پرائی جنگ سے بچنا ضروری ہے!

پرائی جنگ سے بچنا ضروری ہے!
 پرائی جنگ سے بچنا ضروری ہے!

  



ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی امریکی حملے میں شہادت کے بعد کہا یہ جا رہا ہے کہ دنیا پر تیسری عالمی جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ حالات بہت کشیدہ ہیں اور ایران نے واضح طور پر یہ پیغام دیا ہے کہ امریکہ کو اس حملے کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا…… دوسری طرف عراقی حکومت نے امریکی فوجوں کو بغداد سے نکل جانے کا حکم دیا ہے۔ اس حکم پر امریکہ کتنا عملدرآمد کرتا ہے، اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا، تاہم عراقی حکومت کے اس حکم کے بعد امریکی فوجوں کی عراق میں موجودگی غیر قانونی اور غاصبانہ قرار پائے گی۔ عراق و شام ایک عرصے سے جنگ و جدل کا میدان بنے ہوئے ہیں۔ امریکہ نے ہر جگہ اپنی ٹانگ پھنسائی ہوئی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں، جو تیل کی پیداوار کا سب سے بڑا مرکز ہے، اپنی موجودگی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

دوسری اور اہم وجہ اسرائیل ہے، جسے تحفظ دینے کے لئے امریکی اڈے خطے کے مختلف ممالک میں قائم ہیں۔ اُدھر ایران امریکہ کا سب سے بڑا مخالف ہے۔ یہ مخالفت آج کی نہیں، بلکہ اس وقت سے ہے، جب امام خمینی نے اقتدار سنبھالا تھا۔ امریکہ و ایران کے درمیان کشیدگی کی تاریخ اب کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ ایران کو ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے سے روکنے کے لئے امریکہ نے کیا کچھ نہیں کیا۔ اس پر اقتصادی پابندیاں لگوا کر تیل تک برآمد کرنے سے روکا اور معیشت کو تباہ کیا، مگر ایران نے امریکہ کے سامنے سر نہیں جھکایا، بلکہ ڈٹ کر مخالفت کی۔ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں امریکی ایجنڈے کے راستے میں اگر کوئی رکاوٹ بنا رہا تو وہ ایران ہے۔ مشرقِ وسطیٰ پر کنٹرول حاصل کرنے کے لئے امریکہ نے جتنے بھی جتن کئے، جتنی بھی چالیں چلیں، انہیں ناکام بنانے میں ایران کسی نہ کسی انداز سے اپنا کردار ادا کرتا رہا۔

جنرل قاسم سلیمانی کی بغداد میں موجودگی بھی درحقیقت امریکی قبضے کے خلاف مزاحمت کی ایک شکل تھی، جنہوں نے پاسدارانِ انقلاب کے ذریعے امریکی مفادات کو بہت نقصان پہنچایا…… قاسم سلیمانی ایک عرصے سے امریکی نشانے پر تھے، مگر بچ نکلتے، یا پھر امریکی تھنک ٹینک یہ سوچ کر انہیں نقصان نہ پہنچاتے کہ ردعمل بہت شدید ہوگا اور امریکی عوام اور فوجیں ہدف بن جائیں گی، لیکن اس بار صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غالباً امریکہ میں اپنی اگلی ٹرم کو یقینی بنانے کے لئے ایک بہت بڑا جواء کھیلا اور قاسم سلیمانی کو ہدف بنانے کی منظوری دے دی۔

یہ اتنا بڑا واقعہ ہے کہ ایرانی حکومت اگر اس پر صبر کے گھونٹ بھرنا بھی چاہے تو نہیں بھر سکتی، کیونکہ ایرانی عوام میں اس حملے کے خلاف سخت اضطراب اور غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ جنرل قاسم سلیمانی ایرانی عوام کی مقبول شخصیت تھے اور انہوں نے بارہا مواقع پر ایران کو فتح دلانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ خود امریکیوں کو اس بات کا اندازہ ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قاسم سلیمانی کو نشانہ بنانے کا حکم دے کر ایک بہت بڑا رسک لیا ہے اور اب پوری دنیا میں امریکی مفادات کو نقصان پہنچانے کی ایرانی کوششیں ہو سکتی ہیں۔ کئی جگہوں پر تو حملے ہو بھی چکے ہیں اور کئی علاقوں میں امریکہ نے مزید حملے بھی کئے ہیں …… جو سوال اس وقت پوری دنیا میں تشویش کا باعث بنا ہوا ہے، وہ تیسری عالمی جنگ چھڑنے سے متعلق ہے۔ روس، چین، ترکی، فرانس، برطانیہ اور دیگر ممالک اس صورتِ حال سے لاتعلق نہیں رہ سکتے۔

خود مشرق وسطیٰ کے اندر اگر ایران امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کی حکمتِ عملی اختیار کرتا ہے تو سعودی عرب، قطر، کویت اور اسرائیل میں امریکی اڈوں پر حملے ہو سکتے ہیں۔ افغانستان میں بھی امریکی فوجیوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اُدھر امریکہ جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنے کی بجائے فخر کا اظہار کر رہا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تو اسے بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ اس کا مطلب ہے امریکہ کسی بڑی جنگ سے خوفزدہ نہیں اور ایران کے خلاف فیصلہ کن لڑائی لڑنا چاہتا ہے۔ یہ بڑی خطرناک صورتِ حال ہے۔ امریکی وزیر خارجہ پومپیو نے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد جس طرح دنیا بھر میں فون کئے اور حملے کا دفاع کیا اس سے یہ بات واضح ہے کہ امریکہ جارحانہ موڈ میں ہے۔

یہ بات بھی ایک سوالیہ نشان ہے کہ امریکی وزیرخارجہ نے دنیا بھر میں اپنے ہم منصبوں کو فون کئے، مگر پاکستان میں وزیرخارجہ سے بات کرنے کی بجائے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو فون کیا…… اگرچہ اس فون کی حقیقی تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں، تاہم آئی ایس پی آر نے جو پریس ریلیز جاری کیا، اس میں کہا گیا ہے کہ آرمی چیف نے تحمل و بردباری سے کام لینے کا مشورہ دیا ہے۔ تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ ایک اچھی بات یہ کہی گئی کہ پاکستان کسی ملک کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا، جس سے یہ شائبہ اُبھرتا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ نے ایران کے خلاف امریکی حملوں کے لئے پاکستانی اڈے استعمال کرنے کی بات کی، جسے رد کر دیا گیا ہے۔

امریکیوں کو شائد اب بھی یہ شبہ ہے کہ پاکستان میں سول حکومت اور فوج ایک پیج پر نہیں، اسی لئے اس نے پھر سے نقب لگانے کی کوشش کی ہے، حالانکہ اب ایک فون کال والا معاملہ نہیں رہا، جو پرویز مشرف کے دور میں تو کارگر ثابت ہوا۔ اب فوج اور حکومت، بلکہ پارلیمنٹ بھی یکجا ہیں اور جو فیصلہ بھی ہوگا، متفقہ ہوگا۔ فی الوقت تو یہ پالیسی واضح ہے کہ اس تنازعہ میں پاکستان غیر جانبدار رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ دفتر خارجہ نے ایک بہت محتاط اور غیر جانبدارانہ بیان جاری کیا۔ امریکہ نے اس دوران پاکستان کے لئے امریکی فوجی تربیت کے پروگرام سے پابندی اٹھائی، ایسے حربے امریکہ بہت استعمال کرتا ہے، لیکن اب پرائی جنگ میں ٹانگ اڑانے کی پالیسی پاکستان کو کسی صورت اختیار نہیں کرنا چاہیے، اس کا ہم پہلے ہی بہت خمیازہ بھگت چکے ہیں۔ امریکہ پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لئے سعودی عرب کو بھی استعمال کر سکتا ہے، جس سے نبردآزما ہونے کے لئے پاکستان کو اپنے دلائل تیار رکھنا چاہئیں۔

ایران ہمارا برادر اسلامی ملک ہے اور ہماری سرحدیں بھی ایک دوسرے سے جڑی ہیں۔ ہم یہ نہیں کر سکتے کہ ایک طرف افغانستان، دوسری طرف بھارت اور تیسری طرف ایران سے اپنے بارڈر کو غیر محفوظ بنا لیں۔ پاکستان نے صلح جوئی اور مفاہمت کے پیغام کا جو موقف اختیار کیا ہے، وہی اس وقت کا اصل بیانیہ ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم ایران کے خلاف اپنی سرزمین امریکہ کو استعمال کرنے دیں اور جواب میں ہمارے شہر اس کا ہدف بن جائیں۔ یہ پاکستان ہے، عراق، شام یا مشرق وسطیٰ نہیں کہ جہاں بیٹھ کر امریکہ نے اپنے مفادات کا کھیل کھیلا ہے۔ امریکہ نے قاسم سلیمانی کو مار کہ جس جارحیت کا آغاز کیا ہے، اس کا سامنا بھی اسے ہی کرنا چاہیے…… بڑی طاقتوں چین اور روس نے واضح طور پر پیغام دے دیا ہے کہ امریکی جارحیت کسی عالمی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔

ایران تو فی الوقت اس پوزیشن میں نہیں کہ جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کے واقعہ کو بھلا کر امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آ بیٹھے، تاہم امریکہ کو چاہئے کہ وہ ایران کو مذاکرات کی پیشکش کرے، لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ پہلے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر کوئی معذرت کرے، جو فی الوقت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جارحانہ پالیسی کی موجودگی میں ممکن نہیں …… سو دنیا ایک بڑی تباہی کے دہانے پر نظر آ رہی ہے، اگر عالمی رہنماؤں نے ہوش و تدبر سے کام نہ لیا تو اس تباہی کو عملی شکل اختیار کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

مزید : رائے /کالم