جے آئی ٹی رپورٹ حقائق پر مبنی،یہ نیب میں جائیگی پھر اس پر فیصلہ ہو گا،جسٹس اعجاز الاحسن

جے آئی ٹی رپورٹ حقائق پر مبنی،یہ نیب میں جائیگی پھر اس پر فیصلہ ہو گا،جسٹس ...
جے آئی ٹی رپورٹ حقائق پر مبنی،یہ نیب میں جائیگی پھر اس پر فیصلہ ہو گا،جسٹس اعجاز الاحسن

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں جعلی بینک اکاﺅنٹس کیس میں جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے ہیں کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں صرف سفارشات مرتب کی ہیں،یہ حقائق پرمبنی رپورٹ ہے،یہ تونیب کے پاس جائےگی پھراس پرفیصلہ ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ جعلی بینک اکاﺅنٹس کیس کی سماعت کررہا ہے ،اٹارنی جنرل نے 172 افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے سے متعلق وضاحت عدالت میں پیش کردی۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے ہیں کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں صرف سفارشات مرتب کی ہیں،یہ حقائق پرمبنی رپورٹ ہے،یہ تونیب کے پاس جائےگی پھراس پرفیصلہ ہوگا۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کرناہے کیس نیب کوبھجواناہے یانہیں،عدالت نے کہا کہ جے آئی ٹی نے لکھاہے ٹریکٹرزکی خریدوفروخت کاغذوں میں ہوئی،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اومنی گروپ نے ایک ارب سبسڈی لی،رپورٹ میں لفظ غبن استعمال ہوا۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہم ٹرائل کورٹ نہیں،مقدمے کامرکزجعلی اکاؤنٹس ہیں،جعلی اکاؤنٹس کاتعلق اومنی گروپ اور سیاستدانوں سے ہے۔

مزید : اہم خبریں /قومی /علاقائی /اسلام آباد