قاسم سلیمانی کی نماز جنازہ تہران میں ادا،جانشین جنرل قآنی کا امریکہ کو خطے سے نکال باہر کرنے تک لڑنے کا عزم

قاسم سلیمانی کی نماز جنازہ تہران میں ادا،جانشین جنرل قآنی کا امریکہ کو خطے ...

  



تہران،کویت، واشنگٹن،اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) بغداد میں امریکی فضائی حملے میں شہیدہونیوالے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی نماز جنازہ تہران میں ادا کر دی گئی۔ القدس فورسز کے سربراہ قاسم سلیمانی کی نماز جنازہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے پڑھائی۔ اس موقع پر لاکھوں افراد تہران یونیورسٹی کے باہر جمع ہوئے، شرکاء نے امریکہ مخالف نعرے لگائے۔ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی تدفین آج ان کے آبائی علاقے کرمان میں ہوگی،ادھرایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے نئے کمانڈر اسماعیل قآنی نے باور کرایا ہے کہ وہ خطے سے امریکہ کو حتمی طور پر نکالنے کیلئے لڑیں گے۔ عرب ٹی وی کے مطابق بریگیڈیئر جنرل قآنی نے کہا ہم اسی طاقت کیساتھ سلیمانی کا مشن جاری رکھنے کا عزم کرتے ہیں، ہماری جانب سے تعزیت کا واحد طریقہ خطے سے امریکہ کو نکال باہر کرنا ہے،جبکہ ایران کے آرمی چیف میجر جنرل عبدالرحیم موسوی نے کہا ہے امریکہ لڑائی شرو ع کرنے کاحوصلہ نہیں رکھتا۔ انہوں نے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے اندر درجنوں اہداف کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد دیا اورمزید کہا مجھے شک ہے امریکی صدر  ایسی لڑائی چھیڑنے کا حوصلہ نہیں رکھتے جس میں انہوں نے باون اہداف کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔دوسری طرف  ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے شہید قدس فورس کے سربراہ میجر جنرل قاسم سلیمانی کے نماز جنازہ کی تصاویر ٹوئٹر پر شیئر کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کو آڑے ہاتھوں لیا اورامریکی صدر سے سوال پوچھا ’ٹرمپ، کیا تم نے کبھی انسانیت کا اتنا بڑا سمندر دیکھا ہے؟ کیا تم اب بھی ہمارے خطے کے بارے میں اپنے جوکر قسم کے مشیروں کے مشورے مانو گے؟ کیا تم اب بھی یہ سمجھتے ہو تم عظیم ایرانی قوم کے حوصلوں اور اس کے لوگوں کو شکست دے سکتے ہو؟‘ایرانی وزیر خارجہ نے کہا اس جنازے کے ذریعے یہ ثابت ہوگیا ہے اب مغربی ایشیا میں امریکی موجودگی کے خاتمے کا آغاز ہوچکا ہے۔ادھر جنر ل قاسم سلیمانی کے جنازے کے منتظم کی جانب سے تمام ایرانی باشندوں سے اپیل کی گئی کہ وہ کم از کم ایک ڈالر عطیہ دیں، اس وقت ایران کی آبادی 8کروڑ ہے اور اس حساب سے ٹرمپ کا قتل کرنیوالے کو 80ملین ڈالرز کی رقم بطور انعام دی جائے گی رکن اسمبلی ابو الفضل ابو ترابی نے امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکی پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہمارے پاس طاقت ہے اور ہم مناسب وقت پر ضرور جواب دیں گے، اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو جوابی کارروائی میں امریکی سرزمین پر حملہ کیا جائیگا۔خیال رہے کہ ایران نے جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا اور اسرائیل کے 35مقامات اہداف پر ہیں جس کے جواب میں امریکی صدر نے کہا تھا ہمارے پاس دنیا کی سب سے بہترین فوج ہے، اگر ایران نے حملہ کیا تو ان کے بہت سے مقدس اور اہم ثقافتی مقامات سمیت 52 اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔دوسری جانب کویت حکام نے کہا ہے کہ اس کے فوجی اڈے کسی بھی پڑوسی ملک کیخلاف استعمال نہیں کیے گئے، اس حوالے سے تمام افواہیں بے بنیادہیں۔نشریاتی ادارے کے مطابق کویت کی مسلح افواج کے ترجمان کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ بعض ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونیوالی ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ عراق کے فوجی اڈوں کو پڑوسی ملکوں کیخلاف حملوں کیلئے استعمال کیاگیا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ تازہ پیشرفت میں متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے کیلئے خطے کے ممالک کیساتھ ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کریں۔مسلح افواج کی طرف سے شہریوں پر زور دیا گیا کہ وہ غیرمصدقہ اور جعلی خبروں پر اعتبار نہ کریں، جعلی خبروں اور افواہوں کی اشاعت سے گریز کریں۔قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا انہیں فوجی کارروائی کا حکم دینے کیلئے کانگرس کی منظوری کی کوئی ضرورت نہیں تھی اوراگر انہوں نے ایران کیخلاف حملے کا فیصلہ کیا تو اس حوالے سے ان کا ٹویٹ ہی پیشگی نوٹیفیکیشن  ہو گا۔سوموار کے روز ان خیالات کا اظہار امریکی صدر نے کانگریس کی سپیکر نینسی پلوسی کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ٹوئٹر پر ایک بیان میں کیا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائی میں امریکی شہری یا ہدف پر ممکنہ حملے کی خبروں کے حوالے سے کہااس کے جواب میں امریکا فوری اور غیرمتناسب انداز میں جوابی کارروائی کرے گا، لہٰذا اس کیلئے انہیں ایسے کسی قانونی نوٹس یا منظوری کی ضرورت نہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ثقافتی مقامات کو نشانہ بنانے کے اپنے بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا ایسا کرنا امریکی فوج کیلئے ایک جائز عمل ہو گا، اگر بغداد نے امریکی فوجیوں کو نکالا تو ان کیخلاف ایران سے بھی سخت پابندیاں عائد کر دیں گے۔ امریکہ کئی سال سے عراق میں فوجی سرمایہ کاری کر رہا ہے، معاوضہ لیے بغیر عراق نہیں چھوڑیں گے۔جبکہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے عراق اور شمال مشرقی شام میں امریکی فوج کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے، ایسی کوئی بھی کارروائی ایران کی بڑی غلطی ہوگی۔ سائبر حملوں سمیت ہر قسم کے جوابی اقدام کی تیاری کررہے ہیں۔ یقین ہے عراقی عوام انسداد دہشت گردی مہم کیلئے امریکہ کا ساتھ جاری رکھنا چاہتے ہیں، جب عراقی قیادت اور حکومت فیصلہ کرے گی تو دیکھتے ہیں کہ ہم کیا کرسکتے ہیں۔دریں اثناء وفاقی وزارت داخلہ نے مشرق وسطی کی صورتحال کے پیش نظر ملک میں موجود امریکی اور ایرانی باشندوں کی سکیورٹی سخت کرنے کی ہدایت جاری کر دی، صوبائی حکومتوں کو مؤثر حفاظتی اقدامات اٹھانے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے صوبائی حکومتوں، پولیس اور قانون نافذ کرنیوالے دیگر اداروں کو حفاظتی انتظامات ہر صورت ممکن بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔خصوصا ملک بھر میں قائم امریکی اور ایرانی قونصلیٹس، متعلقہ دفاتر اور سفارتکاروں کی رہائش گاہوں اور ملحقہ شاہراہوں کی سخت نگرانی کا حکم دیا گیا ہے۔

قاسم سلیمانی جنازہ

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک)ایرانی صدر حسن روحانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں پر کہا ہے کہ ایرانی قوم کو کبھی دھمکیاں نہ دی جا ئیں، جو 52 اہداف کا حوالہ دے رہے ہیں وہ 290 بھی یاد رکھیں۔خیال رہے کہ گذشتہ دنوں بغداد میں امریکی حملے میں ایرانی قدس فورس کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد ایران اور امریکا میں شدید کشیدگی پائی جاتی ہے اور ایران نے بدلہ لینے کی دھمکی بھی د ی ہے۔ایران کی پاسداران انقلاب کے کمانڈر جنرل غلام علی ابو حمزہ کا کہنا ہے آبنائے ہرمز میں امریکی جنگی جہاز اور اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب سمیت 35 تنصیبات ایران کے نشانے پر ہیں۔ ایرانی کمانڈر کی دھمکی پر ردعمل دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر بڑے، تیز ترین اور تباہ کن حملوں کی دھمکی دی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبر دار کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے امریکی اہلکاروں یا اثا ثوں پر حملہ کیا تو اس کی 52 تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ اہداف کو انتہائی پْھرتی اور شدت سے نشانہ بنائیں گے، ان میں سے بعض مقاما ت ایرانیوں اور ایرانی ثقافت کیلئے نہایت اہم اور حساس ترین ہیں۔اب ایرانی صدر نے ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایرانی قوم کو کبھی دھمکیاں نہ دی جائیں، جو 52 اہداف کا حوالہ دے رہے ہیں وہ 290بھی یاد رکھیں۔ ایرانی صدر کی جانب سے آئی آر 655 کا ہیش ٹیگ بھی دیا گیا ہے جو کہ اس ایرانی مسافر طیارے کا فلائٹ نمبر تھا جسے 3جولائی 1988کو امریکی جنگی بحری جہاز نے میزائل مار کر تباہ کردیا تھا۔مسافر طیارے میں ایران کے 290 شہری سوار تھے جن میں 66 بچے بھی تھے۔واضح رہے 1996 میں انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں امریکہ نے واقعے پر انسانی المیہ قرار دیتے ہوئے لواحقین سے گہرے دکھ کا اظہار کیاتھا تاہم امریکہ کی جانب سے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی گئی جبکہ لواحقین کو معاوضے کی رقم کا معاملہ بھی حل نہیں ہوسکا ہے۔

ایرانی صدر

مزید : صفحہ اول