چوری مقدمہ‘ پولیس حکام کو درخواست گذار کا کراس ورشن ریکارڈ کرنیکا حکم

چوری مقدمہ‘ پولیس حکام کو درخواست گذار کا کراس ورشن ریکارڈ کرنیکا حکم

  



ملتان ( خبر نگار خصو صی) ایڈیشنل سیشن جج ملتان سید جہانگیر علی نے عدالتی احکامات کے باوجود وائس پریذیڈنٹ نیشنل بینک آف پاکستان کی جانب سے پولیس کے ہمراہ خاتون کے(بقیہ نمبر31صفحہ12پر)

گھر پر، 35 لاکھ روپے کے طلائی زیورات اور قیمتی اشیاء پر قابض ہونے، تھانہ گلگشت میں درج چوری کے مقدمہ میں ملوث کرنے اور کراس ورشن ریکارڈ نہ کرنے سے متعلق درخواست پر پولیس حکام کو درخواست گزار کا کراس ورشن ریکارڈ کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ قبل ازیں فاضل عدالت میں ملتان کی گلشن بی بی نے کونسل سید اظہر عباس حیدر بخاری نے درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ نیشنل بینک میں تعینات وائس پریزیڈنٹ ارشد مجید، عظمی نورین، حامد چوہدری، محمد کاشف، وقار اور دیگر نامعلوم افراد نے 18 نومبر کی شب پولیس کے ہمراہ ان کی دیوار پھلانگ کر ان کے گھر داخل ہوگئے۔ جن سے وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے بتایا کہ ایس پی ربنواز تلہ کے حکم پر وہ یہاں آئے ہیں اور اس مکان کا قبضہ ارشد مجید کے حوالے کرنا ہے۔ جس پر درخواست گزار اور اس کے خاوند سمیت بچوں نے سول عدالت میں زیر سماعت مقدمہ کے بارے میں بتایا۔ لیکن پولیس نے ان کی ایک نہ سنی اور ان کے مکان پر قبضہ کرکے گھر پر موجود 35 لاکھ روپے کا قیمتی سامان طلائی زیورات اور نقدی بھی ہتھیالیے اور انہیں تھانہ گلگشت میں درج چوری کے مقدمہ میں میں ملوث کرادیا۔جس پر پولیس کو کراس ورشن ریکارڈ کرانے کے لیے درخواستیں دی گئی مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی ہے اس لیے فاضل عدالت سے استدعا ہے کہ درخواست گزار کا کراس ورشن درج کرنے کا حکم دیا جائے تاہم گزشتہ روز سماعت کے دوران فاضل جج نے وکلاء دلائل کے بعد پولیس حکام کو کراس ورشن ریکارڈ کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

ریکارڈ

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...