ضلع ہیڈ کوارٹر ہسپتال دیر میں ڈاکٹروں کی کمی‘ مریض پریشان

ضلع ہیڈ کوارٹر ہسپتال دیر میں ڈاکٹروں کی کمی‘ مریض پریشان

دیر بالا (نمائندہ پاکستان )ضلع ہیڈ کوارٹر ہسپتال دیر میں ڈاکٹروں کے شدید کمی ہے کیونکہ اس وقت 110 ڈاکٹروں میں صرف 26 ڈاکٹر موجود ہے۔جبکہ 84 ڈاکٹروں کے اسامیاں خالی پڑے ہے ۔ ضلع ہید کوارٹر ہسپتال ہونے کے باوجود ہسپتال دیر میں کارڈ یالوجی سپیشلیسٹ یوریالوجسٹ جلد سکین سپیشلیٹ ھتیالوجسٹ ارتھوپیڈک سپیشلیسٹ لیڈی گائینالوجسٹ مرد گائینالوجسٹ ڈاکٹر معدے کے گیئروائینالوجسٹ کو گیئروائینالوجسٹ ائی سپیشلیسٹ ای این ٹی سپیشلیسٹ ڈاکٹر شوگر سپیشلیسٹ الٹراساونڈ سپیشلیسٹ ماہرنفسیات کے اسامیاں خالی ہے ہسپتال میں اب بھی تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کے برابر ہے۔ضلع ہیڈکوارٹر ہسپتال میں جو سہولیات ہے ۔وہ ابھی تک موجود نہیں ہے۔ ہسپتال میں ڈیجیٹل ایکسرے نہیں ہے۔ بلکہ پرانے زمانے کے ایکسرے ہیں ۔جو اب کا امد نہیں ہے۔ نرس کے 89 اسامی ہے۔ جس میں تقریبا 25 پر کی گئی ہے ۔ باقی خالی پڑی ہے۔ ہسپتال میں سیٹی سکین اور ایم ار ائی کے سہولت موجود نہیں ہے۔اس کے علاوہ ہسپتال میں بجلی کے ناقص صورتحال ہے ۔صرف پرانے زمانے کا انتظام ہے۔حالہ نکہ ہر صلع ہیڈکورٹر ہسپتال کیلئے بجلی کے ایک الگ ایکسپریس لائن ہوتا ہے۔ لیکن صلع ہیڈکوارٹر ہسپتال دیر اس سے محروم ہے۔اور اس طرح صورتحال ہسپتال میں پانی کے ہے۔ ہسپتال میں صاف پانی فقدان ہے۔ صاف پانی نہ ھونے کی وجہ سے کافی مشکلات سے درپیش ہے۔ہسپتال میں گروں کے صفائی کی کوئی سہولت نہیں ہے۔ اور ہی اس کیلئے کوئی سرجن موجود ہے۔ ہسپتال میں ایک پرانے زمانے واٹر سپلائی سکیم ہے۔جوکہ 1999 2000/ تک کے ابادی کیلئے تھا۔ اب ابادی بہت زیادہ اگے نکل گئے ہیں۔ہسپتال میں ڈاکٹروں کے کمی وجہ سے روزانہ مریضوں کو دوسری ہسپتالوں کو منتقل کیا جاتا ہے ۔جس کے وجہ سے مریضوں کے ورثاخاص مشکلات کے شکار ہوتے ہیں ۔ مریضوں کو وھی سہوالیات میسر نہیں ہے۔جن کی وہ حقدار ہے۔ اس واسطے مریضوں کے ورثا اپنے مریضو ں کو خود دوسرے ہسپتال کو لے جانے پر تلے ہوتی ہے۔اس سلسلے میں ایم ایس ڈاکٹر امتیاز احمد صاحبزادہ سے رابط کیا گیا ۔تو انہوں نے بتایا کہ ہم روزانہ کے بنیاد پر صوبائی حکومت کو مراسلے بیہج رہا ہے۔ ڈپٹی کمشنر دیر صلع ناظم دیر بالا ایم پی اے اور ایم این اے کو ہسپتال کے سارے صورتحال سے اگاہ کیا ہے۔ڈاکٹروں کے کمی بار بار بتایا ہے۔ لیکن ابھی تک ہم ڈاکٹروں کے انے کی انتظار میں ہیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر