ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں نام عہدوں نہیں، کردار کی وجہ سے ڈالے گئے، فواد چوہدری

ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں نام عہدوں نہیں، کردار کی وجہ سے ڈالے گئے، فواد چوہدری
ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں نام عہدوں نہیں، کردار کی وجہ سے ڈالے گئے، فواد چوہدری

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں نام عہدوں نہیں کردار کی وجہ سے ڈالے گئے، وزیر اعلیٰ کا گھناو¿نی سازش میں کردار آصف زرداری سے بھی بڑا ہے۔ اومنی گروپ کے اصل مالک و مختار آصف زرداری ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ شیخ زید بن سلطان النہیان کا پاکستان میں کردار سب جانتے ہیں، ابو ظہبی کے ولی عہد کا وزیر اعظم عمران خان نے خود استقبال کیا۔

فواد چوہدری نے کہا کہ ابو ظہبی کے ولی عہد 3 روز پاکستان میں رہے اور واپس روانہ ہوئے۔ ابو ظہبی کے ولی عہد نے تیسرے روز آفیشل اسلام آباد کا دورہ کیا۔ مراد علی شاہ کے استعفے سے متعلق تحریک انصاف اپنے مطالبے پر قائم ہے۔

انہوں نے کہا کہ اومنی گروپ کے اصل مالک و مختار آصف زرداری ہیں، سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ بلاول اور مراد علی شاہ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالا جائے۔ فلم ٹھگز آف پاکستان میں مراد علی شاہ کا اہم کردار ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ای سی ایل میں نام عہدوں نہیں کردار کی وجہ سے ڈالے گئے، وزیر اعلیٰ کا گھناؤنی سازش میں کردار آصف زرداری سے بھی بڑا ہے۔ پوری قوم کرپٹ عناصر کے خلاف متحد ہے۔ گھناؤنی سازش میں وزیر اعلیٰ سندھ کا نام آنا باعث شرمندگی ہے، وزیر اعظم کا سیاسی مافیا کے خلاف آپریشن کلین اپ کامیاب ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ وعدہ کیا تھا کہ بڑے چور جیلوں میں ہوں گے جس میں 90 فیصد کامیابی مل گئی ہے، سپریم کورٹ کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم سر آنکھوں پر ہے۔ چوہدری نثار پہلے بہت ایکٹو تھے لیکن پھر اچانک سے خاموش ہوگئے، اصل میں کرپشن کی وجہ سے ایک معاہدہ ہوگیا تھا اس لیے چوہدری نثار خاموش ہوئے۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ کسی ایک پارٹی یا شخص نے بھی اس کیس کو مسترد نہیں کیا، ہماری حکومت نے کوئی نیا کیس نہیں بنایا۔

انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی نے درخواست کی تھی مزید تحقیقات کے لیے کیس نیب کو بھیجا جائے۔ نیب کی تحقیقات شروع ہوگئی، اب پلی بارگین ہوگی یا ریفرنس ہوگا۔ جے آئی ٹی اپنا کام جاری رکھے گی اور نیب کی معاونت کرے گی۔ عدالت کے حکم پر ای سی ایل سے نام نکالا جائے گا لیکن تحقیقات جاری رہیں گی۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد