فیکٹری ورکرز کے بچوں کا تعلیمی منصوبہ لٹک گیا، والدین پریشان

  فیکٹری ورکرز کے بچوں کا تعلیمی منصوبہ لٹک گیا، والدین پریشان

  



لاہور(خبرنگار) محکمہ لیبر کے حکام کی نااہلی اور مبینہ چشم پوشی کے باعث ورکرز ویلفیئر بورڈ کے تحت تعلیم حاصل کرنے والے 50 ہزار سے زائد بچوں کی تعلیم کا سلسلہ داؤ پر لگ گیا۔ بچوں کے والدین دربدر کی ٹھوکریں کھانے لگے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کے حکم پر محکمہ لیبر نے تین ماہ قبل ورکرز ویلفیئر بورڈ کے تحت تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کو پرائیویٹ سکولوں میں تعلیم دلوانے کے لئے ایک اہم ترین منصوبہ بنایا جس میں ورکرز ویلفیئرز بورڈ کے تحت مزید سکول قائم کرنے کے بجائے فیکٹری ملازمین کے 50ہزار سے زائدبچوں کو پرائیویٹ سکولوں میں تعلیم دلوانے کا فیصلہ کیا گیا تھا ، محکمہ لیبر نے فیکٹریز اور بھٹہ مزدوروں کے بچوں کے تعلیمی اخراجات برداشت کرنا تھے، اس اہم ترین منصوبہ کے لئے اربوں روپے کا پیکیج تیارکیا گیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ ہاؤس اور محکمہ لیبر کے حکام کے درمیان رابطہ کے فقدان کے باعث یہ اہم ترین منصوبہ کھٹائی میں پڑ رہ گیا ہے، بچوں کے والدین محکمہ لیبر اور ورکرز ویلفیئر بورڈ کے دفاتر میں چکر لگا لگا کر تھک گئے ہیں اور سراپا احتجاج ہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ اس حوالے سے محکمہ لیبر پنجاب کے ڈائریکٹر ہیڈ کوارٹر محمد داؤد نے کہا کہ فیکٹریز ملازمین اور بھٹہ مزدوروں کے بچوں کو اعلیٰ اور معیاری تعلیم دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے لئے بچوں کو پرائیویٹ سکولوں میں تعلیم دلوائی جائے گی اور اس مقصد کے لئے وزیراعلیٰ کے حکم پر ایک منصوبہ تیار کر کے وزیراعلیٰ ہاؤس میں سمری بھجوائی گئی ہے جس کی جلد منظوری ہو جائے گی، پرائیویٹ سکولوں میں تعلیم کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔

مزید : میٹروپولیٹن 1