پشاور ‘ دو روزہ ساتویں عالمی ہندکو کانفرنس اختتام پذیر

پشاور ‘ دو روزہ ساتویں عالمی ہندکو کانفرنس اختتام پذیر

پشاور(سٹی رپورٹر)گندھارا ہندکو بورڈ اور گندھارا ہندکو اکیڈمی کے زیر اہتمام گندھارا ہندکو بورڈ کے چےئرمین اعجاز احمد قریشی کی سرپرستی میں دو روزہ ساتویں عالمی ہندکو کانفرنس اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئی۔کانفرنس کے کنوینئر گندھارا ہندکو بورڈ کے جنرل سیکرٹری محمد ضیاء الدین اور چیف آرگنائزر گندھارا ہندکو بورڈ کے سینئر وائس چےئرمین ڈاکٹر عدنان گُل تھے۔ کانفرنس کا موضوع ’’ہندکو اور ہند آریائی زبانوں کی ترقی اور فروغ کے ذریعے قومی یکجہتی کا حصول‘‘ تھا۔دو روزہ کانفرنس 8 سیشنز پر مشتمل تھی۔کانفرنس کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر صلاح الدین نے سرانجام دئیے۔دوسرے دن کے پہلے سیشن کے مہمان خصوصی ملاکنڈ سے تعلق رکھنے والے گوجری زبان کے محقق ملک رضا خان تھے۔ پریزیڈیم ممبران میں گندھارا ہندکو بورڈ کے چےئرمین اعجازاحمد قریشی، سینئر وائس چےئرمین ڈاکٹر عدنان گل ،وائس چےئرمین ڈاکٹر صلاح الدین ،ایگزیکٹیو ممبر خواجہ یاور نصیر ،ماہر دف ظہور سیٹھی،ترکی سے آئے ہوئے نامور محقق و مصنف ڈاکٹر حلیل طوقار ،سابق وی سی خیبر میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر حفیظ اﷲ اورگوجری زبان کے محقق شفیق احمد تھے۔ کانفرنس میں گندھارا ہندکو بورڈ کے ایگزیکٹیو ممبران، انجینئرز ،ڈاکٹرز ،ماہرین تعلیم سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات نے شرکت کی۔گندھارا ہندکو بورڈ کے جنرل سیکرٹری محمد ضیاء الدین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گندھارا ہندکو بورڈ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہ بورڈاعجازاحمد قریشی کی سربراہی میں کام کر رہا ہے ۔ گندھارا ہندکو اکیڈمی واحد اکیڈمی ہے جو پاکستان کی تمام زبانوں کی ترویج و ترقی کے لئے کام کر رہی ہے۔اس اکیڈمی کے تحت 16 رسالے ہفتہ وار، سہ ماہی اور سالانہ بنیادوں پر شائع ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اکیڈمی نے 400 سے زیادہ مختلف زبانوں کی کتب شائع کی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ساتویں عالمی ہندکو کانفرنس ملکی یکجہتی کے فروغ میں معاون ثابت ہو گی۔ترکی کے محقق ڈاکٹر حلیل طوقارنے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکی یک جان دو قالب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زبان ہماری شناخت کا ذریعہ ہے جن قوموں کو احساس وشعور ہو وہ اپنی زبان کا تحفظ کرتی ہیں۔ اُنہوں نے شرکاء کانفرنس سے گزارش کی کہ اپنی زبان سے پیار کریں کیونکہ وہ قومیں ترقی کی منازل طے کرتی ہیں جن میں اپنی زبان کی محبت کا جذبہ موجود ہو۔پروفیسر ڈاکٹر حفیظ اﷲ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پشاور بہت ذرخیز ہے اور پشاور نے ڈاکٹر امجد حسین اور ان جیسی بہت سی عظیم شخصیات کو جنم دیا ہے۔ پشاور نے منجھے ہوئے ادیب اور شاعر پیدا کئے اورہندکووانوں نے ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی میدان میں ترقی حاصل کرنے کیلئے شدید محنت درکار ہوتی ہے اور محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ گندھارا ہندکو اکیڈمی کا قیام بھی سخت محنت اور کوششوں کا نتیجہ ہے۔مہمان خصوصی ملک رضا خان نے ہندآریائی زبانوں کے حوالے سے کام کرنے پر گندھاراہندکو اکیڈمی کی کارکردگی کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ گندھارا ہندکو اکیڈمی نے ہند آریائی زبانوں کی بنیاد رکھی اور ہماری زبان کو بھی نام دیا جس پر پوری گوجری قوم ان کی مشکور ہے۔دوسرے سیشن کے مہمان خصوصی چےئرمین رائیٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن مشتاق جدون تھے جبکہ پریزیڈیم ممبران میں براہوی زبان کے محقق ڈاکٹر صلاح الدین مینگل ،محترمہ منور احمد ،ڈاکٹر محمد نواز، راجہ نور محمد نظامی، میاں کریم اﷲ قریشی اور احمد ندیم اعوان تھے۔مہمان خصوصی مشتاق جدون نے ہندکو سمیت دیگر علاقائی زبانوں کی ترویج و ترقی کے لئے گندھارا ہندکو بورڈ اور اکیڈمی کی خدمات کو سراہا۔کانفرنس میں ترکی کے محقق ڈاکٹر حلیل طوقار،ڈاکٹر صلاح الدین مینگل(بلوچستان)، کوہستانی زبان کے محقق ڈاکٹر انعام اﷲ(سوات) ،محمد اختر نعیم (مانسہرہ)،پروفیسر اورنگزیب حسام حُر(پشاور)،سرائیکی زبان کی نامور محقق سعدیہ کمال(اسلام آباد)، ڈاکٹر محمد نواز(اسلام آباد) ،میاں کریم اﷲ قریشی(کشمیر) ، ڈاکٹر رخسانہ قمبر (اسلام آباد)نے اپنے پُر مغز مقالہ جات پیش کئے ۔کانفرنس کے تیسرے سیشن کے پریزیڈیم میں ممتاز دانشور اقبال سکندر، شاعر وادیب عزیز اعجاز، ہزارہ کے محقق اور کالم نگار ملک ناصر داؤد اورضیاء الحق سرحدی شامل تھے۔جبکہ اس سیشن میں راجہ نور محمد نظامی،قدسیہ قدسی،ڈاکٹر تاج الدین تاجور اور ملک ناصر آفریدی نے اپنے مقالہ جات پیش کئے۔کانفرنس میں ایک قرارداد منظور کی گئی جس کے تحت مرکزی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیاگیا کہ گندھاراہندکو بورڈ پشاورکو سالانہ بنیادوں پر گرانٹ دینے کا اعلان کیا جائے ، گندھارا ہندکو بورڈ اور گندھارا ہندکواکیڈمی نہ صرف ہندکو بلکہ پاکستان کی تمام زبانوں کیلئے بھی کام کر رہے ہیں لہذا گندھارا ہندکو اکیڈمی کے پبلک پرائیویٹ پراجیکٹ کو مزید توسیع دی جائے۔ کانفرنس کے کلیدی مقالہ نگاروں میں ڈاکٹر سید امجد حسین (امریکہ)،ڈاکٹر حلیل طوقار(ترکی) پروفیسر بیگم منور احمد(کینیڈا)،ڈاکٹر نسیم اشرف(یو ایس اے) اور میاں کریم اﷲ قریشی (کشمیر ) تھے۔ کانفرنس کا آخری سیشن موسیقی کا تھا جس کی نظامت کے فرائض احمد ندیم اعوان نے سرانجام دئیے جس میں اُستاد سعید پارس، ذوالفقار بھٹی، احمد ندیم اعوان، جنید صدیقی، ذیشان غزنوی اور امیر حمزہ نے خوبصورت لوک گیت پیش کر کے سما باندھ دیا جس سے شائقین محفل خوب محظوظ ہوئے۔کانفرنس کے آخر میں تمام مقالہ نگاروں میں شیلڈز اور سرٹیفیکیٹ بھی تقسیم کئے گئے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر