بچوں کیساتھ زیادتی کے ملزمان کو سرعام پھانسی،فحش فلمیں بنانے پر 7سال قید، قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے تجاویز پیش کردیں

بچوں کیساتھ زیادتی کے ملزمان کو سرعام پھانسی،فحش فلمیں بنانے پر 7سال قید، ...
بچوں کیساتھ زیادتی کے ملزمان کو سرعام پھانسی،فحش فلمیں بنانے پر 7سال قید، قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے تجاویز پیش کردیں

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی جانب سے کمسن بچوں کے ساتھ زیادتی کے ملزمان کو سرے عام پھانسی دینے جبکہ فحش ویڈیوز بنانے اور بیچنے والوں کو7 سال قید اور 35 لاکھ روپے جرمانے کی سزا تجویز کر دی،کمیٹی ارکان نے ای سی ایل میں نام ڈالنے اور نکالنے سے متعلق بہتر لائحہ عمل طے کرنے کی ضرورت پر زور بھی دیاہے ۔

دنیانیوز کے مطابق سینیٹر رحمان ملک کے زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں کمسن بچوں کے ساتھ زیادتی اور فحش ویڈیوز بنانے کے معاملے کا جائزہ لیا گیا ، اس موقع پروزیر داخلہ برائے مملکت شہریار آفریدی نے بتایا کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، ان جرائم کی سزا مزید سخت کئے جانے کی ضرورت ہے،کمیٹی کی جانب سے کمسن بچوں کے ساتھ زیادتی کے ملزمان کے لئے سرے عام پھانسی اور فحش ویڈیوز بنانے اور بیچنے والے کے لئے 7 سال قید اور 35 لاکھ روپے جرمانے کی سزا تجویز کی گئی۔

کمیٹی ارکان نے ای سی ایل میں نام ڈالنے اور نکالنے سے متعلق وزیر داخلہ مملکت کو اپنے تحفظات سے آگاہ کرتے ہوئے اس حوالے سے بہتر لائحہ عمل طے کرنے کی ضرورت پر زور دیاجبکہ ایف آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے اہلخانہ کو ایف آئی اے کے ہی اہلکاروں کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعہ کی تحقیقات کا حکم بھی جاری کیا گیا ۔

مزید : قومی /جرم و انصاف