہیں ہوگا ٗکیوں کہ سب ہی خراب کھیلے اور ایسا پہلی بار نہیں ہوا۔عبدالقادر نے کہا کہ جب قائداعظم ٹرافی جیسے ٹورنامنٹ کے پرفارمرز کو موقع نہیں دیا جائیگا اور چیف سلیکٹر اپنے بھتیجے کو عمدہ کارکردگی دکھانے والوں پر فوقیت دیں گے تو انصاف کے تقاضے کیسے پورے ہوں گے؟۔پانچ ون ڈے میچوں میں قومی ٹیم کی قیادت کے فرائض انجام دینے والے سابق کپتان نے چیف سلیکٹر انضمام الحق کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سلیکشن کمیٹی کمزور کرکٹرز کا مجموعہ ہے اور انضمام الحق تن تنہا فیصلہ کرتے ہیں ۔

ٗدوسری جانب کوچ مکی آرتھر اپنی من مانیاں کر رہے ہیں۔بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے عبدالقادر نے سوال اٹھایا کہ اگر وہ اتنے ہی اچھے کوچ ہیں تو زمبابوے ان کی خدمات حاصل کیوں نہیں کرلیتا؟انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ میں جاوید میانداد، مشتاق محمد، یونس خان، محمد یوسف، عامر سہیل جیسے بیٹس مین موجود ہیں تاہم کوئی بتا سکتا ہے کہ ان کھلاڑیوں کو نظر انداز کرکے ہم غیر ملکی کوچز کو ہزاروں ڈالرز کس بنیاد پر دے رہے ہیں۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی