مشرق وسطی تنازع میں پاکستان کسی کا حصہ دار نہیں بنے گا:شاہ محمود

مشرق وسطی تنازع میں پاکستان کسی کا حصہ دار نہیں بنے گا:شاہ محمود

  



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ پاکستان کسی دوسرے ملک کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور مشرق وسطی میں جاری تنازع میں کسی کا حصہ دارنہیں بنے گا۔سینیٹ اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے مابین جاری کشیدگی کے باعث جنوبی ایشیاء سمیت مشرقی وسطی کے ممالک متاثر ہوں گے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ موجودہ حالات نے نئے تناؤ کو جنم دیا جو اسامہ بن لادن، ابوبکر البغدا دی کے واقعات سے زیادہ سنگین ہوسکتا ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکی کہتے ہیں کہ یہ ان حالات وواقعات کے پیش نظر یہ اقدام اٹھایا گیا جس کا مقصد جنگ کرنا نہیں بلکہ جنگ کو روکناتھا، دوسرا یہ کہ اب ہم مذاکرات اور کشیدگی کو کم کرنے کیلیے تیار ہیں، اس کے علاوہ امریکہ نے یہ بھی دھمکی دی ہے کہ اگر ایران کی جانب سے کسی قسم کا ردعمل سامنے آیا تو حالات مزید سنگین ہوسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تمام معاملے کو دیکھتے ہوئے حکومت پاکستان سمجھتی ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی کا قتل بہت سنجیدہ معاملہ ہے، اس کا اثر ہے جسے ہم نے بحیثیت قوم سمجھنا ہے کیونکہ اس معاملے کا ایک اثر ہوگا اور وہ استحکام کے لیے خطرہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں استحکام کو خطرہ دکھائی دے رہا جس پر حکومت پاکستان کو شدید تشویش ہے۔اس واقعے سے خطہ مزید عدم استحکام کا شکار ہوگا اور عراق اور شام کے عدم استحکام کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس کے منفی اثرات افغانستان پر بھی ہوسکتے ہیں اور اس سے وہاں امن عمل متاثر ہوسکتا ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس معاملے کی آڑ میں یمن کے حوثی سعودی عرب پر مزید حملے کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لبنان کی حزب اللہ اسرائیل پر حملہ کرکے اسے راکٹ سے نشانہ بناسکتے ہیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ اس سے خطے میں شدید قتل و غارت گری بڑھے گی۔انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش ہوسکتی ہے جس کے نتیجے میں تیل کی ترسیل متاثر ہوگی جس کے اثرات عالمی معیشت پر مرتب ہوں گے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایران امریکا سے کیے گئے جوہری معاہدے سے دستبردار ہوسکتا ہے تہران یورینیم افزودگی پر عائد پابندیوں سے عملی طور پر پیچھے ہٹ گیا ہے۔وزیر خارجہ نے سینیٹ کے اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کسی یکطرفہ عمل کی تائید نہیں کرتا اور طاقت کا استعمال ٹھیک نہیں اس سے مسائل بڑھ سکتے ہیں ختم نہیں ہوسکتے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا موقف ہے کہ یہ خطہ کسی بھیانک جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا، ہم اس خطے کا حصہ ہیں جو آگ لگے گی ہم اس کی گرمی سے نہیں بچ پائیں گے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان واضح طور پر موقف اپناچکا ہے اور میں نے جن وزرائے خارجہ سے شیئر بھی کیا ہے کہ پاکستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی اور نہ ہی پاکستان خطے کے کسی تنازع میں حصے دار بنے گا۔مسلم لیگ ن کے رہنما سینیٹر راجا ظفر الحق نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی کے قتل پر پاکستان کو زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہئے۔راجا ظفر الحق نے کہا کہ خطے کے اندر ایسی ڈویلپمنٹ ہو رہی تھی جس سے معلوم ہو رہا تھا کہ کچھ ہونے والا ہے۔انہوں نے عالمی اداروں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا امریکا اور ایران کے معاملے پر اقوام متحدہ کمزور ہو چکی ہے جبکہ کشمیر مسئلے پر بھی کوئی موثر کردار ادا نہیں کیا۔ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹرمشاہداللہ خان نے کہا ہے کہ جو ڈیسک بجا کر کہتے تھے کہ خارجہ پالیسی وزارت خارجہ میں بنے گی، وہ دیکھ لیں کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو ساری دنیا کے وزرائے اعظم یا وزرائے خارجہ کو فون کررہا ہے لیکن  پاکستان میں نہیں کر رہا۔ مشاہد اللہ خان نے کہا کہ قاسم سلیمانی ایران کے اہم افراد میں سے تھے، ان کی ہلاکت کے باعث اگر جنگ ہوئی تو خطے اور امریکا پر خطرناک اثرات مرتب ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ لثی کرانے کی بات کرنے والے اب کرائیں ثالثی اور جنگ کو روکیں، امریکا ایران کی ثالثی کرا دیتے تو آج قاسم سلیمانی زندہ ہوتے۔سینیٹ اجلاس کے دوران کاروباری آسانی اور تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے ریڈٹیب کلچر کے خاتمے کی قرارداد منظور کرلی گئی،حکومت کی جانب سے سینیٹر بہرہ مند تنگی کی پیش کردہ قرارداد کی مکمل حمایت کا بھی اعلان کیا گیا۔علاوہ ازیں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے 7 بل متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے حوالے کر دیئے۔ سینیٹر میاں محمد عتیق شیخ کی جانب سے پیش کئے گئے پاکستان انجینئرنگ کونسل (ترمیمی) بل 2019ء اور اسلام آباد ممانعت گداگری بل 2019ء  شامل تھے۔ سینیٹر پروفیسر ڈاکٹر مہر تاج روغانی کی جانب سے یونانی، آروویدک ہومیو پیتھک پریکٹیشنرز (ترمیمی) بل 2019ء پیش کیا گیا۔ سینیٹر فاروق حامد نائیک کی جانب سے گارڈینز اینڈ وارڈز (ترمیمی) بل 2019ء اور گرفتار، زیر حراست یا زیر حراست دوران تفتیش افراد کے حقوق بل 2019ء پیش کئے۔ سینیٹر ثمینہ سعید کی جانب سے دماغی کمزوری خصوصی اقدامات بل 2019ء پیش کیا گیا۔ سینیٹر بہرہ مند خان تنگی کی جانب سے نیشنل ہائی ویز سیفٹی (ترمیمی) بل 2019ء پیش کیا گیا۔ چیئرمین سینیٹ نے 8 بل ایوان کی رائے لینے کے بعد متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کر دیئے۔ اجلاس کے دور ان سینیٹ میں نیا پاکستان ہاؤسنگ اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی بل 2019ء پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ پیش کر دی گئی۔ قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کے چیئرمین سینیٹر محمد طلحہ محمود کی جانب سے سینیٹر ڈاکٹر اشوک کمار نے قائمہ کمیٹی کی نیا پاکستان ہاؤسنگ اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی بل 2019ء پر  رپورٹ ایوان میں پیش کی۔ اجلاس کے دور ان چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے دو بل محرک کی عدم موجودگی کے باعث موخر کر دیئے۔ سینیٹر سراج الحق کے دو بل ایجنڈے میں شامل تھے مگر محرک کی عدم موجودگی کے باعث بل موخر کر دیئے جن میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کے آرٹیکل 45 میں مزید ترمیم کا بل دستور (ترمیمی) بل 2019ء اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کے آرٹیکل 213 میں مزید ترمیم کا بل دستور (ترمیمی) بل 2019ء شامل تھے۔ اجلاس کے دور ان چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے پاکستان ماحولیاتی تبدیلی ایکٹ 2017ء میں مزید ترمیم کا بل پاکستان ماحولیاتی تبدیلی (ترمیمی) بل 2019ء کو موخر کر دیا۔ سینیٹر میاں محمد عتیق شیخ نے پاکستان ماحولیاتی تبدیلی ایکٹ 2017ء میں مزید ترمیم کا بل پاکستان ماحولیاتی تبدیلی (ترمیمی) بل 2019ء بل پیش کیا۔ وزیر مملکت برائے ماحولیاتی تبدیلی زرتاج گل نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس میں پیش کی گئی تجاویز سے بہت آگے بڑھ چکے ہیں جس پر چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے بل موخر کر دیا۔ اجلاس کے دور ان چیئرمین سینیٹ نے سینیٹر چوہدری تنویر کے گھر کی دیواریں گرانے کا معاملہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو بھجوا دیا۔ سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ سینیٹر چوہدری تنویر بیرون ملک علاج کے لئے گئے ہیں۔ چیئرمین نے یہ معاملہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو بھجوا دیا اور اس معاملے کی جلد از جلد رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ علاوہ ازیں سینیٹ اجلاس میں ڈپٹی چیئر مین سلیم مانڈوی والا کے بیٹے کے ایصال ثوا ب کیلئے فاتحہ کی گئی۔مولانا عطا الرحمان نے دعائے مغفرت کرائی۔

شاہ محمود/سینیٹ

مزید : صفحہ اول