پی پی کی مشکلات کم نہ ہوئیں،قیادت پر کرپشن الزامات سے مزید بڑھ گئے

  پی پی کی مشکلات کم نہ ہوئیں،قیادت پر کرپشن الزامات سے مزید بڑھ گئے

  



لاہور (شہزاد ملک سے)52سالہ پاکستان پیپلزپارٹی جس کی بنیاد پارٹی کے بانی چیئرمین شہید ذوالفقار علی بھٹو نے لاہور میں رکھی تھی آج یہی جماعت اگر یہ کہا جائے کہ لاہور شہر میں ہی نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے تو بے جانہ ہو گا اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ بلاول بھٹو زرداری نے جس دن سے پارٹی کی قیادت اپنے ہاتھوں میں لی ہے تو وہ تب سے ہی دن رات کی محنت کرنے میں مصروف ہیں کہ پارٹی کو ان کے نانا ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی والدہ بینظیر بھٹو کے دور جیسی مقبولیت دوبارہ حا صل ہو جائے مگر ان کی یہ محنت ابھی تک رنگ لانے میں ناکام نظر آ تی ہے، یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ گزرنے والے سال 2019کے آخری ماہ سولہ دسمبر کو بلاول بھٹو نے پارٹی کے ماضی کے دیرینہ سیاسی مخالف مسلم لیگ (ن) کے گڑھ رائیونڈ میں ایک ورکر کنونشن سے خطاب کیا ورکر کنونشن کے میزبان رانا جمیل منج جو دوسری سیاسی جماعت سے عام الیکشن کے وقت پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے تھے نے کنونشن میں خواتین کو لا نے کیلئے آس پاس کے گاؤں کی مساجد میں یہ اعلانات کروائے کہ خواتین کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے کارڈز دئیے جائیں گے یہی نہیں ان کیساتھ پیپلز پارٹی لاہور کی تنظیم نے بھی اس ورکر کنونشن کو کامیاب بنانے کیلئے اپنا زور لگایا مگر کامیاب نہ ہو سکے اور چیئرمین کے اپنے سیاسی مخالفین کے اس گڑھ میں خطاب کیلئے وہ مطلوبہ تعداد نہیں تھی جو ہونی چا ہیے تھی اس طرح سے اگر یہ کہا جائے کہ چیئرمین کا لاہور میں پہلا کوئی ورکر کنونشن ہوا تو وہ فلاپ تھا تو یہ بھی بے جا نہ ہو گا، اس تنقید کا مقصد پیپلز پارٹی کے کسی بھی عہدیدار یا کسی ورکر کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ ان کی اصلاح کرنا مقصود ہے کہ وہ پیپلز پارٹی جس کی بنیاد ہی لاہور میں رکھی گئی تھی اپنی گولڈن جوبلی کی تقریبات منانے کے بعد بجائے ترقی کرنے کے الٹے سفر کی طرف گامزن ہے۔ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد زوال کا شکار رہنے والی پیپلز پارٹی کیلئے سال 2019 میں بھی مشکلات کم نہ ہو سکیں، مرکزی قیادت پر کرپشن کے الزامات نے مشکلات مزید بڑھا دی ہیں،بلاول بھٹو کو بھی نیب کا بلاوا آ گیا، مقبولیت کے کا گراف اتنا گر گیاکہ پیپلزپارٹی پہلے سے تیسر ے نمبر پر چلی گئی اور سندھ تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی جو سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 30نومبر 1967میں بنائی تھی کے موجودہ چیئر مین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری اب پوری طرح متحرک اور پہلی بار رکن قومی اسمبلی بنے ہیں، بلاول بھٹو کو نیب سے بلاوا آگیا مگر وہ 24 دسمبر کو نیب کے بلانے کے با و جود نیب آفس نہ گئے، ذرائع کا کہنا ہے بلاول بھٹو اپنی گرفتاری کے خو ف سے نہیں بلکہ 27دسمبر کو راولپنڈی میں ہونیوالی اپنی والدہ بینظیر بھٹو کی برسی میں شرکت کرنے کیلئے نہیں گئے، اب ان کی نیب میں پیشی کی تاریخ 12جنوری 2020ہے،پیپلز پارٹی جو کبھی ملک کی سب سے بڑی جماعت تھی کی خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پہلے ہی جڑیں نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہیں، پیپلزپارٹی کو سندھ کے سوا ملک بھر میں عام نتخابات میں عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا اور نتیجے میں سندھ اسمبلی کے سوا دیگر اسمبلیوں میں پارٹی کی پوزیشن انتہائی کمزور ہے، پارٹی اس حد تک کمزور ہوگئی ہے کہ قومی اسمبلی میں صرف 53،سندھ اسمبلی میں 99، کے پی کے میں 5،بلوچستان میں صفر اور پنجاب اسمبلی میں اسے گنتی کی 7نشستیں ملیں۔ پیپلز پارٹی کیلئے گزشتہ سال نہ صرف مشکل ترین رہابلکہ مشکلات کم ہونے کی بجائے مزید بڑھ گئیں، بہت سی نامور شخصیات پیپلزپارٹی چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہو گئیں۔ سندھ میں حکومت ہونے کے باوجود پیپلز پارٹی میں اندرونی مسا ئل میں اضافہ ہوا،سندھ حکومت کی کاردگردگی بھی مایوس کن ہے، مرکزی قیادت پر کرپشن کے الزامات کم نہیں ہو رہے، پیپلز پارٹی میں اختلافات، سندھ میں فارورڈ بلاک کی شنید،دھڑے بندیا ں اور گروپ بندیاں بھی ختم نہ ہو سکیں جسے آصف زرداری کے بعد اب بلاول بھی ختم نہیں کر سکے۔ بینظیر بھٹو کی دبنگ شخصیت کے سامنے تمام پارٹی رہنما ان سے ڈ ر ے رہتے تھے ان کے بعد آصف زرداری اور بلاول بھٹو کو وہ مقام حاصل نہ ہو سکا۔پیپلزپارٹی کی سینیٹ سے بھی اکثریت ختم ہو گئی ہے تاہم ایم کیو ایم پاکستان کمزور ہونے کے بعد پیپلزپارٹی کی کراچی پر گرفت مضبوط ہو رہی ہے۔ مسلم لیگ(ن) کی قیادت زیر عتاب آنے کے بعد پنجاب میں جو گیپ پیدا ہو گیا ہے پیپلزپارٹی اس کو کیش کرنے کی بھر پور کوشش کر رہی ہے۔ پیپلزپارٹی نے پہلی بار بینظیر بھٹو کی برسی کی تقریب سندھ کی بجائے پنجاب (راولپنڈی) میں منعقد کی جو کامیابی رہی،علاوہ ازیں لاہور رائیونڈ اور سر گودھا میں بھی و رکرز کنونشن کئے۔ بلاول بھٹو نے پارٹی کی تنظیم نو بھی کی اور خاص طور پنجاب میں پارٹی میں اہم تبدیلیاں بھی کی ہیں اور اب بھی ان کی جانب سے پارٹی میں بہت سی تبدیلیاں کی جانے کی خبریں زیر گردش ہیں۔

رپورٹر ڈائری

مزید : صفحہ اول