ہمارا نصب العین سائلین کی دادرسی، ججز مقدمات کے التواء سے گریز کریں: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

ہمارا نصب العین سائلین کی دادرسی، ججز مقدمات کے التواء سے گریز کریں: چیف ...

  



لاہور(نامہ نگار خصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس مامون رشید شیخ نے کہاہے کہ ججوں کوکبھی اپنا نصب العین نہیں بھولنا بلکہ قدم سے قدم ملا کر چلنا ہے،ہمارا نصب العین عام سائلین کی داد رسی ہے۔وہ گزشتہ روزپنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں جنرل ٹریننگ پروگرام کے تحت تربیتی کورس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کررہے تھے،انہوں نے تربیتی کورس میں شریک ماتحت عدالتوں کے ججوں کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مقدمات کے مقررہ (بقیہ نمبر10صفحہ12پر)

وقت کے مطابق فیصلے کریں اور غیر ضروری التواء سے گریز کریں،تمام قوانین میں مقدمات کے فیصلوں کے لئے وقت متعین کیا گیا ہے،عدالتوں کو لاکھوں زیرالتواء مقدمات کا سامناہے،ہم نے ان مقدمات کو صرف نمٹانا نہیں ہے بلکہ مقدمات کے قانون اور میرٹ کے مطابق فیصلے کرنے ہیں،مقدمات کے فیصلوں میں جلد بازی کی بجائے انصاف کے معیار کو مدنظر رکھا جائے،انصاف کی جلد فراہمی کیلئے جج پوری ایمانداری، جانفشانی اور قانونی طریقہ کار کے مطابق کام کریں،روزانہ ہزاروں مقدمات نمٹائے جارہے ہیں،اس کے باوجود ہماری عدالتوں پر مقدمات کا ایک بڑا بوجھ موجود ہے۔ پنجاب جوڈیشل اکیڈمی کے پاس اعزاز ہے کہ یہاں نہ صرف پنجاب بلکہ پاکستان بھر سے جوڈیشل اور لاء افسرتربیتی کورسز کے لئے آتے ہیں۔چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ججوں کے لئے اندرون و بیرون ملک کورسز کے لئے سکالرشپس بھی جاری کی جائیں گی جو مکمل طور پر میرٹ پر ہوں گی۔ تقریب میں ڈی جی ڈسٹرکٹ جوڈیشری اشترعباس اور سیشن جج ہیومن ریسورس ساجد علی اعوان سمیت اکیڈمی کے انسٹرکٹرز، افسران اور تربیتی کورس میں شرکت کرنے والے ایڈیشنل سیشن جج اور سول جج بھی موجود تھے۔

چیف جسٹس

مزید : ملتان صفحہ آخر