بہترین انتقام

بہترین انتقام

  



اتوار کے روز پاکستان کی حکومت اور فوج نے واضح طور پر ایرانی جنرل قاسم سلیمان کے قتل کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں فریق بننے سے انکار کر دیا۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد خطے کے حالات میں تبدیلی آئی ہے، تاہم پاکستان صرف امن کا پارٹنر ہے، اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ان کے مطابق پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کو بتایا کہ خطہ امن کی طرف بڑھ رہا ہے، بغداد جیسے واقعات سے ایسی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔ خطے میں ممالک کے درمیان کشیدگی کم ہونی چاہیے، ہم امن کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے۔ بھارتی اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بھارت افواہیں پھیلانے میں لیڈ کررہا ہے، عوام اور میڈیا ملک دشمن افواہوں پر توجہ نہ دیں، صرف باوثوق ذرائع پر یقین کریں۔ دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اتوار کے روز سعودی عرب، ایران، متحدہ عرب امارات اور ترکی کے ہم منصبوں سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔ جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق وزیر خارجہ نے پاکستان کی جانب سے خطے میں امن کے لیے کردار ادا کرنے کی پیشکش کی اور زور دیا کہ فریقین یکطرفہ طاقت کے استعمال سے گریز کریں۔ وزیر خارجہ نے بھی اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا اور نہ خطے کے کسی تنازع کا حصہ بنے گا۔

چار روز قبل امریکی ڈرون حملے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی موت کے بعد سے خطے پر جنگ کے سائے منڈلارہے ہیں۔ ایران کی جانب سے جنرل قاسم سلیمانی کی موت کا بھرپور بدلہ لینے کا اعلان بہت واضح انداز میں متعدد مرتبہ کیا جاچکا ہے۔ ماہرین اور اس خطے کے رہنے والوں میں تشویش پائی جاتی ہے کہ ایران کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کی تنصیبات یا امریکی شہریوں کو نشانہ بنایا گیا تو یہ تیسری جنگ عظیم کا آغاز ہوگا کیونکہ جواب میں امریکہ سے بھی خاموشی کی توقع نہیں۔ ایسی صورتحال میں پاکستان کا کردار بھی حد درجہ اہم ہے، عسکری ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ نے ایران کے خلاف فوجی مہم جوئی کا فیصلہ کیا تو اسے پاکستان کا تعاون درکار ہوگا۔

یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ پاکستان تاریخ کے اس دوراہے پر کھڑا ہے۔ قریباً دو دہائیاں قبل امریکہ میں 9/11 حملوں کے بعد امریکہ زخمی شیر کی طرح اس خطے میں وارد ہوا۔ پاکستان میں جنرل پرویز مشرف کی زیر سربراہی فوجی حکومت قائم تھی۔ وہ بپھری ہوئی امریکی قیادت کے سامنے ایک لمحہ بھی نہ ٹھہرسکے اور ایک فون کال پر ہی ڈھیر ہوگئے۔ پاکستان کی سیاسی قیادت کو اعتماد میں لیا گیا، نہ عوامی جذبات کو خاطر میں لایا گیا اور نہ ہی ملک پر اس جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اثرات پر غور کیا گیا۔ یہاں تک کہ بعد میں امریکی عہدیداروں کے بیانات سے معلوم ہوا کہ خود امریکی انتظامیہ بھی حیران تھی کہ پاکستان اس قدر آسانی سے ان کا ساتھ دینے پر کیسے راضی ہوگیا۔ انہیں توقع تھی کہ اس کام کے لیے بہت جتن کرنے پڑیں گے۔ بہرحال اس فیصلے کا نتیجہ یہ نکلا کہ جنگ پاکستان کی سرحدوں کے اندر آگئی، ملک میں دہشت گردی کی ایک نئی قسم نے جنم لیا، ایک دہائی کے دوران 60 ہزار سے زائد پاکستانیوں کا خون اس کی نذر ہوگیا اور معیشت کو 120 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ آج کے وزیر اعظم، عمران خان افغان جنگ کے آغاز ہی سے اس میں فریق بننے کے مخالف رہے، اس کے خلاف پارلیمان میں آواز اٹھاتے رہے اور شاہرائیں بند کر کے احتجاج بھی کیا۔ بالآخر کئی برس بھاری نقصانات اٹھانے کے بعد سکیورٹی ادارے، سیاستدان اور حکمران یکسو ہوئے اور دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑی گئی۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے بالآخر پاکستانی قوم کو اس امتحان میں سرخرو کیا اور اس جنگ کے اثرات سے ہمارا ملک بڑی حد تک نکلنے میں کامیاب ہوگیا۔

آج پھر تاریخ نے ہمیں ایسے ہی مقام پر لاکھڑا کیا ہے۔ خطے پر ایک مرتبہ پھر جنگ کے سائے لہرارہے ہیں اور امریکہ ایران پر نظریں جمائے بیٹھا ہے۔ جنرل قاسم سلیمانی کے نظریے سے اختلاف ہوسکتا ہے لیکن اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ وہ بے لوث سپاہی کی طرح اپنے ملک کے لیئے لڑے۔ داعش کو شکست دینے میں کلیدی کردار ادا کیا اور شام سے لے کر عراق تک ایران کی خارجہ پالیسی سے وابسطہ مفادات کا دفاع کیا۔ ان کی وجہ سے امریکہ کو متعدد محاذوں پر ہزیمت اٹھانا پڑی اور اْنہیں ہدف بھی اس ہی وجہ سے بنایا گیا۔ ایران کے لیے یہ نقصان بہت بڑا ہے، لیکن ضروری ہے کہ جوش میں ہوش کا دامن نہ چھوڑا جائے۔ غصے میں کوئی بھی ایسا اقدام اٹھانے سے گریز کرنا چاہیے جس سے پھر واپسی ممکن نہ ہو۔ اس موقع پر پاکستانی حکومت کا موقف بالکل درست ہے، اس معاملے میں فریق بننے کی بجائے درجہ حرارت نیچے لانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اپنے برادر مسلمان ممالک کو سمجھانا چاہیے کہ ہمارے دشمن اور مخالفین جیسے بھی ہیں، وہ اس بات میں کامیاب ہیں کہ ہمیں اْلجھائے رکھیں۔ وہ دور بیٹھ کر بٹن دباتے ہیں اور آگ کا کھیل ہماری سرحدوں کے اندر شروع ہوجاتا ہے۔ اس کھیل میں سراسر نقصان ہمارا ہے۔ کبھی نہ کبھی ہمیں اس حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا اور یہ جتنی جلدی ہوجائے اتنا ہی ہمارے اور ہماری آنے والی نسلوں کے حق میں بہتر ہے۔ اگر کسی چیز پر یکسوئی کی ضرورت ہے تو وہ دنیا بھر میں خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے مسلمانوں کی حالت زار بہتر بنانے پر، انہیں تعلیم کے مواقع اور زندگی کی بنیادی سہولیات فراہم کرنے پر۔ اگر دنیا بھر کے مسلمان اور مسلم لیڈران اپنی توجہ ان اہداف پر مرکوز کرلیں تو یہ جنرل قاسم سلیمانی اور ہر فرقے سے تعلق رکھنے والے لاکھوں مسلمانوں کی اموات کا بہترین انتقام ہوگا۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...