بنیان دھوتی کاش میری ہوتی

بنیان دھوتی کاش میری ہوتی
بنیان دھوتی کاش میری ہوتی

  

ملک کی  سمت درست کرتے کرتے  ہم اس مقام پہ آن پہنچے ہیں کہ جہاں ملک کی ائرپورٹس سے لے کر  موٹرویز تک گروی ہیں – اس ملک کی پوشاک ہم روز کے قرضوں سے بدلتے ہیں اور پاکستان کی پہنی بنیان دھوتی بھی شاید مستعار ہے – عزتوں کے جنازے تو ہم مل کے نکال چکے ہیں  کہ خدا کی پناہ -اتنی لوٹ مار  کی کہ کھوئی سمتوں  اور طرفین کا  بھی ادراک نہ رہا- تبدیلی حکومت آئی تو پہلی دفعہ  ملکی سمت درست کرنے کی بات بہت بھلی لگی پَر اب سوچتا ہوں کہ ضرورت ملکی سمت درست کرنے کی نہیں   بلکہ کہنے والوں کا اپنا قبلہ درست کرنے کی  ہے- ملک کی سمت تو اس وقت درست ہوگی کہ جب اس کے افراد  اور حاکمین کو ادراک ہوگا کہ ان کی پالیسیاں ملک کو وہاں لے گئی ہیں کہ  واپسی بہت مشکل ہے –

 میرے اجداد نے تو مجھے یہی بتایا ہے  کہ  افراد کے ہاتھوں میں ہی اقوام کی تقادیر ہوتی ہیں  لیکن ہمارے ہاتھوں میں تو لوٹ مار کے مٹائے  گئے ثبوتوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں  – ملکی وزیر اعظم جناب عمران خان صاحب کا کہنا تھا کہ انجن درست ہو تو گاڑی اپنی منزل پہ ہی پہنچتی ہے لیکن ان پانچ ماہ کی کارکردگی نے ایک بات تو واضح کر دی ہے کہ جب سفراونچائی کا ہو اور ڈبے وزنی تو  انجن ان کے وزن سے خود نشیب اور گہرائی میں گرتا جاتا ہے – انہوں نے کہا تھا کہ ملک کی سمت درست کرنے کے لئے صرف سو افراد کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ان پانچ ماہ میں ان کے گرد آپ پانچ لوگ ایسے نہیں دکھا سکتے جو انجن کا ساتھ دیتے ہوں اور جن پہ لدھا الزامات کا بوجھ اتنا کم ہو کہ انجن کو  کھینچنا آسان ہو- ہر روز خان صاحب اپنی پشت پہ بوجھ کو نظر انداز کرتے ہوئے زور لگاتے ہیں لیکن کیچڑ میں دھنسے پہیے وہی گھوم کر رہ جاتے ہیں – اب تو  ہر فرد کی نظر اسی پہ ہی رہتی ہے کہ کس دوست ملک نے کیا دیا اور جو دیا وہ کہاں خرچہ ہوا  جس کا  کوئی حساب ہی نہیں ہے  ۔

بقول   ماہرِ معاشیات  فرخ سلیم صاحب کے چند دنوں میں ایک ارب ڈالر کدھر گیا کسی کو معلوم نہیں- جناب رزاق داؤد صاحب کو وزارت اتنی عزیز ہے کہ نہ ڈیسکون سے پیچھا چھوٹتا ہے اور نہ  وزارت ہی چھوڑی جاتی ہے – کیونکہ عہدے ہوں گے تو ایل این جی ٹرمینل  جیسے کاروبار ملیں گے –  سو کاروبار  اپنے بچوں  کے سپرد کرکے وہ اپنے کاروبار کے انجن بنے دولت کے انبار افلاک کی بلندیوں تک لے جانے کے لئے دن رات ایک کئے  ہوئے ہیں- پنجاب میں ہنس کی چال چلتے ہوئے ہمارے وزیر اعلیٰ نے بھی شاید خادمِ اعلیٰ  کے ہی اس رستے کو چنا ہے جو انہیں سرفرازی اور یکتائی کی قبا پہنا سکے – انہوں نے بھی لاہور کے ایک ہسپتال میں مریض  کے دوائی باہر سے منگوانے پہ  ڈاکٹر صاحب کو  فارغ کر دیا ہے کہ جیسے وہ اس صحت کے نظام پہ  ایک واحد داغ تھے سو خس پاک جہاں پاک لیکن ایک ڈاکٹر ہونے کے ناطے میں یہ کہتا ہوں کہ ان سرکاری ہسپتالوں میں ملتی ادویات پہ میرا تو اعتبار کوئی نہیں کہ  وہ دو نمبری ہیں  یا دس نمبری - میرے اس دعوے کے پیچھے دلیل ہے کہ دیکھ لیں پیچھے مڑ کے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی اموات اور ان ادویات کی جانچ پڑتال  کے بعدان میں موجود دوا کی اصل مقدار اگر ان ڈاکٹر صاحب کی کوتاہی ہے تو  لٹکا دیجیئے   لیکن اگر اس میں بھی آپ کی وہی بیوروکریسی ملوث ہے کہ جس پہ آپ کا زور نہیں چلتا اور ایک ڈاکٹر بیچارہ ہی تختِ مشق بنتا ہے تو اس کے مضامین میں ادویات کی خریداری  اور فراہمی کا مضمون بھی شامل کر دیجئے –

ہاں میں اپنے ڈاکٹر بھائیوں سے بھی التماس کرتا ہوں کہ ادویات بیچنے والی کمپنیوں کے خریدے  ہوائی ٹکٹس اور بک کئے گئے ہوٹلوں  سے انسانی خدمت کی راہ نہیں نکلتی – بہت سے ڈاکٹر حضرات کا تعلق  غریب خاندانوں سے ہے  جن کو کسی ماں نے زیور اور کسی  کو زمین بیچ  کے پڑھایا  ہے  لیکن آج جب سب کچھ خدا کا دیا ہے تو  وہ تعلیم و تفریح کے لئے ان کمپنیوں کے محتاج ہیں تو عوام کا گلہ بھی تو  جائز ہے کہ ادویات کی قیمت مقرر کرنے اے پہلے کمپنیاں ان  کی تعلیم و تفریح  پہ اٹھنے والا بجٹ اس کی قیمت میں شامل کرتی ہیں- ویسے تو  ہمارا ہر کام نرالا ہے  مجھے دو مختلف نظاموں میں کام کرنے کا  موقع ملا اور میں دونوں کا موازانہ کرنے کی کچھ نہ کچھ  صلاحیت ضرور رکھتا ہوں –

 میرے ایک آئرش استاد کہتے تھے کہ زندگی موت کی جنگ  آپریشن کرنے والے ٹیبل یا  لیٹے مریض کے بستر پہ جیتی جاتی ہے – دورِ حاضر میں ہیلتھ کمیشن پنجاب  اور اس کی جانب سے  جاری کردہ کاغذ کا پیٹ بھرنے  اور وٹس ائپ پڑھنے کے لئے جو وقت اور  مہارت درکار ہے وہ شاید اسی وقت سے نکلتی ہے جو ڈاکٹر صاحب کے مریضوں پہ صرف کرنے کا ہوتا ہے – یہ سب چونچلے ان ملکوں میں ہیں جہاں ڈاکٹر دن میں پانچ سے چھ مریض دیکھتا ہے لیکن ہمارے ہاں بات سینکڑوں میں پہنچتی ہے- اس کمیشن  کی تباہ کاریوں میں ایک یہ بھی ہے کہ  اس کی بلا وجہ کی  ہر کام میں اڑائی گئی کاروائی ہم ڈاکٹر کو مجبور کر  رہی ہے کہ    اپنی جان بچائی جائے اور خواہ مخواہ کی انکوائری سے بچا جائے – مریض کو دوسرے ہسپتال بھجوانے کا مقصد تو یہ ہوتا ہے کہ وہاں پہ سہولتیں زیادہ ہیں لیکن جب دیکھتا ہوں کہ ان ہسپتالوں پہ  مریضوں کا بوجھ ، ناکاری مشینری ، لیبارٹری کے ناقص انتظام ( کراچی شہد کیس) اور معطل ہوئے ڈاکٹر ز ہی  ان مریضوں کا مقدر ہیں  تو  سوچتا ہوں کہ شاید وہ ڈاکٹر صاحبان بھی انہی محدود سہولتوں سے  بندھے ہوئے ہیں  جو مجھے یہاں  حاصل ہیں لیکن ایک کیا گیا سفر اور بڑے ہسپتال کا نام مریض کے لواحقین کو مطمئن کرنے کے لئے کافی  ہے باقی چاہے مرغ کے خون کی رپورٹ ہو یا کسی مرد کے حاملہ ہونے کی –

صاحب ڈاکٹر جان نہیں لیتا اور نہ کسی کو جان دیتا ہے زندگی موت اس رب العالمین کے ہاتھ میں ہے لیکن روز کی مار کٹائی اور ملازمت  سے نکالے جانے کا خوف ایسا ہے کہ ہر کوئی اپنے پر سیمٹے خود کو تحفظ دیے بیٹھا ہے کیونکہ اس کا  مقابلہ یورپ کے ہسپتالوں اور ان میں کئے گئے علاج  اور ان میں ہوئی پیچیدگیوں سے کیا جاتا ہے اور سہولت کا یہ انتظام ہے کہ سرہانہ نہ ملنے یا بستر کی دستیابی  کے مسئلے پہ اسے ہی  نکال باہر کیا جاتا ہے –  میں ہسپتال سے برطانوی وزیر اعظم اور اس کے ہروٹوکول کو بے عزت ہو کے باہر نکتے دیکھا ہے کہ جن کی موجودگی انفیکشن قانون کے خلاف تھی - پرائیویٹ میڈیکل کالج میں نے نہیں کھولے  یہ کاروبار  بھی دولت کا چمکایا ہوا ہے – فارغ التحصیل ڈاکٹرز جو اپنی قابلیت کو منواتا ہے انہی خدشات کی وجہ سے امریکہ ، برطانیہ ، آئرلینڈ، آسٹریلیا  یا پھر مشرقِ وسطٰی چلا جاتا ہے  اور جو غریب ہے یا جس کے حالات اسے اجازت نہیں دیتے وہ یہیں کا ہو کے رہ جاتا ہے اور روز کی مار کٹائی سے بے حس ہوا جاتا ہے – کاش آپ سمت اپنی درست کر لیجئے اور میرے پاکستان کو اس کی اپنی ہی پرانی  بنیان دھوتی لوٹا دیجیئے کہ جس سے اس کی عزت کا بھر م رہ جائے-                                                                                           

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے ۔

مزید : بلاگ