کراچی پولیس کا اینٹی کارلفٹنگ سیل سکیورٹی رسک بن گیا

کراچی پولیس کا اینٹی کارلفٹنگ سیل سکیورٹی رسک بن گیا

کراچی(کرائم رپورٹر )کراچی پولیس کا اینٹی کار لفٹنگ سیل سیکورٹی رسک بن گیا ،مختلف علاقوں سے پکڑی گئی گاڑیاں انشورنس افسران اور من پسند پولیس اہلکاروں میں تقسیم کی جانے لگیں ،کراچی میں پولیس اہلکاروں کے جرائم پیشہ افراد سے گہرے روابط کے بعد وزرات داخلہ نے تحقیقات کا حکم دے دیا ،غیر قانونی گاڑیوں کا تخریب کاری میں استعمال ہونے کا خدشہ،اے سی ایل سی اہلکار وں کے خلاف اعلی پولیس افسران کاروائی سے گریزکرنے لگے۔ذرائع کے مطابق کراچی میں پولیس نے کار اورموٹرسائیکل مالکان کو سہولیات فراہم کرنے کے لئے اینٹی کار لفٹنگ کا شعبہ تشکیل دیاتاہم مذکورہ شعبہ شہریوں کے لئے درد سر بننے کے ساتھ ساتھ سیکورٹی رسک بھی بن گیا۔ذرائع کے مطابق اے سی ایل سی پولیس اہلکار روزانہ کی بنیاد پر شہر کے مختلف علاقوں سے گاڑیاں برآمد کرتے ہیں جنہیں آرٹلری میدان تھانے،عزیز بھٹی تھانے اورشریف آباد تھانے میں رکھا جاتا ہے مذکورہ گاڑیوں میں 1ہزار سی سی سے لے کر 4ہزار سی سی تک گاڑیاں ہوتی ہیں۔ذرائع کے مطابق اے سی ایل سی میں موجود اہلکار بیشتر گاڑیاں شہر کی اہم شاہراہوں سے پکڑتے ہیں اور گاڑی کو مشکوک بتا کرایف ایس ایل (فارنسک لیب )کے لئے کا ر کے مالک کو گاڑی تھانے میں منتقل کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ذرائع کے مطابق شوروم سے گاڑی خریدے جانے کے باوجود اے سی ایل سی پولیس اہلکا ر جس گاڑی کو چاہیں مشکوک قرار دیتے ہیں۔بعد ازاں اگر گاڑی مالکان اے سی ایل سی پولیس اہلکاروں کو رشوت دے دیں تو معاملات طے ہوجاتے ہیں بصورت دیگر گاڑیاں مختلف تھانوں میں ہی موجود رہتی ہیں جنہیں اے سی ایل سی اہلکار مختلف انشورنس ایجنٹس کو فروخت کرتے ہیں اگر کسی گاڑی کی اصل مالیت6لاکھ روپے ہے تو مذکورہ گاڑی انشورنس ایجنٹس کو 1لاکھ میں فروخت کی جاتی ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق انشورنس ایجنٹس کو گاڑیاں فروخت کرنے سے قبل گاڑیوں کا انجن نمبر مٹا دیا جاتا ہے جب کہ چیسسز نمبر والے حصے کو ہی توڑ دیا جاتا ہے کہ اگر کسی موقع پر ایف ایس ایل(فارنسک لیب) سے ٹیسٹ کرایا جائے تو گاڑی کا اصل چیسسز نمبر سامنے ہی نہ اسسکے۔ذرائع کے مطابق کراچی میں متعددپولیس اہلکاروں کے جرائم پیشہ عناصرسے روابط کے بعدموجودہ ملکی صورتحال کے پیش نظر وزارت داخلہ نے تحقیقات کا حکم دیا ہے کہ اے سی ایل سی پولیس اہلکاروں کی جانب سے انشورنس ایجنٹس کو فروخت اور من پسند اہلکاروں کو تقسیم کی گئی گاڑیاں کہیں تخریب کاری میں استعمال نہ ہورہی ہوں۔ذرائع کے مطابق اس ضمن میں تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔واضح رہے کہ اے سی ایل سی میں ہر سال متعدد پولیس اہلکار جرائم کی کسی نہ کسی واردات میں ملوث ہو کر گرفتار ہوتے رہے ہیں۔علاوہ ازیں متعدد پولیس اہلکاروں کو مبینہ پولیس مقابلے کے الزام میں عدالت سے سزائیں بھی ہوچکی ہیں

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر