عدالت میں قانونی ،باہر سیاسی جواب دے رہے ہیں ،فی الوقت کسی گرینڈ الائنس کی کوشش نہیں ہورہی ،بلاول بھٹو

عدالت میں قانونی ،باہر سیاسی جواب دے رہے ہیں ،فی الوقت کسی گرینڈ الائنس کی ...

لاہور( این این آئی) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ آصف زرداری تمام قوتوں کو اکٹھا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن فی الوقت کسی گرینڈ الائنس کی کوشش نہیں ہو رہی ، نا تجربہ کار وفاق اور پنجاب میں حکومت چلا سکتے ہیں اور نہ ان سے حکومت چل رہی ہے ، اپنی زندگی میں اتنی نا اہل حکومت نہیں دیکھی ،آج معیشت کا حال سب کے سامنے ہے ، عوام مہنگائی کے سونامی میں ڈوب رہے ہیں ، حکومت نیب اور دوسرے اداروں کو دباؤ میں لا کر سیاسی مخالفین کو نشانہ بنا رہی ہے۔جے آئی ٹی کا صرف سیاسی مقصد ہے ،عدالتوں میں قانونی اور جہاں سیاست ہورہی ہے وہاں سیاسی جواب دے رہے ہیں،آصف زرداری کیسز کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہیں بیشک ہمارے پورے خاندان کو جیل میں ڈال دیا جائے ہم خوفزدہ نہیں ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیپلز پارٹی کی رہنما شکیلہ رشید کے انتقال پر ان کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ بلاول بھٹو نے چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے موقع پر پیپلز پارٹی کے کردار کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ اس وقت ہم اپوزیشن میں تھے اور ہم نے اپوزیشن کو اکٹھا رکھنے کیلئے کیا ۔ پیپلز پارٹی اکیلے بھی لڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے ، ہم نے پہلے بھی تنہا مظالم کامقابلہ کیا اب بھی اس کی ہمت رکھتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آصف علی زداری واحد سیاستدان ہیں جو سب کو اکٹھا کرسکتے ہیں ،جو سب طاقتوں اورقوتوں کو اکٹھا ملا سکتے ہیں اور ساتھ لیکر چل سکتے ہیں ۔ آصف علی زرداری واحد سیاستدان ہیں جنہوں نے بطور سویلین صدر مدت کو پورا کیا ، ہم نے اکثریت نہ ہونے کے باوجود وہ کچھ کیا جو کوئی اور نہ کر سکا ۔انہوں نے مولانا فضل الرحمن کی آصف زرداری سے ملاقات کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ اپوزیشن کی ملاقاتیں ہوتی ہیں اور مولانا فضل الرحمن بھی ملتے رہتے ہیں ، جب ملاقاتیں ہوتی ہیں تو اس میں سے ضرور کچھ نکلتا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ فی الوقت گرینڈ الائنس کیلئے کوئی کوشش نہیں کی جارہی ، ہم ایشوز کی سیاست کرتے ہیں ۔ انہوں نے جے آئی ٹی کی رپورٹ کا جواب دینے کی بجائے 18ویں ترمیم پرموقف اپنانے کے بارے کہا کہ میں نے جواب دیا ہے اور گزشتہ روز بھی تقریر کی ہے ، ہمیں بتایا جائے ہم کہاں جواب دیں ؟۔ جب قانونی بات ہوتی ہے تو ہم عدالتوں میں جواب دیتے ہیں لیکن ہم میڈیا ٹرائل کا حصہ نہیں بن سکتے ،جب سیاسی حملہ ہو تو سیاسی جواب دے رہے ہیں ۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ جعلی اور جھوٹی ہے اور اس کا صرف سیاسی مقصد ہے ، اس کامقصد پولیٹیکل انجینئرنگ ہے اوراس کیلئے عدالتوں کوا ستعمال کیا جارہا ہے ۔ میں نے سازش کو ، انتقام کے بڑے پلان اور18ویں آئینی ترامیم کے خلاف حملے کو بے نقاب کیا ، میں سیاستدانوں کو سیاسی جواب ہی دوں گا۔ انہوں نے چیئرمین نیب لگانے میں پیپلز پارٹی کے کردار کے سوال کے جواب میں کہا کہ کیا پیپلز پارٹی اپوزیشن میں ہوتے ہوئے اتنی طاقتور تھی ،ہم اسے مان لیتے ہیں لیکن جو آدمی آتا ہے جس کی تعیناتی ہوتی ہے اسے چاہیے کے قانون کے مطابق چلے ، کسی کے دباؤ کے اندر نہ آئے ، وزیر اعظم کی دھمکیوں میں نہ آئے اور ان کا مقابلہ کرے ۔ نیب اور دوسرے ادارے حکومت کے دباؤ کے اندر کام کر رہے ہیں ، حکومت کی کوئی کارکردگی نہیں انہوں نے کوئی کام نہیں کیا ، ان کے سوروزسب کیسامنے ہیں ، ہم نے تو سو روز میں تاریخی کام کئے ۔ یہ اداروں کو دباؤ میں لا کر سیاسی مخالفین کو نشانہ بنا رہے ہیں ۔ انہیں پتہ ہے کہ یہ دھاندلی کے بغیر نہیں جیت سکتے اس لئے ہمیں بد نام کر رہے ہیں ، ہمارے ساتھ ریس میں نہیں آ سکتے اس لئے بیک ڈور سے کام لیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ یہاں طاقتوں نے ہمیشہ پیپلز پارٹی کو بدنام کیا اور کردار کشی کی گئی ہے ، یہ کام ذوالفقار علی بھٹو شہید اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی زندگی میں بھی ہوتا رہا ہے ، آصف علی زرداری کو نشانہ بنایا گیا جس کی ہم مذمت کرتے ہیں،انہیں بغیر کسی جرم کے گیارہ سال جیل میں ڈالا گیا ، آصف علی زرداری آج بھی کیسز کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری خود جے آئی ٹی میں پیش ہوئے ، زبانی اور تحریری جوابات دئیے لیکن سیاسی جے آئی ٹی نے جان بوجھ کر ہمارے جوابات کو سنسر کیا۔ ہمارے دفاع کے ورژن کو رپورٹ کا حصہ ہی نہیں بنایا گیا ،اس کا مقصد صرف عوام اور عدالتوں کو گمراہ کرنا تھا ۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کیا حکومت چل رہی ہے ، یہ چلتی ہوئی حکومت ہے ، یہ حکومت نہیں چل رہی ۔ انہوں نے آصف علی زرداری کی گرفتاری سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ میں جب ایک سال کا بچہ تھا تب سے سن رہا ہوں آصف زرداری گرفتار ہو رہے ہیں ۔ ہم جیلوں اور دھمکیوں سے نہیں ڈرتے ، ہم نظریاتی سیاستدان ہیں ، بیشک ہمارے پورے خاندان کو جیل میں ڈال دیں ہم خوفزدہ نہیں ہوں گے۔ ذوالفقا رعلی بھٹو کے 73ء کے آئین اور اٹھارویں آئینی ترمیم پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے شیخ رشید کی ان کے حوالے سے پریشانی بارے سوال کے جواب میں کہا کہ وہ میری سیاست پر تبصرہ کریں گے تو پھر ٹرینیں کون چلائے گا ، ٹرینوں کے حادثات ہو رہے ہیں ، کرائے بڑھا دئیے گئے ہیں اور غریب کیلئے سفر کرنا مشکل ہو گیا ہے ، حکومتی وزراء اپنے کام پرتوجہ دیں ۔ آج معیشت کا حال سب کے سامنے ہے ،معیشت تباہ ہو رہی ہے ۔ عوام مہنگائی کے سونامی میں ڈوب رہے ہیں ۔ بجلی اور گیس مہنگی ہو گئی ہے ، میں نے اپنی زندگی میں اتنی نا اہل حکومت اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی ، ان معاملات پر اپوزیشن حکومت کو ٹف ٹائم دے گی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم پنجاب کے لوگوں کو اپنا نظریہ او رموقف دیں گے اور راستہ دکھائیں گے ۔قبل ازیں بلاول بھٹونے بلاول ہاؤس لاہور میں پارٹی رہنماؤں سے ملاقات کی جس میں مجموعی سیاسی صورتحال ، پیپلزپارٹی کے خلاف کیسز اورآئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا ۔ بلاول بھٹو ایک روزہ دورہ مکمل کرنے کے بعد لاہور سے کراچی روانہ ہوگئے ۔

مزید : صفحہ اول