قومی اسمبلی،گستاخانہ مواد کی روک تھام کی قرارداد،فوجداری معاملات میں قانونی معاونت کا بل منظور،اپوزیشن کا واک آؤٹ

قومی اسمبلی،گستاخانہ مواد کی روک تھام کی قرارداد،فوجداری معاملات میں ...

  



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) قومی اسمبلی میں گستاخانہ مواد کی روک تھام کی قرارداد متفقہ منظور کرلی گئی۔ پیر کو قرارداد وفاقی وزیر ہاؤسنگ طارق بشیر چیمہ نے پیش کی۔ قرار داد میں کہاگیاکہ یہ ایوان اعادہ کرتا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آخری نبی ہیں۔ قرار داد میں کہاگیاکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، اہلبیت، صحابہ کرام پر جان قربان کرنے کا اعادہ کرتا ہے، قرار داد میں کہاگیا کہ توہین آمیز خاکوں، قابل اعتراض کتب پر فوری پابندی کا مطالبہ کرتا ہے۔ قرار داد میں کہاگیاکہ گستاخانہ مواد کے خلاف ایک کمیٹی تشکیل دی جائے اور بحق سرکار ایسی کتب کو ضبط کیا جائے۔ بعد ازاں گستاخانہ مواد کے خلاف متفقہ قرارداد ایوان میں منظور کرلی گئی سپیکر قومی اسمبلی نے گستاخانہ مواد بارے قرارداد کی روشنی میں متنازعہ کتب کا معاملہ قائمہ کمیٹی مذہبی امور کو بھجوا دیا۔قو می اسمبلی نے اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود وزارت داخلہ کا  فوجداری معاملات میں باہمی قانونی معاونت کا قانون وضع کرنے کا بل ] باہمی قانونی معاونت (فوجداری معاملات) بل،2019 کی کثرت رائے سے منظوری دے دی، پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن عبد القادر پٹیل کی ترامیم مسترد کر دی گئیں، اپوزیشن ارکان سید نوید قمر، خواجہ آصف اور دیگر نے کہا ہے کہ  بل کے تحت سیکرٹری داخلہ کوو سیع اختیارات دئیے جارہے ہیں،شہریوں کے اکاؤ نٹس اور ذاتی معلومات دوسرے ممالک کو فراہم کی جائیں گی،ایسا کرنا مناسب نہیں، ایف اے ٹی ایف کے لئے یہ کیا جا رہاہے، بل کے تحت ہم اپنی سالمیت پر سمجھوتہ کر رہے ہیں،کوئی بھی ملک ہمارے شہری کی معلومات مانگے گا تو ہم فراہم کریں گے، عالمی ادار ے بنائے جارہے ہیں یہ نیا نوآبادیاتی نظام بنانے کے لئے کیا جا رہا ہے جبکہ وفاقی  وزیر منصوبہ بندی اسد عمر اور پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہاکہ بل ایف اے ٹی ایف کا تقاضا ہے،اس کی منظوری ضروری ہے، تاکہ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالا جا سکے، یہ بل پاکستان کی بنیادی ضرورت ہے، بل کے تحت منی لانڈرنگ اور دیگر جرائم میں ملوث لوگوں کی معلومات دیگر ممالک کے ساتھ شئیر کی جا سکے گی،دنیا کے ممالک اپنے قوانین بدل رہے ہیں، احتساب کی جانب دنیا جارہی ہے، کیا ہم اپنے جرائم میں ملوث لوگوں کو چھپائیں گے،بل سے خود مختاری اور سلامتی کمپرومائز نہیں ہو گی بلکہ ملک کی سلامتی اور خود مختاری منی لانڈرنگ سے کمپرومائز ہوگی۔ادھر اپوزیشن نے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے رویہ پر تنقید کرتے ہوئے پیر کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس سے واک آؤٹ کردیا۔پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما و رکن قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف وزیرخارجہ کے پالیسی بیان سے پہلے انہیں بولنے کا وقت نہ ملنے اور پھر انکی تقریر سنے بغیر وزیرخارجہ کے ایوان سے چلے جانے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی طرف سے پالیسی بیان مختصر اور جامع ہوتا ہے۔لیکن وزیر خارجہ کی ڈھائی گھنٹے کی تقریر جسکی ہمیں کچھ سمجھ نہ آئی بے مقصد تھی۔علاوہ ازیں وفاقی وزیر سائنس وٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ ایوان میں بیٹھنے والوں کی بھی عزت ہے، گزارش ہے ایک سپیشل کمیٹی بنائی جائے، حکومت اور اپوزیشن کو مل کر اس مسئلے کا تدراک کرنا چاہیے۔قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ فوج اور عدلیہ والے تو بندوبست کر لیتے ہیں، کیا ہمیں ہر کوئی آئے اور چھتر مار جائے؟ ایف آئی اے کا سائبر ونگ بھی نوٹس نہیں لیتا۔فواد چودھری نے کہا کہ ریٹنگ اور لائیکس کے لیے پگڑی اچھالی جاتی ہے۔ جب میں نے اس اینکر سے پوچھا ویڈیو کہاں ہے؟ تو اس نے کہا ویڈیو نہیں ہے۔لیگی رہنما خواجہ ا?صف کی بات کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایک اینکر نے یوٹیوب چینل پر میرے خلاف پروگرام کیا لیکن خواجہ آصف نے میری بات سنے بغیر سیاسی اینگل بیان کر دیا۔انہوں نے خواجہ ا?صف کو سخت تنقید کا نشانہ بنتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں نے بی بی شہید کی تصویریں بنانے کیلئے عالمی فرموں کو ہائر کیا، وہ ہمیں نہ بتائیں۔ میں نے اپنے پروگرام میں کبھی کسی کی پگڑی نہیں اچھالی تھی۔ہ کہتے تھے کہ‘’میاں صاحب کوئی گل نیئں پناما چھ دن میں ختم ہو جائے گا”اگر وہ آپ کی پگڑی ہے تو اچھالی جائے گی۔ بعد ازاں وزیرمملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل نے خطاب میں کہا کہ عورتیں الیکشن لڑ کر یہاں اپنے مسائل کے حل کیلئے آتی ہیں لیکن میڈیا والے پوچھتے ہیں کہ آپ نے کس رنگ کے کپڑے، کس برانڈ کے جوتے پہنے ہیں، پوچھتے ہیں کہاں سے پر س خرید کر لائی ہیں نہ جواب دو تو کہتے ہیں بدتمیزی کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ میری 4 سال کی بیٹی ہے، بہن آسٹریلیا میں ہے وہ سوال کر رہی ہے کون سی ویڈیو کس کی ویڈیو؟ اگر کسی پر الزام لگانے کیلئے آپ کے پاس کوئی مستند ویڈیو ہے تو بتائیں، اگر ویڈیو نہیں ہے تو ایف آئی اے سائبر کرائم کے تحت انہیں گرفتار کیا جائے۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے کہا ہے کہ میں فواد چودھری کے ساتھ ہوں۔ ہم نے خود اپنے گریبان میڈیا کے ہاتھوں میں دیئے، اس میں ہمارا قصور ہے۔ اینکر پرسن کسی اور ادارے کے خلاف بات کرتے ہیں تو پیمرا فوری حرکت میں آ جاتا ہے،انہوں نے مزیدکہاکہ ہم اپنی عزت کی نیلامی پر خود تلے ہوئے ہیں۔ ہم اداروں کو ایک دوسرے کیخلاف استعمال کرتے ہیں۔ یہ روایات کئی سال سے چل رہی ہیں۔ یہ لوگ اپنا بویا خود کاٹ رہے ہیں۔ اسی وجہ سے ہماری پگڑی اچھالی جاتی ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ یہ گلہ ہمیں میڈیا اور کسی اور ادارے سے نہیں بلکہ اپنے آپ سے کرنا چاہیے۔ ہم ایوان میں جو کچھ کرتے ہیں تو خود میڈیا کو دعوت دیتے ہیں۔ ہمیں میڈیا نہیں، اپنے رویے درست بنانے کیلئے سپیشل کمیٹی بنائی چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ میرے بھائی فواد چودھری خود اینکر رہے ہیں، ان کے پروگراموں کا ریکارڈ نکالیں۔ ایک دوسرے کی عزت کی روایات ڈالیں تاکہ ہمیں ہاؤس کی سپیشل کمیٹی بنانے کی ضرورت نہ پڑے۔انہوں نے کہا کہ ایک دوسرے پر الزام لگاتے وقت ہم بھول جاتے ہیں۔ جب تک ایوان میں ایک دوسرے کی عزت نہیں ہوگ، تب تک لوگ ہماری پگڑیاں اچھالیں گے اور گالیاں بھی دیں گے۔دوسری طرف سپیکر اسد قیصر نے قومی اسمبلی کے رواں اجلاس کیلئے اسیر ارکان شاہد خاقان عباسی، سیّد خورشید احمد شاہ، احسن اقبال اور خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈرز جاری کر دیئے ہیں۔قومی اسمبلی کو حکومت نے آ گاہ کیا ہے کہ پاکستان میں ہر سال تمباکو نوشی سے تقریباً16لاکھ افراد کی موت واقع ہوتی ہے،گزشتہ سال ملک بھر میں ڈینگی بخار کے 54052کیسز رپورٹ ہوئے، ڈینگی بخار سے 95 مریضوں کی اموات واقع ہوئیں،پاکستان میں ایچ آئی وی (ایڈز) کے رجسٹر مریضوں کی تعداد1لاکھ65ہزارہے، ٹی بی سے متاثرہ ممالک میں پاکستان کا 5واں نمبر ہے،رواں سال کپاس کی پیداوار میں نمایاں کمی آئی ہے،نئے پاکستان ہاؤسنگ منصوبے میں دیہات میں بھی گھر تعمیر کئے جائیں گئے،نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبہ  شروع ہونے کے قریب ہے،فی الحال گھروں کی قیمتیں بارے خبریں صرف قیاس آرائیاں ہیں، پورٹ قاسم میں انڈسٹری کیلئے فی ایکڑ سرکاری ریٹ ڈیڑھ کروڑ تھا جبکہ مارکیٹ ریٹ7سے10کروڑ فی ایکڑ تھا،موجودہ حکومت نے پورٹ قاسم میں کسی کو ایک انچ زمین بھی آلاٹ نہیں کی، ٹرینوں کی صفائی کا کام آؤٹ سورس کر رہے ہیں،آئندہ چند دنوں میں 11ٹرینوں کی صفائی کا کام آؤٹ سورس کر دیں گے۔پیر کو ان خیالات کا اظہار وفاقی وزراء شیخ رشید احمد،طارق بشیر چیمہ، علی حیدر زیدی اور پارلیمانی سیکرٹری صحت نوشین حامد نے قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران ارکان کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کیا۔

قومی اسمبلی 

مزید : صفحہ آخر


loading...