ایکشن پلان فراہم کرنے تک آگے نہیں بڑھ سکتے:سینیٹ قائمہ کمیٹی خزانہ

ایکشن پلان فراہم کرنے تک آگے نہیں بڑھ سکتے:سینیٹ قائمہ کمیٹی خزانہ

  



اسلام آباد(آئی این پی)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ اور اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ میں ترامیم کے حوالے سے ایف اے ٹی ایف کے مطالبات کی تفصیلات طلب کرلیں،جبکہ دونوں ترمیمی بلوں پر غور (آج)منگل تک کیلئے موخر کر دیا، کمیٹی نے ایشیا ء پیسفک گروپ کے ارکان کی تفصیلات بھی طلب کر لیں، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کا ایکشن پلان کیا ہے؟جب تک ہمیں ایکشن پلان نہیں فراہم کیا جائے گا،ہم اس معاملے پر آگے نہیں بڑھ سکتے،ہمیں پتہ تو چلے ہم کیا کر رہے ہیں،اخبار میں پڑھ رہے ہیں کہ ہم گرے ایریا میں ہیں،ایف اے ٹی ایف کے مطالبات کیا ہیں؟ وہ کیوں ہمارے پیچھے پڑے ہوئے ہیں تفصیلات سے آگاہ کیا جائے۔پیر کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین سینیٹر فاروق ایچ نائیک کی صدارت میں ہوا، جس میں فارن ایکسچینج ریگولیشن (ترمیمی)بل اور اینٹی منی لانڈرنگ(ترمیمی)بل کا جائزہ لیا جانا تھا تاہم اجلاس میں سیکرٹری خزانہ اور مشیر خزانہ شریک نہ ہو سکے جس پر کمیٹی نے برہمی کا اظہار کیا،ایڈیشنل سیکرٹری نے کمیٹی کو بتایا کہ ای سی سی کا اجلاس ہو رہا ہے جس وجہ سے سیکرٹری شرکت نہیں کر سکے،چیئرمین کمیٹی نے استفسار کیا کہ کیا ایف اے ٹی ایف کی ہدایت پر قوانین میں ترامیم لائی گئی ہیں؟ ایف اے ٹی ایف کا ایکشن پلان کیا ہے جس کے تحت آپ یہ ترامیم لائے ہیں، جب تک ہمیں ایکشن پلان نہیں فراہم کیا جائے گا،ہم اس معاملے پر آگے نہیں بڑھ سکتے، وزارت خزانہ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے 27 ایکشن پلان دیئے گئے،19اکتوبر2019 تک صرف پانچ ایکشن پلان نامکمل تھے، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ایشیا پیسفک گروپ کے ارکان کی تفصیلات کمیٹی کو فراہم کی جائیں، ایف اے ٹی ایف کے مطالبات کیا ہیں وہ کیوں ہمارے پیچھے پڑے ہوئے ہیں، دس ہزار ڈالرکی حد مقرر کرنے سے متعلق مجوزہ شق کے حوالے سے رکن کمیٹی سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ افغانستان سے تجارت کیش کے ذریعے ہوتی ہے وہاں کے بینکنگ ادارے اچھے نہیں ہیں،اس ترمیم سے تجارت متاثر ہو گی،کمیٹی نے وزارت خزانہ سے ایف اے ٹی ایف کے مطالبات کی تفصیلات طلب کر لیں۔

قائمہ کمیٹی خزانہ

مزید : صفحہ آخر