سکول پرنسپل اور ٹیچر کو لڑکی پر تشدد کرنے پر جیل

سکول پرنسپل اور ٹیچر کو لڑکی پر تشدد کرنے پر جیل
سکول پرنسپل اور ٹیچر کو لڑکی پر تشدد کرنے پر جیل

  

ہری پور(ویب ڈیسک) سکول پرنسپل اور خاتون ٹیچر کو مبینہ طور پر ایک طالبہ کو تشدد کا نشانہ بنانے پر گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا۔دونوں ملزمان کیس کے درج ہونے سے قبل از گرفتاری ضمانت پر تھے۔

ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق کھالابٹ کے سیکٹر 4 کے رہائشی وحید خان کا حوالہ دیتے ہوئے پولیس نے بتایا کہ ان کی بیٹی بشریٰ خان اقرا پبلک سکول میں 10ویں جماعت کی طالبہ تھیں، اسے سکول کے پرنسپل عابد خان اور خاتون ٹیچر عنیقہ بی بی نے 16 اکتوبر 2018 کو نامعلوم وجوہات کی بنا پر تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ لڑکی اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھی ہے اور ذہنی طور پر معذور جیسی حرکتیں کر رہی ہے۔شکایت کنندہ نے پولیس کو بتایا کہ لڑکی کو تشدد کے بعد جب نجی ڈاکٹر کے پاس لے کر گئے تھے جنہوں نے اسے ایبٹ آباد کے ایوب میڈیکل کمپلیکس کے نفسیاتی وارڈ بھیج دیا تھا اور وہ وہاں چند دنوں تک ایڈمٹ رہی۔انہوں نے پرنسپل اور خاتون ٹیچر پر الزام لگایا کہ انہوں نے لڑکی کے سر پر مارا تھا جس کی وجہ سے لڑکی کے سر میں نفسیاتی پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔

ان کی شکایت پر پولیس نے 28 اکتوبر کو سکول کے سربراہ اور خاتون ٹیچر کے خلاف چائلڈ ویلفیئر پروٹیکشن 2010 کی دفعہ 13/34 کے تحت مقدمہ درج کیا۔تاہم ملزمان نے مقامی عدالت سے قبل از گرفتاری ضمانت لے لی تھی جسے بعد ازاں ایڈیشنل سیشن جج دوئم کی جانب سے ہفتے کے روز منسوخ کردیا گیا جس کی وجہ سے دونوں ملزمان کو کمرہ عدالت سے ہی گرفتار کرلیا گیا۔

خاتون ٹیچر کو ہری پور کی جیل میں بھیج دیا گیا جبکہ پولیس نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پرنسپل کو جسمانی ریمانڈ کے لیے پیش کیا گیا تاہم عدالت نے پولیس کی درخواست منسوخ کرتے ہوئے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا۔دریں اثناءسکول پرنسپل نے ان پر لگنے والے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اور ان کے سکول کی کسی بھی ٹیچر نے کسی لڑکی پر تشدد نہیں کیا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ لڑکی پہلے ہی سے نفسیاتی مریض تھی اور اس کا علاج بھی چل رہا تھا۔

مزید : علاقائی /خیبرپختون خواہ /ہری پور