امریکی حملے کے بعد مشرق وسطیٰ کی صورتحال کشیدہ ، پاکستان نے ٹاسک فورس تشکیل دیدی

امریکی حملے کے بعد مشرق وسطیٰ کی صورتحال کشیدہ ، پاکستان نے ٹاسک فورس تشکیل ...
امریکی حملے کے بعد مشرق وسطیٰ کی صورتحال کشیدہ ، پاکستان نے ٹاسک فورس تشکیل دیدی

  



اسلام آباد(ویب ڈیسک)  مشرق وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال کے پیش نظر پاکستان نے وزارت خارجہ کے چار ڈی جیز اور دو ایڈیشنل سیکریٹریز پر مشتمل ٹاسک فورس تشکیل دے دی ہے۔

سینیٹ میں پالیسی بیان دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو مسلسل مانیٹر کررہے ہیں۔ دفترخارجہ نے معاملے پر ٹاسک فورس تشکیل دے دی ہے۔روزانہ کی بنیادپر صورتحال کو مانیٹر کریں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ علاقائی چیلنج ہے لیکن پاکستان اس کا ذمہ دارنہیں ہے۔ پاکستان کے تمام مسلم ممالک اور خطے کے تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ خطے کے ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھیں گے۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ پاکستان کسی کے خلاف حصہ نہیں بنے گا۔ پاکستان آگ بھڑکانے کیلئے نہیں بلکہ غلط فہمیاں دور کرنے کیلئے کردار کرسکتا ہے۔ عالمی برادری خطے کے امن کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔اپنے پالیسی بیان میں انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات نے نئے تناوَ اور کشیدگی کو جنم دیا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال انتہائی نازک اور تشویشناک ہے۔ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کوئی بھی کروٹ لے سکتی ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر برملا اظہار کرچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای ایرانی قوم سے انتقام کا وعدہ کر چکے ہیں۔ ایرانی صدر حسن روحانی اس واقعے کو عالمی دہشت گردی قرار دے چکے ہیں۔ اس واقعے کے بعد خطے کی کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مہدی فورس کے سربراہ مقتدیٰ الصدر نے فورس کو ہائی الرٹ کردیا ہے۔ آیت اللہ سیستانی نے کہا ہے کہ عراق میں غیرملکی فوج کی موجودگی ناقابل برداشت ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بغداد میں امریکی سفارتخانے کے سامنے احتجاج کیا گیا۔ خوش قسمتی سےاحتجاج میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔ امریکہ نے ایران اور جنرل قاسم سلیمانی کو احتجاج کا ذمہ دار ٹھہرایا۔وزیرخارجہ نے کہا کہ 3 جنوری کو ڈرون حملے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو نشانہ بنایا گیا۔ ڈرون حملے میں ایرانی جنرل سلیمانی اورابو مہدی المہندس سمیت 9 افراد مارے گئے۔

انہوں نے کہا کہ واقعہ اسامہ بن لادن اور ابوبکر الغدادی کے واقعات سے زیادہ سنگین ہوسکتا ہے۔ خطے پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں نے اس حملے کو تشویشناک قراردیا ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حملے کے بعد ایران میں احتجاج کیفیت بن گئی۔ ایرانی عوام میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ایرانی حکومت نے قومی سلامتی کا اجلاس بلایا ہے۔

عراق میں بھی ہنگامی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ اتوار کوعراقی پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس بلایا گیا۔ عراقی پارلیمنٹ میں فیصلہ ہواغیرملکی افواج کو عراقی سرزمین چھوڑدینی چاہیےوزیرخارجہ نے کہا کہ واقعے پر پاکستان نے 3 جنوری کو اپنا موقف دیا ہے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ دونوں فریقین کو صبر وتحمل سے کام لینا چاہیے۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان کے ایران کے ساتھ تاریخی تعلقات ہیں۔ ایسے ممالک بھی ہیں جن میں 40 لاکھ سے زائد پاکستانی مقیم ہیں۔ سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کا تحفظ بھی ہماری ذمہ داری ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کل ایرانی وزیرخارجہ سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ایرانی وزیرخارجہ کو پاکستان کا موقف پیش کیا۔ ایرانی ہم منصب سے کہا صورتحال کی سنگینی سے واقف ہوں۔ ایرانی ہم منصب سے بھی درخواست کی ہے کہ کوشش کریں کشیدگی میں اضافہ نہ ہو۔ان کا کہنا تھا کہ کوشش ہے سفارتی ذرائع سے مسائل کو حل کریں۔ خطہ کسی نئی جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا نئی جنگ کےاثرات خطے کیلئے بھیانک ہوں گے۔ متحدہ عرب امارات کے وزیرخارجہ سے بھی بات چیت کی۔ یو اے ای کے وزیرخارجہ نےلیبیا کی صورتحال کا ذکر کیا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کل ترکی اور سعودی وزرائےخارجہ سے بھی بات چیت ہوئی۔ خطے کے اہم ممالک سے رابطوں کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔ یورپی یونین کے سامنے بھی اپنا موقف پیش کریں گے۔ صورتحال پر چین کے ساتھ بھی گفتگو چل رہی ہے۔اس واقعے کے بعد اوآئی سی کو یکجا کرنے کی کاوش بھی متاثر ہوئی ہے۔وزیرخارجہ نے کہا کہ امریکی وزارت دفاع نے کہا کہ حملے کا اعتراف کیا۔ امریکی وزارت دفاع نے کہا حملہ صدرٹرمپ کی ہدایت پر کیا۔ امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ یہ اقدام حفظ ماتقدم کے طورپر کیا گیا۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ خطے کی صورتحال پہلے بھی زیادہ بہتر نہیں تھی۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی صورتحال راتوں رات نہیں بنی۔سال 2018 میں ایران نے ایٹمی منصوبے سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔ 2018 میں ایران پر پابندیاں لگنے سے کشیدگی بڑھ چکی تھی۔ اس واقعے نے جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کیا۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ نئی جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ امریکی حکام کہتے ہیں حملہ جنگ بڑھانےکیلئے نہیں کیا۔ امریکی حکام کہتے ہیں کہ کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کیلئے تیار ہیں۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سےردعمل ہوا تو مزید سخت کارروائی کریں گے

انہوں نے کہا کہ ہمیں اس مسئلے پر بحیثیت قوم ذمہ دارانہ رویہ رکھناچاہیے۔ جنرل سلیمانی کا قتل خطے کیلئے سنجیدہ واقعہ ہے۔ جنرل سلیمانی کے قتل کے اثرات کو سمجھنا ہوگا۔ یہ حملہ خطے کے امن و امان کیلئے خطرے کا باعث بنا ہے۔ پاکستان کو اس واقعے پر شدید تشویش ہے۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عراق اور شام میں عدم استحکام کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ حملے کے بعد افغان امن عمل بھی متاثر ہوسکتا ہے۔ حوثی باغی سعودی عرب پر مزید حملے کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد خطے میں ہائی پروفائل قتل ہوسکتے ہیں۔ کشیدگی کے باعث تیل کی ترسیلات بھی متاثر ہوں گی۔ تیل کی ترسیل متاثرہونےسے معاشی بحران پیدا ہوگا۔

مزید : اہم خبریں /قومی


loading...