قاسم سلیمانی پر حملے کا حکم،ٹرمپ کا اقدام آئینی و قانونی،پروفیسر ایلن درشوز کیلی این کانواے،صدر ڈکٹیٹر نہ بنیں:ایوان نمائندگان

قاسم سلیمانی پر حملے کا حکم،ٹرمپ کا اقدام آئینی و قانونی،پروفیسر ایلن درشوز ...

  



واشنگٹن(اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کی شہادت سے پیدا ہونیوالی صورتحال بدستور امریکہ کے سیاسی حلقوں کا اہم ترین موضوع بنی ہوئی ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی میں قانون کے معتبر پروفیسر ایلن در شووز نے ”وال سٹریٹ جرنل“ میں اپنے تبصرے میں صدر کے اقدام کی حمایت کرتے ہوئے اسے درست و قانونی قرار دیاہے۔ صدر ٹرمپ کی مشیر کیلی این کانوے نے بھی صدر کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں انہوں نے جو حکم دیا تھا اسکی آئین، قانون اور حکمت عملی کے اعتبار سے ٹھوس بنیاد موجود تھی، تاہم کانگریس کے ایوان نمائندگان کی امور خارجہ کمیٹی نے اس اقدام پر سخت تنقید کرتے ہوئے صدر ٹرمپ سے کہا ہے کہ وہ ڈکٹیٹر بننے کی کوشش نہ کریں اس دوران عراقی پارلیمنٹ نے امریکی افواج کو ملک سے نکل جانے کا جو حکم دیا ہے اس پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ ایسی صورت میں عراق کو امریکہ کی طرف سے زبردست پابندیوں کا سامنا کرنا پڑیگا اور اسے وہاں فضائی اڈہ تعمیر کرنے پر امریکہ کو لاگت ادا کرنا پڑے گی۔ قانون کے پروفیسر ایلن در شووز کا کہنا ہے کہ اعلان جنگ سے ایک قدم پہلے صدر کو اپنے طور پر فوجی کارروائیاں کرنے کی آئینی اتھارٹی حاصل ہے جسے وہ اس وقت استعمال کر سکتے ہیں جب وہ خود یا ان کے مشیر امریکی شہریوں کے تحفظ کیلئے اسے ضرور قرار دیں۔ پروفیسر در شووز کے موقف کے مطابق ”صدر کی اتھارٹی خاص طور پر ایسی صورت میں بہت وسیع ہوتی ہے جب انہیں اپنے ٹارگٹ کو نشانہ بنانے کے عمل کو خفیہ رکھنا ہوتا ہے۔ سیاسی سطح پر صدر کی مشیر کیلی این کانونے نے بھی صدر کے اقدام کی پر زور حمایت کی ہے ”فوکس نیوز“ کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ”جنرل سلیمانی کی ہلاکت کے بعد دنیا اب زیادہ محفوظ ہو گئی ہے اور اس پر حملہ کرنے کیلئے ہم نے تین سال انتظار کیا ہے‘‘ انہوں نے بتایا کہ سلیمانی کے ہاتھوں امریکی شہریوں کے ہزاروں فوجی بیٹے اور بیٹیاں ماری گئی ہیں،بے شمار زخمی اور اپاہج بنائے گئے ہیں،امریکہ کے کمانڈر انچیف نے ان وجوہات کی بناء پر جنرل سلیمانی کو نشا نہ بنانے کا حکم دیا جو بدقسمتی سے کچھ لوگوں کیلئے ہیرو کا درجہ رکھتا ہے۔ کانگریس کی امور خارجہ کمیٹی نے ایک میڈیا بیان میں واضح کیا ہے کہ امریکی آئین کے تحت جنگ کرنے کے تما م اختیارات کانگریس کے پاس محفوظ ہیں۔ کمیٹی نے صدر سے کہا ہے وہ ڈکٹیٹر نہ بنے اور آئین میں درج کانگریس کے جنگی اختیارات کا مطالعہ کرے۔ اس دوران صدر ٹرمپ نے عراقی پارلیمنٹ کے امریکی افواج کو اپنے ملک سے نکلنے کے حکم پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ فلوریڈا میں اپنی ذاتی رہائش گاہ اور تفریحی مرکز میں تعطیلات منا کر واشنگٹن روانہ ہو نے سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عراقی پارلیمنٹ کے فیصلے کو انتہائی غیر دوستانہ قرار دیا،اورکہا عراق پر پابندیاں اسی طرز کی ہو گی جیسی ایران پر عائد ہیں، یاد رہے اس وقت عراق میں ایک فضائی اڈہ ہے جو امریکہ کی ملکیت ہے جہاں تقریباً پانچ ہزار امریکی فوجی عراقی فورسز کو تربیت دینے کیلئے موجود ہیں، صدر ٹرمپ کے بیان سے قبل امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے عراقی پارلیمنٹ کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا اس وقت اس کی قانونی حیثیت اور اس کے اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ترجمان نے عراقی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ دونوں ملکوں کے اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کی اہمیت کے پیش نظر اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں۔

اظہر زمان نیوز

مزید : صفحہ اول