بلاول اورمراد علی شاہ کا نام ای سی ایل سے نکلنے کامطلب تفتیش ختم ہونا نہیں: معاون خصوصی برائے احتساب

بلاول اورمراد علی شاہ کا نام ای سی ایل سے نکلنے کامطلب تفتیش ختم ہونا نہیں: ...
بلاول اورمراد علی شاہ کا نام ای سی ایل سے نکلنے کامطلب تفتیش ختم ہونا نہیں: معاون خصوصی برائے احتساب

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہاہے کہ سپریم کورٹ کے حکم سے جے آئی ٹی کی ساکھ پر کوئی فرق نہیں پڑتا،بلاول اور مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل سے نکال بھی دیا جائے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا،جے آئی ٹی رپورٹ پر کارروائی رکی نہیں بلکہ نیب کو بھیج دی گئی ہے ، نام ای سی ایل سے نکلنے کامطلب تفتیش کا ختم ہونا نہیں ہے۔

جیونیوز کے پروگرام ” کیپٹل ٹاک“ میں گفتگو کرتے ہوئے شہزاد اکبر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم سے جے آئی ٹی کی ساکھ پر کوئی فرق نہیں پڑتا، اب سپریم کورٹ کے حکم پر بلاول اور مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل سے نکال بھی دیا جائے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتاکیونکہ عدالت نے جے آئی ٹی کی سفارش پر معاملہ نیب کے سپرد کردیاہے ،جے آئی ٹی رپورٹ پر کارروائی رکی نہیں بلکہ نیب کو بھیج دی گئی ہے ، نام ای سی ایل سے نکلنے کامطلب تفتیش کا ختم ہونا نہیں ہے،عدالت نے کہا ہے کہ اگر نیب کوضروت پڑے تو مراد علی شاہ کوبلا سکتی ہے اور ان کا بیان لے سکتی ہے، سپریم کورٹ میں وہ سوالات بھی ہوتے ہیں جو لوگوں کے ذہن میں اٹھ رہے ہوتے ہیں ، سپریم کورٹ نے معاملہ نیب کو بھیج کر دوماہ کا وقت دیدیا ہے ، اب اس معاملے کی تفتیش ہوگی اور جن کی ضرورت پڑے گی ، ان کو بلایا جائیگا ، جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں وضاحت کردی ہے کہ ہم نے کسی کے ساتھ جرائم منسلک نہیں کئے ، نیب میں اب بلاول کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی بھی تحقیقات کی جائیں گی ۔

انہوں نے کہا کہ ای سی ایل پر نام یاتو عدالت کے حکم پر ڈالا جایا جاتا ہے یا تفتیشی ایجنسی کی سفارشات پر ڈالا جاتا ہے ، سپریم کورٹ کا تحریر ی حکم آنے پر بلاول کا نام ای سی ایل سے نکال دیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ بزنس مین ہو یا بیورو کریٹ کسی معاملے میں ملوث پایا جائیگا تو اس کی جوابدی ہوگی ، ایف ٹی ایف میں پاکستان بڑی کڑی پوزیشن میں ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے اس بات کا علم نہیں ہے سابق چیئر مین نادرا کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیاہے کیونکہ کابینہ کی منظوری کے بغیر کسی کانام ای سی ایل میں نہیں ڈالا جاسکتا ۔

مزید : قومی