وفاقی کابینہ اور کمیٹیوں کے فیصلے سیکرٹ،شرکا پر مندرجات افشا کرنے پر پابندی

وفاقی کابینہ اور کمیٹیوں کے فیصلے سیکرٹ،شرکا پر مندرجات افشا کرنے پر پابندی
وفاقی کابینہ اور کمیٹیوں کے فیصلے سیکرٹ،شرکا پر مندرجات افشا کرنے پر پابندی

  

اسلام آباد(ویب ڈیسک) کابینہ ڈویژن نے وفاقی حکومت کی ہدایت پر کابینہ اجلاس اور کابینہ کمیٹیوں کا ایجنڈا میٹنگ سے قبل پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کو بھجوانے پر پابندی عائد کردی ہے۔اہم حکومتی فیصلوں اور اجلاسوں کی اندرونی کہانی منظرعام پر آنے کے باعث بعض حکومتی شخصیات خائف ہیں۔

92 نیوز کے مطابق رولز آف بزنس 1973کے رول 24(8) کے تحت سمریاں،ایجنڈا ،منٹس اور تمام فیصلے سیکرٹ تصور ہوں گے۔سیکرٹریٹ انسٹرکشن 1994ئکے تحت کلاسیفائیڈ دستاویز کی فیکس مشین ،غیر محفوظ ای میلز ،وٹس ایپ اور میسینجر کے ذریعے ترسیل پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ فوٹو کاپی روم ،سیلنگ روم اور کابینہ ڈویژن کی راہداریوں میں سی سی ٹی وی کیمرے اور ایکسس کنٹرول ڈورز نصب کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ رولز آف بزنس 1973کے رول 24(8) کے تحت سمریز ،ایجنڈا ،منٹس اور تمام فیصلے سیکرٹ تصور ہوں گے۔یہ تمام دستاویزات بوقت ضرورت ڈبل سیل کے ساتھ متعلقہ شخص کو بھیجے جائینگے جس کے اندرونی کور پر یہ درج ہو گا کہ اس مہر کو وہی کھول سکتا ہے جسے دستاویز بھیجی گئی ہے۔ان تمام دستاویزات کو کابینہ ممبران کی جانب سے اسی طرح کابینہ ڈویڑن بھجوایا جائیگا جس طرح انہیں موصول ہوئی تھی۔کابینہ اجلاس اور کابینہ کمیٹیوں کا ایجنڈا میٹنگ سے پہلے پی آئی ڈی کو نہیں بھجوایا جائیگا۔

اخبار کے مطابق  کابینہ اجلاس اور کابینہ کمیٹیوں سے متعلقہ دستاویزات صرف کابینہ اور کابینہ کمیٹیوں کے ممبران ہی کھولیں گے۔ ممبران اس بات کو یقینی بنا ئینگے کہ دستاویزات پرمہر موجود تھی جب انہوں نے وصول کی۔اگر مہر کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہو یہ معاملہ فوری طور پر کابینہ ڈویژن کے نوٹس میں لایا جائیگا۔اس بات کا مشاہدہ کیا گیا ہے کہ وزرا کی مصروفیات کے باعث متعلقہ دستاویزات تک وزرا کے سٹاف کی رسائی ہوتی ہے ،اب سٹاف کے صرف ایک ممبر کو دستاویزات تک رسائی دی جا ئیگی اور اسے اس بات کا پابند بنایا جا ئیگاکہ دستاویز کے مندرجات لیک نہ ہوں، اگر مندرجات لیک ہوئے تو متعلقہ شخص کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جائیگا۔وفاقی وزرا ء،وزیر مملکت ،مشیر ،وزیر اعظم کے معاون خصوصی ،سیکرٹریز اور تمام حاضرین ،کابینہ اجلاس اور کابینہ کمیٹیوں کے مندرجات کسی عوامی جگہ پر زیر بحث نہیں لائینگے۔تمام کابینہ دستاویزات تک محدود رسائی دی جا ئیگی اور یہ دستاویزات ایسے افسرا ن کی زیر نگرانی ہو ں گی جو ان کی اہمیت کو سمجھتا ہو اور ریکارڈ بھی مرتب کر سکتا ہو۔سیکرٹریٹ انسٹرکشن 1994 ئکی انسٹرکشن 57(g) کے تحت کوئی بھی کلاسیفائیڈ دستاویز کی فیکس مشین اور انٹرنیٹ کے ذریعے ترسیل نہیں کی جائیگی۔صرف متعلقہ وزارت اور ڈویڑن کا ترجمان ہی میڈیا کے ساتھ ڈیل کریگا۔پالیسی کے مطابق وزارتیں ،ڈویڑنز پریس رپورٹرز اور غیر متعلقہ اشخاص کو ایسی جگہ جانیں سے روکیں گے جہاں کلاسیفائیڈ دستاویز موجود ہوں گی۔سکیورٹی کی خلاف ورزی کی صورت میں فوری ایکشن لیا جائیگا۔

رپورٹ کے مطابق دستایزات کی واپسی کے وقت وصول کنندہ اس بات کو یقینی بنائیگا کہ دستاویز اچھے طریقے سے سیل شدہ ہے اور کابینہ ڈویڑن کو صرف متعلقہ شخص ہی دستاویز واپس کریگا۔فوٹو کاپی روم ،اینویلپ سیلنگ روم اور کابینہ ڈویژن کی راہداریوں میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیا جائینگے۔ایکسس کنٹرول ڈورز نصب کیے جا ئینگے۔دستاویزات کی تیاری اور پرنٹنگ کیلئے صرف ایک ہی کمپیوٹر استعمال کیا جائیگااور اس کمپیوٹر میں یو ایس بی اور سٹوریج ڈیوائسز لگانا ممنوع ہو گا۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد