بھارت کے شیلٹر ہوم میں بے آسرا لڑکیوں سے زیادتی کا ہولناک سکینڈل، کون کون ملوث نکلا اور طریقہ واردات کیا تھا؟ جان کر کسی کی بھی آنکھیں نم ہوجائیں

بھارت کے شیلٹر ہوم میں بے آسرا لڑکیوں سے زیادتی کا ہولناک سکینڈل، کون کون ...
بھارت کے شیلٹر ہوم میں بے آسرا لڑکیوں سے زیادتی کا ہولناک سکینڈل، کون کون ملوث نکلا اور طریقہ واردات کیا تھا؟ جان کر کسی کی بھی آنکھیں نم ہوجائیں

  

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) سرکاری دارالامانوں میں بے گھر اور بے آسرا لڑکیوں کو رہائش اور تحفظ فراہم کیا جاتا ہے لیکن بھارت، جہاں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتیوں کی شرح پوری دنیا میں سب سے زیادہ ہے، میں ایک شیلٹر ہوم میں بے آسرا لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتیوں کا ایسا ہولناک سکینڈل منظرعام پر آ یا ہے کہ سن کر شیطان بھی شرم سے منہ چھپاتا پھرے۔ این ڈی ٹی وی کے مطابق یہ بہار کے ضلعی صدر مقام مظفر آباد کا شیلٹر ہوم ہے جہاں سی بی آئی کی تحقیقات کے مطابق لڑکیوں کو فحش گانوں پر’مہمانوں‘ کے سامنے نیم برہنہ رقص کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا اور پھر انہیں غنودگی طاری کرنے والی نشہ آور ادویات دے کر مہمان جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے تھے۔ رپورٹ کے مطابق لڑکیوں کو اس بربریت کا نشانہ بنانے والوں میں بااثر سیاستدان اور بیوروکریٹس سمیت کئی اعلیٰ شخصیات شامل ہیں۔

سی بی آئی نے مرکزی ملزم برجیس ٹھاکر کے خلاف عدالت میں 73صفحات پر مشتمل چارج شیٹ پیش کر دی ہے جس میں برجیش ٹھاکر کے سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کے ساتھ مراسم اور ان میں سے شیلٹر ہوم آنے اور لڑکیوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے والوں کو بے نقاب کیا گیا ہے۔چارج شیٹ میں بتایا گیا ہے کہ مہمانوں کے آنے پر شیلٹر کی لڑکیوں کو نیم برہنہ لباس پہنا کر فحش بھوجپوری گانوں پر ڈانس کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا اور پھر انہیں ایسی منشیات دی جاتیں کہ وہ خود کو ان مہمانوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے پر مجبور ہو جاتیں اور مزاحمت کے قابل نہ رہتی تھیں۔جو لڑکیاں رقص کرنے سے انکار کرتیں انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ چارج شیٹ میں 20دیگر افراد کو بھی موردالزام ٹھہرایا گیا ہے جن میں شیلٹر کے متعدد ملازم بھی شامل ہیں۔ برجیش ٹھاکر کئی سال سے اس شیلٹر ہوم کا سربراہ تھا اور اسی کی نگرانی میں یہ سارا مکروہ دھندا 10سال سے چل رہا تھا۔ اس دوران کم از کم 42لڑکیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

مزید : بین الاقوامی