ملائشیا کے بادشاہ تخت سے دستبردار لیکن استعفے سے قبل روسی حسینہ کیساتھ کیا چلتا رہا اور وہ کن کاموں کے شوقین ہیں؟ وہ بات جوشاید آپ کو معلوم نہیں

ملائشیا کے بادشاہ تخت سے دستبردار لیکن استعفے سے قبل روسی حسینہ کیساتھ کیا ...
ملائشیا کے بادشاہ تخت سے دستبردار لیکن استعفے سے قبل روسی حسینہ کیساتھ کیا چلتا رہا اور وہ کن کاموں کے شوقین ہیں؟ وہ بات جوشاید آپ کو معلوم نہیں

  

کوالا لمپور (مانیٹرنگ ڈیسک) روسی حسینہ کے ساتھ معاشقے اور شادی کی افواہوں کے بعد ملائیشیاءکے بادشاہ سلطان محمد پنجم تخت سے دستبردارہوگئے ہیں۔ایکسپریس ٹربیون کے مطابق سلطان محمد پنجم کا استعفیٰ نومبر کے آغاز میں لی گئی2 ماہ کی طبی رخصت کے بعد سامنے آیا ہے، اس دوران ماسکو کی سابقہ حسینہ سے ان کی شادی کی غیر مصدقہ خبریں بھی گردش میں تھیں۔ قومی محل کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں ان کے استعفیٰ کی تصدیق کی گئی ہے۔ سلطان محمد پنجم دسمبر 2016ءمیں تخت نشین ہوئے تھے اور نومبر 2018ءمیں انہوں نے علاج کی غرض سے عارضی رخصت لی تھی۔بعد ازاں ان سے متعلق روس میں سابقہ مس ماسکو سے شادی کی رپورٹس بھی گردش میں تھیں تاہم ملائیشیا میں شاہی حکام کی جانب سے بادشاہ کی شادی کی افواہوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی ان کی صحت سے متعلق کوئی تفصیلات جاری کی گئیں۔

ملائیشیا کے یہ جوان دل بادشاہ گاڑی چلانے اور دیگر کھیلوںکے شوقین ہونے کی وجہ سے کافی مقبول ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ملائیشیا کے معزز بادشاہ نے عوام کو اتحاد، رواداری اور مل جل کر کام کرنے کی تلقین کی ہے ، بیان پر شاہی محل کے نگران وان احمد داہلان عبدالعزیز کے دستخط تھے تاہم شاہی حکام کی جانب سے استعفیٰ کی کوئی وجوہات بیان نہیں کی گئی جس کی وجہ سے سلطان پنجم کے استعفیٰ پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ملائیشیا میں مسلم بادشاہت کا بہت احترام کیا جاتا ہے اور ان پر تنقید کرنا منع ہے۔ رواں ہفتے ملک میں شاہی حکام کی خصوصی ملاقات کی اطلاعات کے بعد بادشاہ کے مستقبل سے متعلق شکوک و شبہات میں شدت آئی تھی۔ ملائیشیا میں آئینی طور پر شاہی نظام رائج ہے جس کے تحت ہر 5 سال بعد ملائیشیا کی 9 مختلف ریاستوں کے حکمرانوں میں سے ایک تخت نشین ہوتا ہے۔تخت نشینی کا یہ نظام 1957ءمیں برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے بعد عمل میں آیا تھا اور سلطان محمد پنجم تخت سے دستبردار ہونے والے پہلے بادشاہ ہیں۔سرکاری میڈیا کے مطابق سلطان محمد پنجم نے آکسفورڈ کے سینٹ کراس کالج اور آکسفورڈ سینٹر فار اسلامک اسٹڈیز سے تعلیم حاصل کی تھی۔

مزید : بین الاقوامی